امریکی سینیٹ نے حال ہی میں فوجی اہلکاروں کے لیے ان وٹرو فرٹیلائزیشن (IVF) کی مالی معاونت بڑھانے کی تجویز مسترد کر دی۔ ڈیموکریٹ قانون سازوں کی پیش کردہ اس تجویز کا مقصد بانجھ پن کا سامنا کرنے والے فعال ڈیوٹی اہلکاروں اور ان کے زیرِ کفالت افراد کو مزید سرکاری مدد دینا اور ان کا مالی بوجھ کم کرنا تھا۔ تاہم ریپبلکن قانون سازوں کی مخالفت کے باعث یہ اقدام منظور نہ ہو سکا، جس سے IVF کے ذریعے اپنی اولاد کی خواہش پوری کرنے والے بہت سے فوجی خاندان مایوس ہوئے۔
معلوم ہوا ہے کہ موجودہ امریکی فوجی صحت بیمہ پروگرام (Tricare) صرف مخصوص حالات میں IVF کی مالی معاونت فراہم کرتا ہے اور پابندیاں سخت ہیں، مثلاً یہ سہولت صرف ان اہلکاروں تک محدود ہے جو ڈیوٹی کے دوران لگنے والی چوٹوں کے باعث بانجھ ہوئے ہوں۔ نئی تجویز میں ان پابندیوں کو نرم کرنے کی کوشش کی گئی تھی تاکہ زرخیزی کی ضرورت رکھنے والے مزید فوجی خاندان بھی فائدہ اٹھا سکیں۔ تاہم ریپبلکنز نے مؤقف اختیار کیا کہ معاونت بڑھانے سے دفاعی بجٹ پر بوجھ بڑھے گا اور دیگر فوجی اخراجات کو ترجیح دینی چاہیے، چنانچہ انہوں نے اس کے خلاف ووٹ دیا۔
چینی زبان بولنے والی برادری کے سرحد پار طبی قارئین کے لیے یہ خبر مختلف ممالک کی معاون تولیدی پالیسیوں کے فرق کو ظاہر کرتی ہے۔ امریکہ میں IVF کے اخراجات زیادہ ہیں، ایک چکر پر دسیوں ہزار امریکی ڈالر خرچ ہو سکتے ہیں اور ہر بیمہ منصوبہ اس کی کوریج نہیں دیتا۔ اگر فوجی خاندان سرکاری معاونت حاصل نہ کر سکیں تو بہت سے لوگوں کو دوسرے ممالک کے تولیدی مراکز سے مدد لینے کے لیے اپنی جیب سے ادائیگی کرنا پڑ سکتی ہے، جس نے بعض مریضوں کو بیرونِ ملک طبی اختیارات پر غور کرنے پر بھی آمادہ کیا ہے۔
فی الحال امریکی فوج اپنی موجودہ IVF معاونتی پالیسی برقرار رکھے ہوئے ہے اور مستقبل میں نئی تجاویز یا تبدیلیاں سامنے آئیں گی یا نہیں، یہ دیکھنا باقی ہے۔ زرخیزی کی ضرورت رکھنے والے فوجی خاندانوں کو مشورہ ہے کہ متعلقہ پالیسی پیش رفت پر نظر رکھیں اور اپنے حقوق و دستیاب علاج کے اختیارات سمجھنے کے لیے ماہر طبی اداروں سے مشاورت کریں۔
ماخذ: The New York Times۔ یہ مضمون عمومی معلوماتی حوالے کے لیے ترجمہ شدہ رپورٹ ہے۔
خبریں | ریپبلکن پارٹی نے امریکی فوج کے لیے IVF امداد بڑھانے کا بل مسترد کر دیا
امریکی سینیٹ نے حال ہی میں فوجی اہلکاروں کے لیے ان وٹرو فرٹیلائزیشن (IVF) کی مالی معاونت بڑھانے کی تجویز مسترد کر دی۔ ڈیموکریٹ قانون سازوں کی پیش کردہ اس تجویز کا مقصد بانجھ پن کا سامنا کرنے والے فعال ڈیوٹی اہلکاروں اور ان کے زیرِ کفالت افراد کو مزید سرکاری مدد دینا اور ان کا مالی بوجھ کم کرنا تھا۔ تاہم ریپبلکن قانون سازوں کی مخالفت کے باعث یہ اقدام منظور نہ ہو سکا، جس سے IVF کے ذریعے اپنی اولاد کی خواہش پوری کرنے والے بہت سے فوجی خاندان مایوس ہوئے۔
معلوم ہوا ہے کہ موجودہ امریکی فوجی صحت بیمہ پروگرام (Tricare) صرف مخصوص حالات میں IVF کی مالی معاونت فراہم کرتا ہے اور پابندیاں سخت ہیں، مثلاً یہ سہولت صرف ان اہلکاروں تک محدود ہے جو ڈیوٹی کے دوران لگنے والی چوٹوں کے باعث بانجھ ہوئے ہوں۔ نئی تجویز میں ان پابندیوں کو نرم کرنے کی کوشش کی گئی تھی تاکہ زرخیزی کی ضرورت رکھنے والے مزید فوجی خاندان بھی فائدہ اٹھا سکیں۔ تاہم ریپبلکنز نے مؤقف اختیار کیا کہ معاونت بڑھانے سے دفاعی بجٹ پر بوجھ بڑھے گا اور دیگر فوجی اخراجات کو ترجیح دینی چاہیے، چنانچہ انہوں نے اس کے خلاف ووٹ دیا۔
چینی زبان بولنے والی برادری کے سرحد پار طبی قارئین کے لیے یہ خبر مختلف ممالک کی معاون تولیدی پالیسیوں کے فرق کو ظاہر کرتی ہے۔ امریکہ میں IVF کے اخراجات زیادہ ہیں، ایک چکر پر دسیوں ہزار امریکی ڈالر خرچ ہو سکتے ہیں اور ہر بیمہ منصوبہ اس کی کوریج نہیں دیتا۔ اگر فوجی خاندان سرکاری معاونت حاصل نہ کر سکیں تو بہت سے لوگوں کو دوسرے ممالک کے تولیدی مراکز سے مدد لینے کے لیے اپنی جیب سے ادائیگی کرنا پڑ سکتی ہے، جس نے بعض مریضوں کو بیرونِ ملک طبی اختیارات پر غور کرنے پر بھی آمادہ کیا ہے۔
فی الحال امریکی فوج اپنی موجودہ IVF معاونتی پالیسی برقرار رکھے ہوئے ہے اور مستقبل میں نئی تجاویز یا تبدیلیاں سامنے آئیں گی یا نہیں، یہ دیکھنا باقی ہے۔ زرخیزی کی ضرورت رکھنے والے فوجی خاندانوں کو مشورہ ہے کہ متعلقہ پالیسی پیش رفت پر نظر رکھیں اور اپنے حقوق و دستیاب علاج کے اختیارات سمجھنے کے لیے ماہر طبی اداروں سے مشاورت کریں۔
ماخذ: The New York Times۔ یہ مضمون عمومی معلوماتی حوالے کے لیے ترجمہ شدہ رپورٹ ہے۔