رہنما | این کاول پیدائش: کیا برقرار ایمینیوٹک تھیلی کے اندر پیدا ہونا خطرات کا باعث بنتا ہے؟
این کاول پیدائش، جس میں بچہ بغیر پھٹی ہوئی ایمینیوٹک تھیلی کے اندر پیدا ہوتا ہے، انتہائی نایاب ہے۔ بچہ مکمل یا جزوی طور پر برقرار تھیلی کے اندر پیدا ہوتا ہے اور شفاف حفاظتی بلبلے میں بند دکھائی دیتا ہے۔ اگرچہ یہ غیر معمولی ہے، لیکن اس قسم کی پیدائش بچے یا ماں کی صحت پر منفی اثر نہیں ڈالتی۔
ایمینیوٹک تھیلی کیا کام کرتی ہے؟
ایمینیوٹک تھیلی سیال سے بھری ایک باریک جھلی ہے جو حمل کے دوران جنین کو گھیرے رکھتی ہے۔ یہ بیرونی ضرب سے حفاظت کرتی اور جنین کی نشوونما کے دوران اس کا درجہ حرارت متوازن رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ تھیلی عموماً زچگی کے قریب پھٹتی ہے، جسے عام طور پر پانی کا اترنا کہا جاتا ہے۔ این کاول پیدائش میں بچہ پیدا ہوتے وقت یہ برقرار رہتی ہے۔
یہ اتفاقاً ہوتا ہے اور اسے کنٹرول نہیں کیا جا سکتا۔ اس سے پیدائش عام زچگی کے مقابلے میں نہ بہتر ہوتی ہے نہ بدتر؛ یہ صرف ایک نایاب قدرتی واقعہ ہے۔
جنین کی پوزیشن کیوں اہم ہے؟
حمل کے دوران جنین رحم کے اندر حرکت کرتا اور مختلف پوزیشنیں اختیار کرتا ہے۔ جیسے جیسے وہ بڑا ہوتا ہے اور جگہ کم ہوتی جاتی ہے، وہ پیدائش کی تیاری شروع کر دیتا ہے۔ 32 اور 36 ہفتوں کے درمیان جنین عموماً سر نیچے کر کے ماں کی پشت کی طرف رخ اختیار کرتا ہے، جو پیدائش کے لیے مثالی پوزیشن ہے۔
آسان زچگی کے لیے جنین کی پوزیشن اہم ہے۔ ناموزوں پوزیشن پیدائش کو زیادہ پیچیدہ بنا سکتی ہے۔ معمول کے معائنے کے دوران طبی ماہرین لمس یا الٹراساؤنڈ کے ذریعے پوزیشن کا جائزہ لیتے ہیں اور جنین کی پوزیشن درست کرنے کے لیے اقدامات کر سکتے ہیں۔
این کاول پیدائش کے بعد نگہداشت
جب بچہ این کاول پیدا ہوتا ہے تو طبی ماہر احتیاط سے ایمینیوٹک تھیلی کھول کر سیال نکالتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے پانی سے بھرے غبارے میں سوراخ کیا جائے۔ تھیلی کے اندر رہتے ہوئے بھی بچہ نال کے ذریعے آکسیجن حاصل کرتا رہتا ہے۔
بچے کو تھیلی سے نکالنے کے بعد طبی ماہر اس کی سانس اور عمومی صحت کا معائنہ کرتا ہے۔ زیادہ تر صورتوں میں بچہ عام پیدائش کی طرح فوراً سانس لینا اور رونا شروع کر دیتا ہے۔ اگر پیدائش کے دوران بچے کو دباؤ کا سامنا ہوا ہو تو سانس چند سیکنڈ بعد شروع ہو سکتی ہے۔ اس کے بعد نگہداشت کی ٹیم ضروری معائنہ اور مدد فراہم کرتی ہے۔
نتیجہ
اگرچہ این کاول پیدائش انتہائی نایاب ہے، لیکن یہ عام پیدائش سے بہت مختلف نہیں ہوتی۔ بچے پر منفی اثر نہیں پڑتا، اور طبی ماہرین و دایائیں عمل کو محفوظ رکھنے کو یقینی بناتی ہیں۔ اس واقعے کو سمجھنے سے نئے والدین کی بے چینی کم ہو سکتی ہے۔
رہنما | این کاول پیدائش: کیا برقرار ایمینیوٹک تھیلی کے اندر پیدا ہونا خطرات کا باعث بنتا ہے؟
