رہنما | جنینی صحت کا جائزہ لینے کے لیے رحم کی بالائی اونچائی کی پیمائش
حمل ایک پُرجوش اور حیرت انگیز عمل ہے، اور بہت سی حاملہ مائیں سوچتی ہیں کہ رحم میں ان کا بچہ کس طرح بڑھ رہا ہے۔ رحم کی بالائی اونچائی کی پیمائش جنین کی نشوونما کی نگرانی کا ایک عام طریقہ ہے۔
رحم کی بالائی اونچائی کیا ہے؟
رحم کی بالائی اونچائی حاملہ خاتون کی عانہ کی ہڈی کے اوپری کنارے سے رحم کے اوپری حصے تک کا فاصلہ ہے۔ یہ جنین کی نشوونما کا ایک اہم اشاریہ ہے اور عموماً ہر قبل از پیدائش معائنے کے وقت ناپی جاتی ہے۔ ڈاکٹر جنین کی دھڑکن سن کر، جنین کی حرکت جانچ کر، الٹراساؤنڈ معائنے کر کے اور دیگر طریقوں سے بھی جنینی صحت کا جائزہ لیتے ہیں۔ یہ تمام عوامل مل کر بچے کی نشوونما کی زیادہ درست تصویر فراہم کرتے ہیں۔
رحم کی بالائی اونچائی کیا ظاہر کرتی ہے؟
ڈاکٹر جنین کی نشوونما کا جائزہ لینے کے لیے رحم کی بالائی اونچائی استعمال کرتے ہیں۔ یہ ان متعدد پیمائشوں میں سے ایک ہے جن سے یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ نشوونما معمول کے مطابق جاری ہے یا نہیں۔ رحم کی بالائی اونچائی عموماً حمل کی مدت سے مطابقت رکھتی ہے اور حمل کے ہفتوں کی تعداد کے مطابق ہونی چاہیے۔ متوقع حد کے اندر پیمائش عام طور پر ظاہر کرتی ہے کہ بچہ توقع کے مطابق بڑھ رہا ہے۔ غیر معمولی پیمائش لازماً کسی مسئلے کی نشاندہی نہیں کرتی، کیونکہ بہت سے عوامل اس پر اثر انداز ہو سکتے ہیں؛ ڈاکٹر ضرورت کے مطابق مزید جائزہ لیں گے۔
رحم کی بالائی اونچائی کیسے ناپی جاتی ہے؟
اگرچہ رحم کی بالائی اونچائی ناپنا آسان دکھائی دے سکتا ہے، لیکن تربیت یافتہ طبی ماہرین کو بھی کبھی کبھار دشواری پیش آ سکتی ہے۔ خود ناپنے سے پہلے ڈاکٹر سے کہیں کہ وہ عانہ کی ہڈی اور رحم کے اوپری حصے کی درست جگہ معلوم کرنے کا طریقہ دکھائیں۔
پیمائش کے مراحل:
مثانہ خالی کریں: مطالعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھرا ہوا مثانہ پیمائش میں کئی سینٹی میٹر کا فرق ڈال سکتا ہے۔
سیدھا لیٹیں: ٹانگیں سیدھی رکھ کر کمر کے بل لیٹیں۔
پیمائش کریں: لچک دار میٹرک فیتے کا صفر والا نشان رحم کے اوپری حصے پر رکھیں، اسے پیٹ کے عمودی رخ میں نیچے تک پھیلائیں، اور دوسرے سرے کو عانہ کی ہڈی کے اوپری کنارے پر رکھیں۔ یہی فاصلہ رحم کی بالائی اونچائی ہے۔
رحم کی بالائی اونچائی کتنی ہونی چاہیے؟
24 ہفتوں سے رحم کی بالائی اونچائی سینٹی میٹر میں حمل کی مدت کے ہفتوں کے تقریباً برابر ہونی چاہیے۔ مثال کے طور پر 30 ہفتوں پر یہ عموماً 28 سے 32 سینٹی میٹر ہوتی ہے۔ 2 سینٹی میٹر تک کا فرق معمول کی حد میں رہتا ہے۔
رحم کی بالائی اونچائی پر کون سے عوامل اثر انداز ہو سکتے ہیں؟
جنین کی نشوونما کے علاوہ بہت سے عوامل رحم کی بالائی اونچائی کی پیمائش کو متاثر کر سکتے ہیں۔ پیمائش کم درست ہو سکتی ہے اگر:
