رہنما | پروجیسٹرون کی جانچ: یہ خواتین کی زرخیزی کا اندازہ لگانے میں کیسے مدد دیتی ہے
پروجیسٹرون ایک ہارمون ہے جو حمل اور ماہواری کے چکر میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ پروجیسٹرون ٹیسٹ ایک خون کا ٹیسٹ ہے جو اس ہارمون کی مقدار ناپتا ہے اور خواتین کی زرخیزی اور حمل کے بارے میں اہم معلومات فراہم کر سکتا ہے۔ اس مضمون میں ٹیسٹ کے استعمال، طریقۂ کار اور نتائج کی وضاحت کی گئی ہے۔
1۔ پروجیسٹرون ٹیسٹ کیا ہے؟
پروجیسٹرون ٹیسٹ خون میں پروجیسٹرون کی سطح ناپتا ہے۔ حمل میں پروجیسٹرون ضروری ہے: یہ بارآور بیضے کے پیوند کے لیے جسم کو تیار کرتا ہے اور چھاتیوں کو دودھ بنانے کے لیے تیار کرنے میں مدد دیتا ہے۔ یہ ماہواری کے چکر کو منظم کرنے میں بھی مدد کرتا ہے۔ ہر ماہ بیضہ ریزی کے آس پاس پروجیسٹرون کی سطح بڑھ جاتی ہے؛ اگر حمل نہ ٹھہرے تو یہ کم ہو جاتی ہے اور ماہواری شروع ہو جاتی ہے۔
2۔ پروجیسٹرون کی جانچ کے استعمال
ڈاکٹر پروجیسٹرون ٹیسٹ کی سفارش ان مقاصد کے لیے کر سکتے ہیں:
حاملہ ہونے میں دشواری کی وجہ جانچنا
یہ معلوم کرنا کہ بیضہ ریزی ہوتی ہے یا نہیں اور کب ہوتی ہے
حمل کے دوران اسقاطِ حمل کے زیادہ خطرے کا جائزہ لینا
زیادہ خطرے والے حمل کی نگرانی کرنا
رحم سے باہر حمل کی تشخیص کرنا، جس میں بارآور بیضہ رحم کے باہر پیوند پذیر ہوتا ہے
پروجیسٹرون ٹیسٹ کا طریقۂ کار
یہ طریقۂ کار سادہ ہے اور کسی خاص تیاری کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ڈاکٹر یا صحت کا کوئی اور ماہر آپ کے بازو کی رگ میں سوئی داخل کر کے خون کا تھوڑا سا نمونہ لیتا ہے اور اسے لیبارٹری بھیج دیتا ہے۔
3۔ پروجیسٹرون ٹیسٹ کے نتائج
نتائج درج ذیل باتوں کی نشاندہی کر سکتے ہیں:
پروجیسٹرون میں بے قاعدہ اتار چڑھاؤ: اگر بار بار کی جانچ سے معلوم ہو کہ پروجیسٹرون ہر ماہ معمول کے مطابق کم زیادہ نہیں ہوتا، تو ممکن ہے بیضہ ریزی نہ ہو رہی ہو یا ماہواری بے قاعدہ ہو، جس سے حمل ٹھہرنے کا امکان متاثر ہو سکتا ہے۔
پروجیسٹرون کی کم سطح: اس کا تعلق ماہواری کے اس مرحلے سے ہو سکتا ہے جس میں ٹیسٹ کیا گیا تھا۔ معمول سے کم پروجیسٹرون درج ذیل کی نشاندہی کر سکتا ہے:
بیضہ دانی کے افعال میں خرابی یا بیضہ ریزی نہ ہونا
غیر معمولی حمل
پروجیسٹرون کی بلند سطح: معمول سے زیادہ پروجیسٹرون درج ذیل وجوہ سے ہو سکتا ہے:
ایک یا زیادہ جنین کا حمل
بیضہ دانی کی سسٹیں
ایسا رسولی نما ابھار جو حمل جیسی علامات پیدا کرے (مولر حمل)
فوقِ کلیہ غدود کی بیماری
بیضہ دانی کا سرطان
پروجیسٹرون کی معمول کی سطح: معمول کی حد کے اندر نتیجہ اس بات کی نشاندہی کر سکتا ہے کہ بیضہ ریزی ہو چکی ہے۔ جانچ ماہواری شروع ہونے کے 18 سے 24 دن بعد یا اگلی متوقع ماہواری سے سات دن پہلے کی جانی چاہیے۔
4۔ پروجیسٹرون سے متعلق دیگر ٹیسٹ
اگر ڈاکٹر پروجیسٹرون کی جانچ کی سفارش کریں تو آپ کو درج ذیل ٹیسٹ بھی درکار ہو سکتے ہیں:
زرخیزی کا جائزہ لینے کے لیے خون کے دیگر ٹیسٹ
گھر پر کیے جانے والے پیشاب کے ٹیسٹ، جو پروجیسٹرون کے میٹابولائٹس ناپ کر بیضہ ریزی کی نشاندہی کرتے ہیں
بطانۂ رحم کی موٹائی ناپنے کے لیے الٹراساؤنڈ
حمل کے دوران ممکنہ پیچیدگیوں کا جائزہ لینے کے لیے مخصوص خون کے ٹیسٹ
رہنما | پروجیسٹرون کی جانچ: یہ خواتین کی زرخیزی کا اندازہ لگانے میں کیسے مدد دیتی ہے
