خبر | مردوں کے لیے نیا مانع حمل 30 منٹ میں مؤثر، اگلے دن زرخیزی بحال
تحقیق: طلب پر استعمال ہونے والا غیر ہارمونی مردانہ مانع حمل خاندانی منصوبہ بندی بدل سکتا ہے
Nature Communications میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق، سائنس دانوں نے حل پذیر ایڈینائل سائیکلیز (sAC) کے inhibitor پر مبنی، منہ کے ذریعے طلب پر استعمال ہونے والا مردانہ مانع حمل شناخت کیا ہے۔ تحقیق میں یہ مانع حمل غیر زہریلا ثابت ہوا اور اسے مسلسل استعمال کی ضرورت نہیں تھی۔ منہ کے ذریعے ایک خوراک نے 30 منٹ میں عارضی طور پر مردانہ زرخیزی روک دی، جبکہ اگلے دن معمول کی زرخیزی بحال ہو گئی، جس سے مردانہ مانع حمل کے لیے ایک نیا اختیار فراہم ہو سکتا ہے۔
پس منظر: مردانہ مانع حمل کے محدود اختیارات کا حل
اس وقت مردانہ مانع حمل کے اختیارات کنڈوم اور نس بندی تک محدود ہیں، اور دونوں کی اپنی حدود ہیں۔ اندازہ ہے کہ دنیا بھر میں 50% حمل غیر ارادی ہوتے ہیں، جس سے زیادہ سہل اور مؤثر مردانہ مانع حمل طریقوں کی ضرورت واضح ہوتی ہے۔
تحقیق کا بنیادی مقصد ایسا مؤثر اور قابلِ واپسی طریقہ تلاش کرنا تھا جس میں ہارمونی مانع حمل ادویات کے مضر اثرات نہ ہوں۔ سائنس دان اس سے پہلے ہارمونی اور غیر ہارمونی طریقوں کی آزمائش کر چکے تھے، مثلاً سپرم بننے کے عمل میں رکاوٹ ڈالنا یا سپرم کی حرکت کو دبانا۔ ان طریقوں کو مؤثر ہونے میں اکثر کئی ماہ لگتے ہیں، اور استعمال بند کرنے کے بعد زرخیزی بحال ہونے میں بھی کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔
sAC inhibitor کی اہم دریافت
محققین نے حل پذیر ایڈینائل سائیکلیز (sAC) پر توجہ مرکوز کی، جو سپرم کی حرکت میں شامل ایک اہم enzyme ہے۔ انہوں نے دریافت کیا کہ sAC کو روکنے سے سپرم کی سرگرمی مؤثر طور پر دبائی جا سکتی ہے اور سپرم کو بیضہ بارآور کرنے سے روکا جا سکتا ہے۔
سائنس دانوں نے TDI-11861 نامی sAC inhibitor تیار کیا۔ یہ مرکب منہ کے ذریعے لیا جاتا ہے، کم مقدار میں انتہائی مؤثر ہے اور inhibitor سے پاک ماحول، مثلاً اندام نہانی، میں فعال رہتا ہے۔ TDI-11861 کی ایک خوراک نے چوہوں میں سپرم کی حرکت کو تیزی سے اور نمایاں طور پر دبایا، جبکہ خصیوں، ایپیڈیڈمس یا مجموعی صحت پر مضر اثرات نہیں ہوئے۔
طبی اہمیت اور مستقبل کے امکانات
روایتی مانع حمل ادویات کے برعکس، TDI-11861 کو مسلسل استعمال کرنے کی ضرورت نہیں۔ تحقیق میں معلوم ہوا کہ یہ 30 منٹ میں مؤثر ہوا اور استعمال کے 24 گھنٹے بعد زرخیزی بحال ہو گئی۔ اس سے طویل مدتی دوا کے مضر اثرات کا خطرہ کم ہو سکتا ہے اور مردوں کو خاندانی منصوبہ بندی کا زیادہ لچک دار اختیار مل سکتا ہے۔
اگرچہ موجودہ تحقیق چوہوں پر کی گئی، محققین پرامید ہیں کہ مستقبل میں طبی آزمائشوں کے ذریعے انسانوں میں اس طریقے کی حفاظت اور مؤثریت کا جائزہ لیا جا سکے گا۔ کامیاب ہونے کی صورت میں، یہ طلب پر استعمال ہونے والا مانع حمل دنیا بھر میں مردانہ مانع حمل اور خاندانی منصوبہ بندی کو نمایاں طور پر بدل سکتا ہے۔
خبر | مردوں کے لیے نیا مانع حمل 30 منٹ میں مؤثر، اگلے دن زرخیزی بحال
