جنوبی کوریائی اداکارہ ہان دا-گیم، جو اپنی 47 کی دہائی میں ہیں، نے حال ہی میں سوشل میڈیا پر ان وٹرو فرٹیلائزیشن (IVF) کے ایک علاجی چکر سے گزرنے کا تجربہ شیئر کیا، جس سے بڑے پیمانے پر بحث چھڑ گئی۔ انہوں نے بتایا کہ صرف ایک بار بیضہ حاصل کرنے اور بارآوری کے عمل کے بعد انہوں نے کامیابی سے بہترین معیار کا AAA گریڈ جنین تیار کیا، جسے ان کے رحم میں منتقل بھی کر دیا گیا ہے۔ اس خبر نے حمل کی خواہش رکھنے والی بہت سی بڑی عمر کی خواتین کی حوصلہ افزائی کی ہے اور ایک بار پھر جدید تولیدی طب کی پیش رفت کو اجاگر کیا ہے۔
ہان دا-گیم نے بتایا کہ علاج سے پہلے انہوں نے مکمل جسمانی معائنہ اور بیضہ دانی کے افعال کا جائزہ کروایا، پھر اپنے معالج کی سفارشات کے مطابق روزمرہ معمول اور غذا میں تبدیلی کی۔ ان کے منتخب کردہ IVF پروٹوکول میں ذاتی ضرورت کے مطابق بیضہ دانی کو متحرک کرنے والی ادویات شامل تھیں، جس کے بعد بیضہ حاصل کرنے کے عمل سے گزرے جنین میں کروموسومی بے قاعدگیوں کی جانچ کے لیے پی جی ٹی-اے (PGT-A) کی گئی۔ آخرکار انہیں متعدد قابلِ عمل جنین حاصل ہوئے، جن میں سے ایک کو AAA گریڈ دیا گیا—جو جنین کی ساخت اور نشوونما کی صلاحیت کا اعلیٰ ترین درجہ ہے۔
زیادہ عمر کی خواتین کے لیے بیضوں کا معیار اور تعداد IVF کی کامیابی کے اہم عوامل ہیں۔ ہان دا-گیم کا معاملہ ظاہر کرتا ہے کہ 50 کی عمر کے قریب پہنچنے پر بھی درست طبی منصوبہ بندی اور جدید لیبارٹری تکنیکوں کے ذریعے اعلیٰ معیار کے جنین حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ معالجین کے مطابق AAA گریڈ جنین کے رحم میں پیوست ہونے کی شرح زیادہ ہوتی ہے، تاہم بعد کی کامیابی کا انحصار رحم کی اندرونی جھلی کے ماحول اور ماں کی مجموعی صحت پر بھی ہوتا ہے تاکہ حمل بخیر و عافیت آگے بڑھے۔
اس معاملے نے زیادہ عمر میں زچگی اور بچے کی پیدائش کے بارے میں بھی بحث چھیڑ دی ہے۔ سماجی رویوں میں تبدیلی اور طبی ٹیکنالوجی کی بہتری کے ساتھ زیادہ خواتین نسبتاً زیادہ عمر میں بچے کو جنم دینے کا انتخاب کر رہی ہیں۔ تاہم زیادہ عمر کے حمل سے وابستہ خطرات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، جن میں حمل کے دوران ذیابیطس اور بلند فشارِ خون جیسی پیچیدگیاں، نیز جنین میں کروموسومی بے قاعدگیوں کا بڑھا ہوا امکان شامل ہیں۔ اس لیے ماہر طبی مشاورت اور ذاتی ضرورت کے مطابق علاج کے منصوبے ضروری ہیں۔
ہان دا-گیم کی کہانی IVF پر غور کرنے والی یا اس سے گزرنے والی بہت سی خواتین کے لیے امید لاتی ہے۔ ان کی کامیابی اتفاقی نہیں بلکہ مکمل تیاری اور جدید طبی ٹیکنالوجی کا نتیجہ ہے۔ ایسی ہی ضروریات رکھنے والے قارئین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ تولیدی طب کے کسی ماہر مرکز سے جامع جائزہ کروائیں اور اپنی صورتحال کے لیے موزوں ترین علاج کا منصوبہ تیار کریں۔
ماخذ: chosun.com۔ یہ مضمون عمومی معلومات کے لیے فراہم کردہ ترجمہ شدہ رپورٹ ہے۔
