اگر آپ کو غیر معمولی خون بہنے، خاص طور پر سنِ یاس کے بعد، بار بار اسقاطِ حمل یا حاملہ ہونے میں دشواری کا سامنا ہو، تو آپ کا ڈاکٹر سونوہائسٹروگرافی کہلانے والا رحم کا خصوصی الٹراساؤنڈ تجویز کر سکتا ہے۔ یہ ٹیسٹ رحم کے اندر کا زیادہ واضح منظر فراہم کرتا ہے اور ان مسائل کی شناخت کر سکتا ہے جو معمول کے الٹراساؤنڈ میں نظر نہیں آتے۔
یہ ٹیسٹ عموماً فائبرائڈز یا پولپس جیسی غیر معمولی افزائش کی تشخیص کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس سے داغ دار بافتوں یا رحم کی غیر معمولی شکل کی بھی شناخت ہو سکتی ہے۔
سونوہائسٹروگرافی کیسے کی جاتی ہے؟
سب سے پہلے ڈاکٹر رحم کی تصاویر حاصل کرنے کے لیے ایک باریک الٹراساؤنڈ پروب اندام نہانی میں داخل کر کے ٹرانس ویجائنل الٹراساؤنڈ کرتے ہیں۔ اس کے بعد پروب نکال لی جاتی ہے، رحمِ عنق کو دیکھنے کے لیے اسپیکولم استعمال کیا جاتا ہے اور ایک باریک کیتھیٹر رحم میں داخل کیا جاتا ہے۔ پھر اسپیکولم نکال کر الٹراساؤنڈ پروب دوبارہ داخل کی جاتی ہے، اور کیتھیٹر کے ذریعے عموماً نمکول پر مشتمل جراثیم سے پاک سیال داخل کیا جاتا ہے تاکہ رحم کو پھیلایا جا سکے۔ اس کے بعد ڈاکٹر پروب کی مدد سے رحم کی گہا اور اس کی اندرونی تہہ کا معائنہ کرتے ہیں۔
اس طریقۂ کار میں تقریباً 15 سے 30 منٹ لگتے ہیں۔ سیال داخل کیے جانے پر ہلکی بے آرامی ہو سکتی ہے۔
کیا مجھے سونوہائسٹروگرام کی ضرورت ہے؟
آپ کا ڈاکٹر طے کرے گا کہ یہ ٹیسٹ آپ کے لیے مناسب ہے یا نہیں۔ عموماً ماہواری یا حمل کے دوران یہ ٹیسٹ نہیں کیا جاتا۔ حفاظت کے لیے پہلے حمل کا ٹیسٹ ضروری ہو سکتا ہے۔
نتائج کیا ظاہر کرتے ہیں؟
معمول کے نتیجے کا مطلب ہے کہ رحم کی شکل معمول کے مطابق ہے اور کوئی غیر معمولی افزائش نہیں ملی۔
غیر معمولی نتیجے میں فائبرائڈز، پولپس، داغ دار بافتیں یا رحم کی غیر معمولی شکل نظر آ سکتی ہے۔ مسئلہ ملنے کی صورت میں ڈاکٹر مناسب علاج کے اختیارات پر بات کریں گے۔
ٹیسٹ کے بعد میری طبیعت کیسی ہوگی؟
آپ خود گاڑی چلا کر گھر جا سکتے ہیں، لیکن چند دن تک پیٹ میں ہلکی اینٹھن، معمولی خون بہنا یا پانی جیسا اخراج ہو سکتا ہے۔ انفیکشن کا خطرہ بہت کم ہے۔ بعض ڈاکٹر چند دن تک اندام نہانی میں کوئی چیز داخل کرنے سے گریز کا مشورہ دیتے ہیں۔
اگر درج ذیل میں سے کوئی علامت ظاہر ہو تو فوراً اپنے ڈاکٹر سے رابطہ کریں:
معلومات | کیا آپ کو سونوہائسٹروگرام کی ضرورت ہے؟
معلومات | کیا آپ کو سونوہائسٹروگرام کی ضرورت ہے؟