خبر | مردوں کے لیے نیا مانع حمل 30 منٹ میں مؤثر، اگلے دن زرخیزی بحال
تحقیق: طلب پر استعمال ہونے والا غیر ہارمونی مردانہ مانع حمل خاندانی منصوبہ بندی بدل سکتا ہے
Nature Communications میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق، سائنس دانوں نے حل پذیر ایڈینائل سائیکلیز (sAC) کے inhibitor پر مبنی، منہ کے ذریعے طلب پر استعمال ہونے والا مردانہ مانع حمل شناخت کیا ہے۔ تحقیق میں یہ مانع حمل غیر زہریلا ثابت ہوا اور اسے مسلسل استعمال کی ضرورت نہیں تھی۔ منہ کے ذریعے ایک خوراک نے 30 منٹ میں عارضی طور پر مردانہ زرخیزی روک دی، جبکہ اگلے دن معمول کی زرخیزی بحال ہو گئی، جس سے مردانہ مانع حمل کے لیے ایک نیا اختیار فراہم ہو سکتا ہے۔
پس منظر: مردانہ مانع حمل کے محدود اختیارات کا حل
اس وقت مردانہ مانع حمل کے اختیارات کنڈوم اور نس بندی تک محدود ہیں، اور دونوں کی اپنی حدود ہیں۔ اندازہ ہے کہ دنیا بھر میں 50% حمل غیر ارادی ہوتے ہیں، جس سے زیادہ سہل اور مؤثر مردانہ مانع حمل طریقوں کی ضرورت واضح ہوتی ہے۔
تحقیق کا بنیادی مقصد ایسا مؤثر اور قابلِ واپسی طریقہ تلاش کرنا تھا جس میں ہارمونی مانع حمل ادویات کے مضر اثرات نہ ہوں۔ سائنس دان اس سے پہلے ہارمونی اور غیر ہارمونی طریقوں کی آزمائش کر چکے تھے، مثلاً سپرم بننے کے عمل میں رکاوٹ ڈالنا یا سپرم کی حرکت کو دبانا۔ ان طریقوں کو مؤثر ہونے میں اکثر کئی ماہ لگتے ہیں، اور استعمال بند کرنے کے بعد زرخیزی بحال ہونے میں بھی کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔
sAC inhibitor کی اہم دریافت
محققین نے حل پذیر ایڈینائل سائیکلیز (sAC) پر توجہ مرکوز کی، جو سپرم کی حرکت میں شامل ایک اہم enzyme ہے۔ انہوں نے دریافت کیا کہ sAC کو روکنے سے سپرم کی سرگرمی مؤثر طور پر دبائی جا سکتی ہے اور سپرم کو بیضہ بارآور کرنے سے روکا جا سکتا ہے۔
سائنس دانوں نے TDI-11861 نامی sAC inhibitor تیار کیا۔ یہ مرکب منہ کے ذریعے لیا جاتا ہے، کم مقدار میں انتہائی مؤثر ہے اور inhibitor سے پاک ماحول، مثلاً اندام نہانی، میں فعال رہتا ہے۔ TDI-11861 کی ایک خوراک نے چوہوں میں سپرم کی حرکت کو تیزی سے اور نمایاں طور پر دبایا، جبکہ خصیوں، ایپیڈیڈمس یا مجموعی صحت پر مضر اثرات نہیں ہوئے۔
طبی اہمیت اور مستقبل کے امکانات
روایتی مانع حمل ادویات کے برعکس، TDI-11861 کو مسلسل استعمال کرنے کی ضرورت نہیں۔ تحقیق میں معلوم ہوا کہ یہ 30 منٹ میں مؤثر ہوا اور استعمال کے 24 گھنٹے بعد زرخیزی بحال ہو گئی۔ اس سے طویل مدتی دوا کے مضر اثرات کا خطرہ کم ہو سکتا ہے اور مردوں کو خاندانی منصوبہ بندی کا زیادہ لچک دار اختیار مل سکتا ہے۔
اگرچہ موجودہ تحقیق چوہوں پر کی گئی، محققین پرامید ہیں کہ مستقبل میں طبی آزمائشوں کے ذریعے انسانوں میں اس طریقے کی حفاظت اور مؤثریت کا جائزہ لیا جا سکے گا۔ کامیاب ہونے کی صورت میں، یہ طلب پر استعمال ہونے والا مانع حمل دنیا بھر میں مردانہ مانع حمل اور خاندانی منصوبہ بندی کو نمایاں طور پر بدل سکتا ہے۔
کہانی کا ماخذ:
آن لائن جمع کردہ