جنوبی کوریائی اداکارہ بے داہے نے حال ہی میں اپنے ذاتی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کھل کر بتایا کہ وہ اِن وِٹرو فرٹیلائزیشن (IVF) کے علاج سے گزر رہی ہیں اور اس پوسٹ کے ذریعے اپنے حاملہ ہونے سے متعلق افواہوں کی بھی وضاحت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ سفر آسان نہیں رہا، لیکن وہ اپنی کہانی شیئر کرکے زرخیزی کے مسائل سے دوچار دوسری خواتین کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتی ہیں۔
بے داہے نے اپنی پوسٹ میں بتایا کہ ان کی اور ان کے شوہر کی شادی کو کئی سال ہو چکے ہیں اور وہ طویل عرصے سے اپنی اولاد کے خواہش مند ہیں، لیکن قدرتی طور پر حمل ٹھہرنے میں کامیابی نہیں ہوئی۔ ڈاکٹر کے مشورے پر انہوں نے IVF ٹیکنالوجی آزمانے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ علاج کے دوران ہارمون کے انجیکشن، بیضہ حاصل کرنے کی سرجری اور نتائج کے انتظار کی بے چینی نے انہیں جسمانی اور ذہنی طور پر تھکا دیا ہے، تاہم وہ پرامید ہیں۔
حالیہ میڈیا رپورٹس میں ان کے “قدرے ابھرے ہوئے پیٹ” کو حمل کی علامت قرار دیے جانے پر بے داہے نے واضح کیا کہ یہ صرف علاج کے دوران ہونے والی عارضی اپھارہ تھی، حمل نہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ وہ ابھی جنین کی منتقلی سے پہلے تیاری کے مرحلے میں ہیں اور ابھی کامیابی سے حاملہ نہیں ہوئی ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ انہیں اور ان کے خاندان کو مزید نجی گنجائش دی جائے، اور کہا کہ وہ محنت جاری رکھیں گی۔
بے داہے کی بے باک گفتگو کو انٹرنیٹ صارفین کی جانب سے وسیع حمایت ملی اور بہت سے لوگوں نے حوصلہ افزائی کے پیغامات بھیجے۔ ان کا تجربہ زرخیزی کے حوالے سے آج کی بہت سی خواتین کو درپیش دباؤ اور مسائل کی بھی عکاسی کرتا ہے، جبکہ IVF ٹیکنالوجی ان کے لیے نئی امید پیش کرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق IVF کی کامیابی کی شرح عمر اور صحت کی انفرادی حالت کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے، اس لیے ضرورت مند جوڑوں کو جلد از جلد ماہر ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔
ماخذ: چوسن ایلبو۔ یہ رپورٹ صرف عمومی معلومات کے لیے مرتب کی گئی ہے۔
خبریں | جنوبی کوریائی اداکارہ Bae Dae-hae نے اپنے IVF سفر کے بارے میں کھل کر بات کی، حمل کی افواہوں کا جواب دیا
جنوبی کوریائی اداکارہ بے داہے نے حال ہی میں اپنے ذاتی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کھل کر بتایا کہ وہ اِن وِٹرو فرٹیلائزیشن (IVF) کے علاج سے گزر رہی ہیں اور اس پوسٹ کے ذریعے اپنے حاملہ ہونے سے متعلق افواہوں کی بھی وضاحت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ سفر آسان نہیں رہا، لیکن وہ اپنی کہانی شیئر کرکے زرخیزی کے مسائل سے دوچار دوسری خواتین کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتی ہیں۔
بے داہے نے اپنی پوسٹ میں بتایا کہ ان کی اور ان کے شوہر کی شادی کو کئی سال ہو چکے ہیں اور وہ طویل عرصے سے اپنی اولاد کے خواہش مند ہیں، لیکن قدرتی طور پر حمل ٹھہرنے میں کامیابی نہیں ہوئی۔ ڈاکٹر کے مشورے پر انہوں نے IVF ٹیکنالوجی آزمانے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ علاج کے دوران ہارمون کے انجیکشن، بیضہ حاصل کرنے کی سرجری اور نتائج کے انتظار کی بے چینی نے انہیں جسمانی اور ذہنی طور پر تھکا دیا ہے، تاہم وہ پرامید ہیں۔
حالیہ میڈیا رپورٹس میں ان کے “قدرے ابھرے ہوئے پیٹ” کو حمل کی علامت قرار دیے جانے پر بے داہے نے واضح کیا کہ یہ صرف علاج کے دوران ہونے والی عارضی اپھارہ تھی، حمل نہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ وہ ابھی جنین کی منتقلی سے پہلے تیاری کے مرحلے میں ہیں اور ابھی کامیابی سے حاملہ نہیں ہوئی ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ انہیں اور ان کے خاندان کو مزید نجی گنجائش دی جائے، اور کہا کہ وہ محنت جاری رکھیں گی۔
بے داہے کی بے باک گفتگو کو انٹرنیٹ صارفین کی جانب سے وسیع حمایت ملی اور بہت سے لوگوں نے حوصلہ افزائی کے پیغامات بھیجے۔ ان کا تجربہ زرخیزی کے حوالے سے آج کی بہت سی خواتین کو درپیش دباؤ اور مسائل کی بھی عکاسی کرتا ہے، جبکہ IVF ٹیکنالوجی ان کے لیے نئی امید پیش کرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق IVF کی کامیابی کی شرح عمر اور صحت کی انفرادی حالت کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے، اس لیے ضرورت مند جوڑوں کو جلد از جلد ماہر ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔
ماخذ: چوسن ایلبو۔ یہ رپورٹ صرف عمومی معلومات کے لیے مرتب کی گئی ہے۔