معلومات | دونوں شریکِ حیات میں بانجھ پن کی علامات اور وجوہات
بانجھ پن سے مراد مانعِ حمل کے بغیر باقاعدہ جنسی تعلق کے باوجود چھ ماہ سے ایک سال تک حمل ٹھہرنے میں ناکامی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ جوڑا کبھی اولاد حاصل نہیں کر سکتا۔ ماہرین کی نگہداشت سے بانجھ پن کا سامنا کرنے والے تقریباً 50% جوڑے بالآخر قدرتی طور پر یا طبی علاج کے ذریعے حاملہ ہو جاتے ہیں۔
خواتین میں بانجھ پن کی ممکنہ علامات
بنیادی علامت حمل ٹھہرنے میں دشواری ہے۔ دیگر علامات معمولی ہو سکتی ہیں، لیکن بعض تبدیلیاں زرخیزی کے مسئلے کی نشاندہی کر سکتی ہیں، جن میں شامل ہیں:
غیر معمولی ماہواری: معمول سے بہت زیادہ یا کم خون آنا۔
بے قاعدہ ماہواری: ماہواری کا دورانیہ ہر ماہ مختلف ہونا۔
ماہواری کا نہ آنا: ماہواری کا کبھی شروع نہ ہونا یا اچانک بند ہو جانا۔
دردناک ماہواری: ماہواری کے دوران کمر، پیڑو میں درد اور پیٹ میں مروڑ۔
بعض صورتیں ہارمون کے عدم توازن سے وابستہ ہوتی ہیں اور ان میں شامل ہو سکتا ہے:
جلد میں تبدیلیاں، مثلاً مہاسے
جنسی خواہش میں تبدیلی
اوپری ہونٹ، سینے یا ٹھوڑی پر بالوں کی زائد نشوونما
بال جھڑنا یا بالوں کا پتلا ہونا
وزن بڑھنا
دیگر ممکنہ علامات میں دودھ نہ پلانے کے باوجود چھاتی سے دودھ آنا اور جنسی تعلق کے دوران درد شامل ہیں۔
خواتین میں بانجھ پن کی وجوہات
ایک بڑی وجہ بیضہ بننے کا عمل رک جانا ہے، جو عام طور پر پولی سسٹک اووری سنڈروم (PCOS) کے باعث ہوتا ہے۔ دیگر ممکنہ وجوہات میں شامل ہیں:
فلوپین ٹیوبز کے مسائل، جن میں انفیکشن یا اینڈومیٹریوسس کے باعث رکاوٹ بھی شامل ہے۔
تمباکو نوشی۔
وزن کا زیادہ یا کم ہونا۔
عمر: عمر بڑھنے کے ساتھ خواتین کی زرخیزی کم ہوتی ہے، خاص طور پر 35 کے بعد، اور 45 کے بعد حمل ٹھہرنے کا امکان بہت کم ہو جاتا ہے۔
مردوں میں بانجھ پن کی ممکنہ علامات
مردانہ بانجھ پن میں اکثر اس وقت تک واضح علامات نہیں ہوتیں جب تک جوڑا حمل ٹھہرانے کی کوشش نہ کرے۔ ممکنہ علامات میں شامل ہیں:
بالوں کی نشوونما میں تبدیلی
جنسی خواہش میں تبدیلی
خصیوں میں درد، گلٹیاں یا سوجن
عضو میں تناؤ یا انزال کے مسائل
چھوٹے اور سخت خصیے
مردوں میں بانجھ پن کی وجوہات
عام وجوہات نطفوں سے متعلق ہوتی ہیں، جن میں شامل ہیں:
نطفوں کی کم تعداد یا منی میں نطفوں کا نہ ہونا۔
نطفوں کی کمزور حرکت۔
نطفوں کی ساخت میں بے قاعدگی۔
وَیس ڈیفرنس کی نالیوں میں رکاوٹ۔
دیگر وجوہات میں خصیوں کی چوٹ اور نقصان دہ کیمیکلز یا ادویات سے واسطہ شامل ہو سکتا ہے۔ تمباکو نوشی، کثرت سے شراب نوشی اور 40 سال سے زیادہ عمر بھی مردانہ زرخیزی کم کر سکتی ہے۔
ڈاکٹر سے کب رجوع کرنا چاہیے؟
35 سال سے کم عمر افراد کو کامیابی کے بغیر ایک سال تک حمل ٹھہرانے کی کوشش کے بعد ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے؛ 35 سال یا اس سے زیادہ عمر کی خواتین کو 6 ماہ بعد معائنہ کرانا چاہیے۔ ٹیسٹوں میں خون، پیشاب اور امیجنگ کے جائزے شامل ہو سکتے ہیں، جبکہ مردوں کے لیے نطفوں کی صحت جانچنے کی خاطر منی کا تجزیہ کیا جا سکتا ہے۔
جلد تشخیص اور علاج سے حمل کے امکانات بہتر ہو سکتے ہیں، اس لیے جوڑوں کو جلد از جلد ماہرین سے رجوع کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔
معلومات | دونوں شریکِ حیات میں بانجھ پن کی علامات اور وجوہات
