معلومات | دیر سے ماں بننا: کیا خواتین اپنی مطلوبہ نتائج حاصل کر سکتی ہیں؟
حالیہ برسوں میں بڑی عمر کی ماؤں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، کیونکہ زیادہ خواتین درمیانی عمر یا اس کے بعد بچے پیدا کرنے کا انتخاب کر رہی ہیں۔ آیا یہ رجحان ماؤں اور بچوں کے لیے بہتر ہے یا نہیں، اس پر اب بھی بحث جاری ہے۔
2004 میں کئی معروف خواتین نے زیادہ عمر میں بچے پیدا کرنے پر بڑے پیمانے پر توجہ حاصل کی۔ ہالی ووڈ کی اداکارہ جینا ڈیوس نے تقریباً 48 سال کی عمر میں جڑواں بچوں کو جنم دیا، جبکہ امریکی نائب صدارت کے امیدوار جان ایڈورڈز کی اہلیہ الزبتھ ایڈورڈز نے 48 سال کی عمر میں اور پھر تقریباً 50 سال کی عمر میں دوبارہ بچے کو جنم دیا۔ اسی سال نومبر میں 57 سالہ غیر شادی شدہ خاتون الیٹا سینٹ جیمز نے نیویارک شہر میں اپنے پہلے بچوں کو جنم دے کر سرخیاں بنائیں۔
بیماریوں کے کنٹرول اور روک تھام کے مراکز (CDC) کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، زیادہ خواتین 40 سال کی عمر کے بعد حمل کا انتخاب کر رہی ہیں۔ 2003 میں 40 سے 44 سال کی خواتین میں شرح پیدائش میں 5% کا اضافہ ہوا، جبکہ 20 کی ابتدائی عمر کی خواتین میں یہ شرح 1% کم ہوئی۔
اگرچہ طب میں ترقی نے دیر سے ماں بننا ممکن بنا دیا ہے، ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ حمل مؤخر کرنے سے صحت کے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔ عمر کے ساتھ بیضہ دانی کی کارکردگی، بیضوں کی تعداد اور معیار میں کمی آتی ہے۔ اس سے حمل ٹھہرنا زیادہ مشکل ہو جاتا ہے اور اسقاط حمل و پیدائشی نقائص کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔
بعض صورتوں میں بڑی عمر کی خواتین کے لیے بیضہ عطیہ اہم اختیار بن گیا ہے۔ تاہم، عطیہ کردہ بیضوں سے حمل ٹھہرنے کے باوجود بڑی عمر کی حاملہ خواتین کو قبل از وقت پیدائش، حمل کے دوران ذیابیطس اور پری ایکلیمپسیا جیسی پیچیدگیوں کے زیادہ خطرات کا سامنا ہوتا ہے۔ زیادہ عمر میں حمل ماں کو مستقبل میں چھاتی کے سرطان جیسی بیماریوں کے خطرے میں بھی اضافہ کر سکتا ہے۔
اس کے باوجود، بڑی عمر کی مائیں اکثر والدین بننے کے لیے مضبوط عزم کا مظاہرہ کرتی ہیں اور اپنے بچوں کو زندگی کا وسیع تجربہ فراہم کر سکتی ہیں۔ ماں بننے میں تاخیر کے زچگی کی صحت اور خاندانی ڈھانچے پر مکمل اثرات سمجھنے کے لیے مزید طویل مدتی طبی اعداد و شمار کی ضرورت ہے۔
جیسے جیسے یہ رجحان جاری ہے، طبی ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ 40 سال کی عمر کے بعد حمل کی منصوبہ بندی کرنے والی خواتین کسی ماہر فرٹیلیٹی مرکز سے رہنمائی لیں اور صحت و نفسیات کے جامع جائزے کروائیں، تاکہ بعد کی عمر میں حمل کی حفاظت اور ممکن ہونے کا اندازہ لگایا جا سکے۔
معلومات | دیر سے ماں بننا: کیا خواتین اپنی مطلوبہ نتائج حاصل کر سکتی ہیں؟