رہنما | این کاول پیدائش: کیا برقرار ایمینیوٹک تھیلی کے اندر پیدا ہونا خطرات کا باعث بنتا ہے؟
این کاول پیدائش، جس میں بچہ بغیر پھٹی ہوئی ایمینیوٹک تھیلی کے اندر پیدا ہوتا ہے، انتہائی نایاب ہے۔ بچہ مکمل یا جزوی طور پر برقرار تھیلی کے اندر پیدا ہوتا ہے اور شفاف حفاظتی بلبلے میں بند دکھائی دیتا ہے۔ اگرچہ یہ غیر معمولی ہے، لیکن اس قسم کی پیدائش بچے یا ماں کی صحت پر منفی اثر نہیں ڈالتی۔
ایمینیوٹک تھیلی کیا کام کرتی ہے؟
ایمینیوٹک تھیلی سیال سے بھری ایک باریک جھلی ہے جو حمل کے دوران جنین کو گھیرے رکھتی ہے۔ یہ بیرونی ضرب سے حفاظت کرتی اور جنین کی نشوونما کے دوران اس کا درجہ حرارت متوازن رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ تھیلی عموماً زچگی کے قریب پھٹتی ہے، جسے عام طور پر پانی کا اترنا کہا جاتا ہے۔ این کاول پیدائش میں بچہ پیدا ہوتے وقت یہ برقرار رہتی ہے۔
یہ اتفاقاً ہوتا ہے اور اسے کنٹرول نہیں کیا جا سکتا۔ اس سے پیدائش عام زچگی کے مقابلے میں نہ بہتر ہوتی ہے نہ بدتر؛ یہ صرف ایک نایاب قدرتی واقعہ ہے۔
جنین کی پوزیشن کیوں اہم ہے؟
حمل کے دوران جنین رحم کے اندر حرکت کرتا اور مختلف پوزیشنیں اختیار کرتا ہے۔ جیسے جیسے وہ بڑا ہوتا ہے اور جگہ کم ہوتی جاتی ہے، وہ پیدائش کی تیاری شروع کر دیتا ہے۔ 32 اور 36 ہفتوں کے درمیان جنین عموماً سر نیچے کر کے ماں کی پشت کی طرف رخ اختیار کرتا ہے، جو پیدائش کے لیے مثالی پوزیشن ہے۔
آسان زچگی کے لیے جنین کی پوزیشن اہم ہے۔ ناموزوں پوزیشن پیدائش کو زیادہ پیچیدہ بنا سکتی ہے۔ معمول کے معائنے کے دوران طبی ماہرین لمس یا الٹراساؤنڈ کے ذریعے پوزیشن کا جائزہ لیتے ہیں اور جنین کی پوزیشن درست کرنے کے لیے اقدامات کر سکتے ہیں۔
این کاول پیدائش کے بعد نگہداشت
جب بچہ این کاول پیدا ہوتا ہے تو طبی ماہر احتیاط سے ایمینیوٹک تھیلی کھول کر سیال نکالتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے پانی سے بھرے غبارے میں سوراخ کیا جائے۔ تھیلی کے اندر رہتے ہوئے بھی بچہ نال کے ذریعے آکسیجن حاصل کرتا رہتا ہے۔
بچے کو تھیلی سے نکالنے کے بعد طبی ماہر اس کی سانس اور عمومی صحت کا معائنہ کرتا ہے۔ زیادہ تر صورتوں میں بچہ عام پیدائش کی طرح فوراً سانس لینا اور رونا شروع کر دیتا ہے۔ اگر پیدائش کے دوران بچے کو دباؤ کا سامنا ہوا ہو تو سانس چند سیکنڈ بعد شروع ہو سکتی ہے۔ اس کے بعد نگہداشت کی ٹیم ضروری معائنہ اور مدد فراہم کرتی ہے۔
نتیجہ
اگرچہ این کاول پیدائش انتہائی نایاب ہے، لیکن یہ عام پیدائش سے بہت مختلف نہیں ہوتی۔ بچے پر منفی اثر نہیں پڑتا، اور طبی ماہرین و دایائیں عمل کو محفوظ رکھنے کو یقینی بناتی ہیں۔ اس واقعے کو سمجھنے سے نئے والدین کی بے چینی کم ہو سکتی ہے۔
ماخذ:
آن لائن جمع کردہ