معلومات | دونوں شریکِ حیات میں بانجھ پن کی علامات اور وجوہات
بانجھ پن سے مراد مانعِ حمل کے بغیر باقاعدہ جنسی تعلق کے باوجود چھ ماہ سے ایک سال تک حمل ٹھہرنے میں ناکامی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ جوڑا کبھی اولاد حاصل نہیں کر سکتا۔ ماہرین کی نگہداشت سے بانجھ پن کا سامنا کرنے والے تقریباً 50% جوڑے بالآخر قدرتی طور پر یا طبی علاج کے ذریعے حاملہ ہو جاتے ہیں۔
خواتین میں بانجھ پن کی ممکنہ علامات
بنیادی علامت حمل ٹھہرنے میں دشواری ہے۔ دیگر علامات معمولی ہو سکتی ہیں، لیکن بعض تبدیلیاں زرخیزی کے مسئلے کی نشاندہی کر سکتی ہیں، جن میں شامل ہیں:
غیر معمولی ماہواری: معمول سے بہت زیادہ یا کم خون آنا۔
بے قاعدہ ماہواری: ماہواری کا دورانیہ ہر ماہ مختلف ہونا۔
ماہواری کا نہ آنا: ماہواری کا کبھی شروع نہ ہونا یا اچانک بند ہو جانا۔
دردناک ماہواری: ماہواری کے دوران کمر، پیڑو میں درد اور پیٹ میں مروڑ۔
بعض صورتیں ہارمون کے عدم توازن سے وابستہ ہوتی ہیں اور ان میں شامل ہو سکتا ہے:
جلد میں تبدیلیاں، مثلاً مہاسے
جنسی خواہش میں تبدیلی
اوپری ہونٹ، سینے یا ٹھوڑی پر بالوں کی زائد نشوونما
بال جھڑنا یا بالوں کا پتلا ہونا
وزن بڑھنا
دیگر ممکنہ علامات میں دودھ نہ پلانے کے باوجود چھاتی سے دودھ آنا اور جنسی تعلق کے دوران درد شامل ہیں۔
خواتین میں بانجھ پن کی وجوہات
ایک بڑی وجہ بیضہ بننے کا عمل رک جانا ہے، جو عام طور پر پولی سسٹک اووری سنڈروم (PCOS) کے باعث ہوتا ہے۔ دیگر ممکنہ وجوہات میں شامل ہیں:
فلوپین ٹیوبز کے مسائل، جن میں انفیکشن یا اینڈومیٹریوسس کے باعث رکاوٹ بھی شامل ہے۔
تمباکو نوشی۔
وزن کا زیادہ یا کم ہونا۔
عمر: عمر بڑھنے کے ساتھ خواتین کی زرخیزی کم ہوتی ہے، خاص طور پر 35 کے بعد، اور 45 کے بعد حمل ٹھہرنے کا امکان بہت کم ہو جاتا ہے۔
مردوں میں بانجھ پن کی ممکنہ علامات
مردانہ بانجھ پن میں اکثر اس وقت تک واضح علامات نہیں ہوتیں جب تک جوڑا حمل ٹھہرانے کی کوشش نہ کرے۔ ممکنہ علامات میں شامل ہیں:
بالوں کی نشوونما میں تبدیلی
جنسی خواہش میں تبدیلی
خصیوں میں درد، گلٹیاں یا سوجن
عضو میں تناؤ یا انزال کے مسائل
چھوٹے اور سخت خصیے
مردوں میں بانجھ پن کی وجوہات
عام وجوہات نطفوں سے متعلق ہوتی ہیں، جن میں شامل ہیں:
نطفوں کی کم تعداد یا منی میں نطفوں کا نہ ہونا۔
نطفوں کی کمزور حرکت۔
نطفوں کی ساخت میں بے قاعدگی۔
وَیس ڈیفرنس کی نالیوں میں رکاوٹ۔
دیگر وجوہات میں خصیوں کی چوٹ اور نقصان دہ کیمیکلز یا ادویات سے واسطہ شامل ہو سکتا ہے۔ تمباکو نوشی، کثرت سے شراب نوشی اور 40 سال سے زیادہ عمر بھی مردانہ زرخیزی کم کر سکتی ہے۔
ڈاکٹر سے کب رجوع کرنا چاہیے؟
35 سال سے کم عمر افراد کو کامیابی کے بغیر ایک سال تک حمل ٹھہرانے کی کوشش کے بعد ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے؛ 35 سال یا اس سے زیادہ عمر کی خواتین کو 6 ماہ بعد معائنہ کرانا چاہیے۔ ٹیسٹوں میں خون، پیشاب اور امیجنگ کے جائزے شامل ہو سکتے ہیں، جبکہ مردوں کے لیے نطفوں کی صحت جانچنے کی خاطر منی کا تجزیہ کیا جا سکتا ہے۔
جلد تشخیص اور علاج سے حمل کے امکانات بہتر ہو سکتے ہیں، اس لیے جوڑوں کو جلد از جلد ماہرین سے رجوع کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔
کہانی کا ماخذ:
آن لائن جمع کردہ