حاملہ خاتون کا باڈی ماس انڈیکس (BMI) 30 سے زیادہ ہو؛
اسے رحم کی رسولیوں کی سابقہ بیماری ہو؛
اس کا مثانہ بھرا ہوا ہو؛
پیمائش کے دوران وہ سیدھی نہ لیٹی ہو۔
متوقع سے زیادہ رحم کی بالائی اونچائی کی وجوہات یہ ہو سکتی ہیں:
ایمنیاتی سیال کی زیادتی؛
ایک سے زیادہ بچوں کا حمل؛
متوقع سے بڑا بچہ۔
متوقع سے کم رحم کی بالائی اونچائی کی وجوہات یہ ہو سکتی ہیں:
متوقع سے چھوٹا بچہ؛
ایمنیاتی سیال کی کمی؛
جنین کی نشوونما میں رکاوٹ۔
حمل کی مدت کا غلط اندازہ بھی پیمائش کو متاثر کر سکتا ہے۔
اگر رحم کی بالائی اونچائی کے بارے میں تشویش ہو تو کیا کیا جائے؟
اگر رحم کی بالائی اونچائی توقع سے مختلف ہو تو ڈاکٹر عموماً وجہ معلوم کرنے کے لیے مزید ٹیسٹ، جن میں الٹراساؤنڈ یا جسمانی معائنہ شامل ہے، کرتے ہیں۔ غیر معمولی پیمائش کبھی کبھار جنینی صحت کے مسئلے کی علامت ہو سکتی ہے، لیکن یہ ہمیشہ تشویش کی وجہ نہیں ہوتی۔ ڈاکٹر صحت مند جنینی نشوونما میں مدد کے لیے مزید معائنے اور علاج کو ہر مریضہ کی ضرورت کے مطابق ترتیب دیں گے۔
خلاصہ
رحم کی بالائی اونچائی قبل از پیدائش نگرانی کا ایک عام ذریعہ ہے، جو ڈاکٹروں کو جنین کی نشوونما کا جائزہ لینے اور ممکنہ مسائل کی بروقت نشاندہی میں مدد دیتا ہے۔ اس کی پیمائش کا طریقہ سمجھنے سے حاملہ مائیں صحت مند جنینی نشوونما کی نگرانی کے لیے اپنے ڈاکٹروں کے ساتھ بہتر تعاون کر سکتی ہیں۔
رہنما | جنین کی صحت جانچنے کے لیے رحم کی اونچائی کی نگرانی
رہنما | جنینی صحت کا جائزہ لینے کے لیے رحم کی بالائی اونچائی کی پیمائش
حمل ایک پُرجوش اور حیرت انگیز عمل ہے، اور بہت سی حاملہ مائیں سوچتی ہیں کہ رحم میں ان کا بچہ کس طرح بڑھ رہا ہے۔ رحم کی بالائی اونچائی کی پیمائش جنین کی نشوونما کی نگرانی کا ایک عام طریقہ ہے۔
رحم کی بالائی اونچائی کیا ہے؟
رحم کی بالائی اونچائی حاملہ خاتون کی عانہ کی ہڈی کے اوپری کنارے سے رحم کے اوپری حصے تک کا فاصلہ ہے۔ یہ جنین کی نشوونما کا ایک اہم اشاریہ ہے اور عموماً ہر قبل از پیدائش معائنے کے وقت ناپی جاتی ہے۔ ڈاکٹر جنین کی دھڑکن سن کر، جنین کی حرکت جانچ کر، الٹراساؤنڈ معائنے کر کے اور دیگر طریقوں سے بھی جنینی صحت کا جائزہ لیتے ہیں۔ یہ تمام عوامل مل کر بچے کی نشوونما کی زیادہ درست تصویر فراہم کرتے ہیں۔
رحم کی بالائی اونچائی کیا ظاہر کرتی ہے؟
ڈاکٹر جنین کی نشوونما کا جائزہ لینے کے لیے رحم کی بالائی اونچائی استعمال کرتے ہیں۔ یہ ان متعدد پیمائشوں میں سے ایک ہے جن سے یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ نشوونما معمول کے مطابق جاری ہے یا نہیں۔ رحم کی بالائی اونچائی عموماً حمل کی مدت سے مطابقت رکھتی ہے اور حمل کے ہفتوں کی تعداد کے مطابق ہونی چاہیے۔ متوقع حد کے اندر پیمائش عام طور پر ظاہر کرتی ہے کہ بچہ توقع کے مطابق بڑھ رہا ہے۔ غیر معمولی پیمائش لازماً کسی مسئلے کی نشاندہی نہیں کرتی، کیونکہ بہت سے عوامل اس پر اثر انداز ہو سکتے ہیں؛ ڈاکٹر ضرورت کے مطابق مزید جائزہ لیں گے۔