خبریں | 47 سالہ کوریائی اداکارہ نے پہلی کوشش میں IVF سے کامیابی حاصل کی: AAA گریڈ کا ایمبریو پیدا ہوا
جنوبی کوریائی اداکارہ ہان دا-گیم، جو اپنی 47 کی دہائی میں ہیں، نے حال ہی میں سوشل میڈیا پر ان وٹرو فرٹیلائزیشن (IVF) کے ایک علاجی چکر سے گزرنے کا تجربہ شیئر کیا، جس سے بڑے پیمانے پر بحث چھڑ گئی۔ انہوں نے بتایا کہ صرف ایک بار بیضہ حاصل کرنے اور بارآوری کے عمل کے بعد انہوں نے کامیابی سے بہترین معیار کا AAA گریڈ جنین تیار کیا، جسے ان کے رحم میں منتقل بھی کر دیا گیا ہے۔ اس خبر نے حمل کی خواہش رکھنے والی بہت سی بڑی عمر کی خواتین کی حوصلہ افزائی کی ہے اور ایک بار پھر جدید تولیدی طب کی پیش رفت کو اجاگر کیا ہے۔
ہان دا-گیم نے بتایا کہ علاج سے پہلے انہوں نے مکمل جسمانی معائنہ اور بیضہ دانی کے افعال کا جائزہ کروایا، پھر اپنے معالج کی سفارشات کے مطابق روزمرہ معمول اور غذا میں تبدیلی کی۔ ان کے منتخب کردہ IVF پروٹوکول میں ذاتی ضرورت کے مطابق بیضہ دانی کو متحرک کرنے والی ادویات شامل تھیں، جس کے بعد بیضہ حاصل کرنے کے عمل سے گزرے جنین میں کروموسومی بے قاعدگیوں کی جانچ کے لیے پی جی ٹی-اے (PGT-A) کی گئی۔ آخرکار انہیں متعدد قابلِ عمل جنین حاصل ہوئے، جن میں سے ایک کو AAA گریڈ دیا گیا—جو جنین کی ساخت اور نشوونما کی صلاحیت کا اعلیٰ ترین درجہ ہے۔
زیادہ عمر کی خواتین کے لیے بیضوں کا معیار اور تعداد IVF کی کامیابی کے اہم عوامل ہیں۔ ہان دا-گیم کا معاملہ ظاہر کرتا ہے کہ 50 کی عمر کے قریب پہنچنے پر بھی درست طبی منصوبہ بندی اور جدید لیبارٹری تکنیکوں کے ذریعے اعلیٰ معیار کے جنین حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ معالجین کے مطابق AAA گریڈ جنین کے رحم میں پیوست ہونے کی شرح زیادہ ہوتی ہے، تاہم بعد کی کامیابی کا انحصار رحم کی اندرونی جھلی کے ماحول اور ماں کی مجموعی صحت پر بھی ہوتا ہے تاکہ حمل بخیر و عافیت آگے بڑھے۔
اس معاملے نے زیادہ عمر میں زچگی اور بچے کی پیدائش کے بارے میں بھی بحث چھیڑ دی ہے۔ سماجی رویوں میں تبدیلی اور طبی ٹیکنالوجی کی بہتری کے ساتھ زیادہ خواتین نسبتاً زیادہ عمر میں بچے کو جنم دینے کا انتخاب کر رہی ہیں۔ تاہم زیادہ عمر کے حمل سے وابستہ خطرات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، جن میں حمل کے دوران ذیابیطس اور بلند فشارِ خون جیسی پیچیدگیاں، نیز جنین میں کروموسومی بے قاعدگیوں کا بڑھا ہوا امکان شامل ہیں۔ اس لیے ماہر طبی مشاورت اور ذاتی ضرورت کے مطابق علاج کے منصوبے ضروری ہیں۔
ہان دا-گیم کی کہانی IVF پر غور کرنے والی یا اس سے گزرنے والی بہت سی خواتین کے لیے امید لاتی ہے۔ ان کی کامیابی اتفاقی نہیں بلکہ مکمل تیاری اور جدید طبی ٹیکنالوجی کا نتیجہ ہے۔ ایسی ہی ضروریات رکھنے والے قارئین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ تولیدی طب کے کسی ماہر مرکز سے جامع جائزہ کروائیں اور اپنی صورتحال کے لیے موزوں ترین علاج کا منصوبہ تیار کریں۔
ماخذ: chosun.com۔ یہ مضمون عمومی معلومات کے لیے فراہم کردہ ترجمہ شدہ رپورٹ ہے۔