اگر آپ کو غیر معمولی خون بہنے، خاص طور پر سنِ یاس کے بعد، بار بار اسقاطِ حمل یا حاملہ ہونے میں دشواری کا سامنا ہو، تو آپ کا ڈاکٹر سونوہائسٹروگرافی کہلانے والا رحم کا خصوصی الٹراساؤنڈ تجویز کر سکتا ہے۔ یہ ٹیسٹ رحم کے اندر کا زیادہ واضح منظر فراہم کرتا ہے اور ان مسائل کی شناخت کر سکتا ہے جو معمول کے الٹراساؤنڈ میں نظر نہیں آتے۔
یہ ٹیسٹ عموماً فائبرائڈز یا پولپس جیسی غیر معمولی افزائش کی تشخیص کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس سے داغ دار بافتوں یا رحم کی غیر معمولی شکل کی بھی شناخت ہو سکتی ہے۔
سونوہائسٹروگرافی کیسے کی جاتی ہے؟
سب سے پہلے ڈاکٹر رحم کی تصاویر حاصل کرنے کے لیے ایک باریک الٹراساؤنڈ پروب اندام نہانی میں داخل کر کے ٹرانس ویجائنل الٹراساؤنڈ کرتے ہیں۔ اس کے بعد پروب نکال لی جاتی ہے، رحمِ عنق کو دیکھنے کے لیے اسپیکولم استعمال کیا جاتا ہے اور ایک باریک کیتھیٹر رحم میں داخل کیا جاتا ہے۔ پھر اسپیکولم نکال کر الٹراساؤنڈ پروب دوبارہ داخل کی جاتی ہے، اور کیتھیٹر کے ذریعے عموماً نمکول پر مشتمل جراثیم سے پاک سیال داخل کیا جاتا ہے تاکہ رحم کو پھیلایا جا سکے۔ اس کے بعد ڈاکٹر پروب کی مدد سے رحم کی گہا اور اس کی اندرونی تہہ کا معائنہ کرتے ہیں۔
اس طریقۂ کار میں تقریباً 15 سے 30 منٹ لگتے ہیں۔ سیال داخل کیے جانے پر ہلکی بے آرامی ہو سکتی ہے۔
کیا مجھے سونوہائسٹروگرام کی ضرورت ہے؟
آپ کا ڈاکٹر طے کرے گا کہ یہ ٹیسٹ آپ کے لیے مناسب ہے یا نہیں۔ عموماً ماہواری یا حمل کے دوران یہ ٹیسٹ نہیں کیا جاتا۔ حفاظت کے لیے پہلے حمل کا ٹیسٹ ضروری ہو سکتا ہے۔
نتائج کیا ظاہر کرتے ہیں؟
معمول کے نتیجے کا مطلب ہے کہ رحم کی شکل معمول کے مطابق ہے اور کوئی غیر معمولی افزائش نہیں ملی۔
غیر معمولی نتیجے میں فائبرائڈز، پولپس، داغ دار بافتیں یا رحم کی غیر معمولی شکل نظر آ سکتی ہے۔ مسئلہ ملنے کی صورت میں ڈاکٹر مناسب علاج کے اختیارات پر بات کریں گے۔
ٹیسٹ کے بعد میری طبیعت کیسی ہوگی؟
آپ خود گاڑی چلا کر گھر جا سکتے ہیں، لیکن چند دن تک پیٹ میں ہلکی اینٹھن، معمولی خون بہنا یا پانی جیسا اخراج ہو سکتا ہے۔ انفیکشن کا خطرہ بہت کم ہے۔ بعض ڈاکٹر چند دن تک اندام نہانی میں کوئی چیز داخل کرنے سے گریز کا مشورہ دیتے ہیں۔
اگر درج ذیل میں سے کوئی علامت ظاہر ہو تو فوراً اپنے ڈاکٹر سے رابطہ کریں:
100.4°F (38°C) سے زیادہ بخار
بدبودار اخراج
زیادہ خون بہنا
ایسا درد جو بغیر نسخے ملنے والی دوا سے کم نہ ہو
کہانی کا ماخذ:
آن لائن جمع کردہ مواد