خفیہ حمل، جسے پوشیدہ یا مسترد شدہ حمل بھی کہا جاتا ہے، اس وقت ہوتا ہے جب خاتون کو حمل کے آخری مرحلے یا حتیٰ کہ زچگی شروع ہونے تک اپنے حاملہ ہونے کا علم نہ ہو۔ اندازہ ہے کہ یہ 1 میں 400-500 حمل میں ہوتا ہے۔ ولادت کے وقت ہی علم ہونے کا امکان تقریباً 1 میں 2,500 حمل ہے، جو تین بچوں والے حمل سے بھی زیادہ عام ہے۔
1. خفیہ حمل کیا ہوتا ہے؟
اس کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ حاملہ فرد حمل کو پہچان نہیں پاتی۔ وزن میں اضافہ، ماہواری رک جانا اور جسمانی تبدیلیوں جیسی عام علامات نظرانداز ہو سکتی ہیں یا کسی دوسری کیفیت سے منسوب کی جا سکتی ہیں۔ مانع حمل کا استعمال، بے قاعدہ ماہواری، ہلکا خون آنا یا پولی سسٹک اووری سنڈروم جیسی کیفیات حمل کو پہچاننا مشکل بنا سکتی ہیں۔
2. علامات
اگرچہ حمل کے ابتدائی مرحلے میں بہت سی خواتین کو چھاتی میں حساسیت، متلی اور تھکن محسوس ہوتی ہے، لیکن خفیہ حمل میں یہ علامات موجود نہ بھی ہوں، ہلکی ہوں یا نظرانداز ہو جائیں۔ صبح کی ہلکی متلی کو نظامِ ہاضمہ کی خرابی سمجھا جا سکتا ہے۔ کچھ خواتین کے وزن یا پیٹ کے حجم میں حمل بھر کوئی واضح اضافہ نہیں ہوتا۔
3. خطرات اور نتائج
چونکہ حمل کا علم نہیں ہوتا، اس لیے ضروری قبل از پیدائش اسکریننگ اور نگہداشت رہ سکتی ہے، جس سے ماں اور بچے کو ممکنہ خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ مطالعات خفیہ حمل کو قبل از وقت پیدائش، کم پیدائشی وزن اور جنین کی ناقص نشوونما سے جوڑتے ہیں۔ غیر متوقع زچگی نفسیاتی صدمے کا سبب بھی بن سکتی ہے اور بعد از زچگی ڈپریشن یا اضطراب کا خطرہ بڑھا سکتی ہے۔
مطالعات میں قبل از وقت پیدائش، مردہ پیدائش اور شیر خوار بچے کی موت کے زیادہ خطرات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔ اس لیے بروقت نفسیاتی مدد اور ماہر طبی نگہداشت اہم ہیں۔
4. ممکنہ خفیہ حمل پر ردِعمل
ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ ماہواری رکنے، متلی یا چھاتی میں حساسیت جیسی علامات ظاہر ہوں تو طبی معائنہ کرایا جائے، چاہے مانع حمل استعمال کیا جا رہا ہو۔ اگر انکار یا خوف موجود ہو تو نفسیاتی معائنہ مریضہ کو حمل قبول کرنے اور زچگی و بعد از زچگی زندگی کی تیاری میں مدد دے سکتا ہے۔
خفیہ حمل نایاب مگر حقیقی ہے۔ آگاہی خواتین کو اپنی صحت پر نظر رکھنے اور ضرورت کے وقت ماہر طبی نگہداشت حاصل کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
رہنما | خفیہ حمل: نایاب مگر حقیقی کیفیت
رہنما | خفیہ حمل: نایاب مگر حقیقی کیفیت
خفیہ حمل، جسے پوشیدہ یا مسترد شدہ حمل بھی کہا جاتا ہے، اس وقت ہوتا ہے جب خاتون کو حمل کے آخری مرحلے یا حتیٰ کہ زچگی شروع ہونے تک اپنے حاملہ ہونے کا علم نہ ہو۔ اندازہ ہے کہ یہ 1 میں 400-500 حمل میں ہوتا ہے۔ ولادت کے وقت ہی علم ہونے کا امکان تقریباً 1 میں 2,500 حمل ہے، جو تین بچوں والے حمل سے بھی زیادہ عام ہے۔
1. خفیہ حمل کیا ہوتا ہے؟
اس کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ حاملہ فرد حمل کو پہچان نہیں پاتی۔ وزن میں اضافہ، ماہواری رک جانا اور جسمانی تبدیلیوں جیسی عام علامات نظرانداز ہو سکتی ہیں یا کسی دوسری کیفیت سے منسوب کی جا سکتی ہیں۔ مانع حمل کا استعمال، بے قاعدہ ماہواری، ہلکا خون آنا یا پولی سسٹک اووری سنڈروم جیسی کیفیات حمل کو پہچاننا مشکل بنا سکتی ہیں۔
2. علامات
اگرچہ حمل کے ابتدائی مرحلے میں بہت سی خواتین کو چھاتی میں حساسیت، متلی اور تھکن محسوس ہوتی ہے، لیکن خفیہ حمل میں یہ علامات موجود نہ بھی ہوں، ہلکی ہوں یا نظرانداز ہو جائیں۔ صبح کی ہلکی متلی کو نظامِ ہاضمہ کی خرابی سمجھا جا سکتا ہے۔ کچھ خواتین کے وزن یا پیٹ کے حجم میں حمل بھر کوئی واضح اضافہ نہیں ہوتا۔
3. خطرات اور نتائج
چونکہ حمل کا علم نہیں ہوتا، اس لیے ضروری قبل از پیدائش اسکریننگ اور نگہداشت رہ سکتی ہے، جس سے ماں اور بچے کو ممکنہ خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ مطالعات خفیہ حمل کو قبل از وقت پیدائش، کم پیدائشی وزن اور جنین کی ناقص نشوونما سے جوڑتے ہیں۔ غیر متوقع زچگی نفسیاتی صدمے کا سبب بھی بن سکتی ہے اور بعد از زچگی ڈپریشن یا اضطراب کا خطرہ بڑھا سکتی ہے۔
مطالعات میں قبل از وقت پیدائش، مردہ پیدائش اور شیر خوار بچے کی موت کے زیادہ خطرات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔ اس لیے بروقت نفسیاتی مدد اور ماہر طبی نگہداشت اہم ہیں۔
4. ممکنہ خفیہ حمل پر ردِعمل
ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ ماہواری رکنے، متلی یا چھاتی میں حساسیت جیسی علامات ظاہر ہوں تو طبی معائنہ کرایا جائے، چاہے مانع حمل استعمال کیا جا رہا ہو۔ اگر انکار یا خوف موجود ہو تو نفسیاتی معائنہ مریضہ کو حمل قبول کرنے اور زچگی و بعد از زچگی زندگی کی تیاری میں مدد دے سکتا ہے۔
خفیہ حمل نایاب مگر حقیقی ہے۔ آگاہی خواتین کو اپنی صحت پر نظر رکھنے اور ضرورت کے وقت ماہر طبی نگہداشت حاصل کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
مضمون کا ماخذ:
آن لائن جمع کردہ