رہنما | پروجیسٹرون کی جانچ: یہ خواتین کی زرخیزی کا اندازہ لگانے میں کیسے مدد دیتی ہے
پروجیسٹرون ایک ہارمون ہے جو حمل اور ماہواری کے چکر میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ پروجیسٹرون ٹیسٹ ایک خون کا ٹیسٹ ہے جو اس ہارمون کی مقدار ناپتا ہے اور خواتین کی زرخیزی اور حمل کے بارے میں اہم معلومات فراہم کر سکتا ہے۔ اس مضمون میں ٹیسٹ کے استعمال، طریقۂ کار اور نتائج کی وضاحت کی گئی ہے۔
1۔ پروجیسٹرون ٹیسٹ کیا ہے؟
پروجیسٹرون ٹیسٹ خون میں پروجیسٹرون کی سطح ناپتا ہے۔ حمل میں پروجیسٹرون ضروری ہے: یہ بارآور بیضے کے پیوند کے لیے جسم کو تیار کرتا ہے اور چھاتیوں کو دودھ بنانے کے لیے تیار کرنے میں مدد دیتا ہے۔ یہ ماہواری کے چکر کو منظم کرنے میں بھی مدد کرتا ہے۔ ہر ماہ بیضہ ریزی کے آس پاس پروجیسٹرون کی سطح بڑھ جاتی ہے؛ اگر حمل نہ ٹھہرے تو یہ کم ہو جاتی ہے اور ماہواری شروع ہو جاتی ہے۔
2۔ پروجیسٹرون کی جانچ کے استعمال
ڈاکٹر پروجیسٹرون ٹیسٹ کی سفارش ان مقاصد کے لیے کر سکتے ہیں:
حاملہ ہونے میں دشواری کی وجہ جانچنا
یہ معلوم کرنا کہ بیضہ ریزی ہوتی ہے یا نہیں اور کب ہوتی ہے
حمل کے دوران اسقاطِ حمل کے زیادہ خطرے کا جائزہ لینا
زیادہ خطرے والے حمل کی نگرانی کرنا
رحم سے باہر حمل کی تشخیص کرنا، جس میں بارآور بیضہ رحم کے باہر پیوند پذیر ہوتا ہے
پروجیسٹرون ٹیسٹ کا طریقۂ کار
یہ طریقۂ کار سادہ ہے اور کسی خاص تیاری کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ڈاکٹر یا صحت کا کوئی اور ماہر آپ کے بازو کی رگ میں سوئی داخل کر کے خون کا تھوڑا سا نمونہ لیتا ہے اور اسے لیبارٹری بھیج دیتا ہے۔
3۔ پروجیسٹرون ٹیسٹ کے نتائج
نتائج درج ذیل باتوں کی نشاندہی کر سکتے ہیں:
پروجیسٹرون میں بے قاعدہ اتار چڑھاؤ: اگر بار بار کی جانچ سے معلوم ہو کہ پروجیسٹرون ہر ماہ معمول کے مطابق کم زیادہ نہیں ہوتا، تو ممکن ہے بیضہ ریزی نہ ہو رہی ہو یا ماہواری بے قاعدہ ہو، جس سے حمل ٹھہرنے کا امکان متاثر ہو سکتا ہے۔
پروجیسٹرون کی کم سطح: اس کا تعلق ماہواری کے اس مرحلے سے ہو سکتا ہے جس میں ٹیسٹ کیا گیا تھا۔ معمول سے کم پروجیسٹرون درج ذیل کی نشاندہی کر سکتا ہے:
بیضہ دانی کے افعال میں خرابی یا بیضہ ریزی نہ ہونا
غیر معمولی حمل
پروجیسٹرون کی بلند سطح: معمول سے زیادہ پروجیسٹرون درج ذیل وجوہ سے ہو سکتا ہے:
ایک یا زیادہ جنین کا حمل
بیضہ دانی کی سسٹیں
ایسا رسولی نما ابھار جو حمل جیسی علامات پیدا کرے (مولر حمل)
فوقِ کلیہ غدود کی بیماری
بیضہ دانی کا سرطان
پروجیسٹرون کی معمول کی سطح: معمول کی حد کے اندر نتیجہ اس بات کی نشاندہی کر سکتا ہے کہ بیضہ ریزی ہو چکی ہے۔ جانچ ماہواری شروع ہونے کے 18 سے 24 دن بعد یا اگلی متوقع ماہواری سے سات دن پہلے کی جانی چاہیے۔
4۔ پروجیسٹرون سے متعلق دیگر ٹیسٹ
اگر ڈاکٹر پروجیسٹرون کی جانچ کی سفارش کریں تو آپ کو درج ذیل ٹیسٹ بھی درکار ہو سکتے ہیں:
زرخیزی کا جائزہ لینے کے لیے خون کے دیگر ٹیسٹ
گھر پر کیے جانے والے پیشاب کے ٹیسٹ، جو پروجیسٹرون کے میٹابولائٹس ناپ کر بیضہ ریزی کی نشاندہی کرتے ہیں
بطانۂ رحم کی موٹائی ناپنے کے لیے الٹراساؤنڈ
حمل کے دوران ممکنہ پیچیدگیوں کا جائزہ لینے کے لیے مخصوص خون کے ٹیسٹ
ماخذ:
آن لائن سے جمع کردہ