رحم کی بالائی اونچائی کیسے ناپی جاتی ہے؟
اگرچہ رحم کی بالائی اونچائی ناپنا آسان دکھائی دے سکتا ہے، لیکن تربیت یافتہ طبی ماہرین کو بھی کبھی کبھار دشواری پیش آ سکتی ہے۔ خود ناپنے سے پہلے ڈاکٹر سے کہیں کہ وہ عانہ کی ہڈی اور رحم کے اوپری حصے کی درست جگہ معلوم کرنے کا طریقہ دکھائیں۔
پیمائش کے مراحل:
مثانہ خالی کریں: مطالعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھرا ہوا مثانہ پیمائش میں کئی سینٹی میٹر کا فرق ڈال سکتا ہے۔
سیدھا لیٹیں: ٹانگیں سیدھی رکھ کر کمر کے بل لیٹیں۔
پیمائش کریں: لچک دار میٹرک فیتے کا صفر والا نشان رحم کے اوپری حصے پر رکھیں، اسے پیٹ کے عمودی رخ میں نیچے تک پھیلائیں، اور دوسرے سرے کو عانہ کی ہڈی کے اوپری کنارے پر رکھیں۔ یہی فاصلہ رحم کی بالائی اونچائی ہے۔
رحم کی بالائی اونچائی کتنی ہونی چاہیے؟
24 ہفتوں سے رحم کی بالائی اونچائی سینٹی میٹر میں حمل کی مدت کے ہفتوں کے تقریباً برابر ہونی چاہیے۔ مثال کے طور پر 30 ہفتوں پر یہ عموماً 28 سے 32 سینٹی میٹر ہوتی ہے۔ 2 سینٹی میٹر تک کا فرق معمول کی حد میں رہتا ہے۔
رحم کی بالائی اونچائی پر کون سے عوامل اثر انداز ہو سکتے ہیں؟
جنین کی نشوونما کے علاوہ بہت سے عوامل رحم کی بالائی اونچائی کی پیمائش کو متاثر کر سکتے ہیں۔ پیمائش کم درست ہو سکتی ہے اگر:
حاملہ خاتون کا باڈی ماس انڈیکس (BMI) 30 سے زیادہ ہو؛
اسے رحم کی رسولیوں کی سابقہ بیماری ہو؛
اس کا مثانہ بھرا ہوا ہو؛
پیمائش کے دوران وہ سیدھی نہ لیٹی ہو۔
متوقع سے زیادہ رحم کی بالائی اونچائی کی وجوہات یہ ہو سکتی ہیں:
ایمنیاتی سیال کی زیادتی؛
ایک سے زیادہ بچوں کا حمل؛
متوقع سے بڑا بچہ۔
متوقع سے کم رحم کی بالائی اونچائی کی وجوہات یہ ہو سکتی ہیں:
متوقع سے چھوٹا بچہ؛
ایمنیاتی سیال کی کمی؛
جنین کی نشوونما میں رکاوٹ۔
حمل کی مدت کا غلط اندازہ بھی پیمائش کو متاثر کر سکتا ہے۔
اگر رحم کی بالائی اونچائی کے بارے میں تشویش ہو تو کیا کیا جائے؟
اگر رحم کی بالائی اونچائی توقع سے مختلف ہو تو ڈاکٹر عموماً وجہ معلوم کرنے کے لیے مزید ٹیسٹ، جن میں الٹراساؤنڈ یا جسمانی معائنہ شامل ہے، کرتے ہیں۔ غیر معمولی پیمائش کبھی کبھار جنینی صحت کے مسئلے کی علامت ہو سکتی ہے، لیکن یہ ہمیشہ تشویش کی وجہ نہیں ہوتی۔ ڈاکٹر صحت مند جنینی نشوونما میں مدد کے لیے مزید معائنے اور علاج کو ہر مریضہ کی ضرورت کے مطابق ترتیب دیں گے۔
خلاصہ
رحم کی بالائی اونچائی قبل از پیدائش نگرانی کا ایک عام ذریعہ ہے، جو ڈاکٹروں کو جنین کی نشوونما کا جائزہ لینے اور ممکنہ مسائل کی بروقت نشاندہی میں مدد دیتا ہے۔ اس کی پیمائش کا طریقہ سمجھنے سے حاملہ مائیں صحت مند جنینی نشوونما کی نگرانی کے لیے اپنے ڈاکٹروں کے ساتھ بہتر تعاون کر سکتی ہیں۔
ماخذ:
آن لائن جمع کردہ