امریکہ میں بیضہ عطیہ کرنے کی پالیسی اور طریقۂ کار کی رہنمائی
امریکہ میں بیضہ عطیہ کرنے کا قانونی ڈھانچا اور موجودہ پالیسی
امریکہ میں بیضہ عطیہ کرنے کا عمل بنیادی طور پر ریاستی سطح پر منظم کیا جاتا ہے اور اس کے لیے کوئی یکساں وفاقی ڈھانچا نہیں۔ نتیجتاً، عطیہ دہندہ کے حقوق، معاوضے اور قانونی ذمہ داریوں سے متعلق ریاستی قواعد میں نمایاں فرق ہے۔ بیشتر ریاستیں گمنام یا معلوم عطیہ دہندہ کی اجازت دیتی ہیں، جبکہ لوزیانا جیسی بعض ریاستیں عطیہ کرنے پر سخت پابندیاں عائد کرتی ہیں۔ امریکن سوسائٹی فار ری پروڈکٹیو میڈیسن (ASRM) شعبے کے لیے رہنما اصول فراہم کرتی ہے، لیکن یہ لازمی قانون نہیں ہیں۔ پالیسیاں ریاستی قانون سازی یا وفاقی عدالتی نظائر کے ذریعے بدل سکتی ہیں، اس لیے آگے بڑھنے سے پہلے تازہ ترین ضوابط کی تصدیق کرنی چاہیے۔
طریقۂ کار کے اہم نکات
اس عمل میں عموماً شامل ہیں: 1. جانچ: عطیہ دہندگان کو صحت سے متعلق سوال نامہ، نفسیاتی جائزہ اور متعدی امراض کی جانچ، مثلاً HIV اور ہیپاٹائٹس کے ٹیسٹ، مکمل کرنا ہوتے ہیں۔ 2. قانونی معاہدہ: والدین کے حقوق سے واضح طور پر دست بردار ہونے اور گمنامی کی شرائط متعین کرنے کے لیے عطیے کے معاہدے پر دستخط کیے جاتے ہیں۔ 3. طبی عمل: تولیدی اینڈوکرائنولوجسٹ کی نگرانی میں عطیہ دہندہ کے بیضہ دانوں کو متحرک کیا جاتا ہے اور بیضے حاصل کیے جاتے ہیں۔ وصول کنندگان کسی ایجنسی یا مرکز کے ڈیٹا بیس کے ذریعے عطیہ دہندہ منتخب کرتے ہیں اور جنین کے استعمال کے حقوق یقینی بنانے کے لیے قانونی دستاویزات مکمل کرتے ہیں۔
اہل افراد اور اہلیت کے اصول
عطیہ دہندگان عموماً 21 سے 34 سال کی صحت مند خواتین ہوتی ہیں، جن کی موروثی بیماری کی کوئی تاریخ نہ ہو اور جو نفسیاتی و جسمانی جائزوں میں کامیاب ہوں۔ وصول کنندگان میں ایسے افراد یا جوڑے شامل ہیں جو بیضہ دانی کی کمزور کارکردگی، موروثی بیماری، ہم جنس شراکت یا دیگر وجوہات کی بنا پر اپنے بیضے استعمال نہیں کر سکتے۔ اہلیت کا جائزہ عمر یا ازدواجی حیثیت کے بجائے طبی ضرورت اور قانونی تقاضوں کی پابندی پر مرکوز ہوتا ہے۔
خطرات اور قابلِ غور امور
عطیہ دہندگان کو بیضہ دانی کی حد سے زیادہ تحریک کے سنڈروم (OHSS) یا جراحی کی پیچیدگیوں کا سامنا ہو سکتا ہے، اگرچہ ان خطرات کا نظم کیا جا سکتا ہے؛ طویل مدتی اثرات اب بھی غیر یقینی ہیں۔ وصول کنندگان کو یہ بات مدنظر رکھنی چاہیے کہ عطیہ دہندہ کی گمنامی اولاد کے جاننے کے حق کو متاثر کر سکتی ہے، اور جنین کی قانونی ملکیت واضح ہونی چاہیے۔ اخراجات اور کامیابی کی شرحیں ہر مرکز میں مختلف ہوتی ہیں اور انہیں فیصلہ سازی کی واحد بنیاد نہیں ہونا چاہیے۔
متعلقہ قوانین اور پالیسیاں کسی بھی وقت تبدیل ہو سکتی ہیں۔ مخصوص تقاضوں کا انحصار ملک کے تازہ ترین ضوابط پر ہے۔ پیشہ ور قانونی اور طبی مشیروں سے مشورہ کریں۔
یہ صفحہ LinkedIVF کی اداریاتی ٹیم نے مرتب اور جانچا ہے، اور اسے وقتاً فوقتاً اپ ڈیٹ کیا جاتا ہے۔ آخری تازہ کاری: 11/07/2026