معلومات | دیر سے ماں بننا: کیا خواتین اپنی مطلوبہ نتائج حاصل کر سکتی ہیں؟
حالیہ برسوں میں بڑی عمر کی ماؤں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، کیونکہ زیادہ خواتین درمیانی عمر یا اس کے بعد بچے پیدا کرنے کا انتخاب کر رہی ہیں۔ آیا یہ رجحان ماؤں اور بچوں کے لیے بہتر ہے یا نہیں، اس پر اب بھی بحث جاری ہے۔
2004 میں کئی معروف خواتین نے زیادہ عمر میں بچے پیدا کرنے پر بڑے پیمانے پر توجہ حاصل کی۔ ہالی ووڈ کی اداکارہ جینا ڈیوس نے تقریباً 48 سال کی عمر میں جڑواں بچوں کو جنم دیا، جبکہ امریکی نائب صدارت کے امیدوار جان ایڈورڈز کی اہلیہ الزبتھ ایڈورڈز نے 48 سال کی عمر میں اور پھر تقریباً 50 سال کی عمر میں دوبارہ بچے کو جنم دیا۔ اسی سال نومبر میں 57 سالہ غیر شادی شدہ خاتون الیٹا سینٹ جیمز نے نیویارک شہر میں اپنے پہلے بچوں کو جنم دے کر سرخیاں بنائیں۔
بیماریوں کے کنٹرول اور روک تھام کے مراکز (CDC) کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، زیادہ خواتین 40 سال کی عمر کے بعد حمل کا انتخاب کر رہی ہیں۔ 2003 میں 40 سے 44 سال کی خواتین میں شرح پیدائش میں 5% کا اضافہ ہوا، جبکہ 20 کی ابتدائی عمر کی خواتین میں یہ شرح 1% کم ہوئی۔
اگرچہ طب میں ترقی نے دیر سے ماں بننا ممکن بنا دیا ہے، ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ حمل مؤخر کرنے سے صحت کے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔ عمر کے ساتھ بیضہ دانی کی کارکردگی، بیضوں کی تعداد اور معیار میں کمی آتی ہے۔ اس سے حمل ٹھہرنا زیادہ مشکل ہو جاتا ہے اور اسقاط حمل و پیدائشی نقائص کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔
بعض صورتوں میں بڑی عمر کی خواتین کے لیے بیضہ عطیہ اہم اختیار بن گیا ہے۔ تاہم، عطیہ کردہ بیضوں سے حمل ٹھہرنے کے باوجود بڑی عمر کی حاملہ خواتین کو قبل از وقت پیدائش، حمل کے دوران ذیابیطس اور پری ایکلیمپسیا جیسی پیچیدگیوں کے زیادہ خطرات کا سامنا ہوتا ہے۔ زیادہ عمر میں حمل ماں کو مستقبل میں چھاتی کے سرطان جیسی بیماریوں کے خطرے میں بھی اضافہ کر سکتا ہے۔
اس کے باوجود، بڑی عمر کی مائیں اکثر والدین بننے کے لیے مضبوط عزم کا مظاہرہ کرتی ہیں اور اپنے بچوں کو زندگی کا وسیع تجربہ فراہم کر سکتی ہیں۔ ماں بننے میں تاخیر کے زچگی کی صحت اور خاندانی ڈھانچے پر مکمل اثرات سمجھنے کے لیے مزید طویل مدتی طبی اعداد و شمار کی ضرورت ہے۔
جیسے جیسے یہ رجحان جاری ہے، طبی ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ 40 سال کی عمر کے بعد حمل کی منصوبہ بندی کرنے والی خواتین کسی ماہر فرٹیلیٹی مرکز سے رہنمائی لیں اور صحت و نفسیات کے جامع جائزے کروائیں، تاکہ بعد کی عمر میں حمل کی حفاظت اور ممکن ہونے کا اندازہ لگایا جا سکے۔
کہانی کا ماخذ:
آن لائن جمع کردہ