معلومات | خالی حمل: ابتدائی حمل ضائع ہونے کی عام وجوہ اور علاج کے اختیارات
خالی حمل، جسے این ایمبریونک حمل بھی کہا جاتا ہے، ابتدائی حمل ضائع ہونے کی عام قسم ہے۔ بارآور بیضہ رحم میں پیوست ہوتا ہے مگر جنین نہیں بنتا۔ یہ ابتدائی حمل ضائع ہونے کے تقریباً نصف کیسز کا سبب بنتا ہے۔
خالی حمل کیسے بنتا ہے
ابتدائی حمل میں بارآور بیضہ رحم کی جھلی سے جڑ جاتا ہے۔ جنین عموماً پانچ سے چھ ہفتوں میں نظر آتا ہے، جب حمل کی تھیلی کا قطر تقریباً 18 ملی میٹر ہوتا ہے۔ خالی حمل میں تھیلی بنتی اور بڑھتی رہتی ہے مگر جنین نہیں بنتا۔
یہ کیفیت عموماً بیضے یا سپرم کی کروموسومی خرابیوں سے وابستہ ہوتی ہے، اور خلیوں کی غیر معمولی تقسیم بھی شامل ہو سکتی ہے۔ جسم ان خرابیوں کی وجہ سے حمل ختم کر دیتا ہے۔ اسقاط حمل عورت کے کسی عمل یا کوتاہی سے نہیں ہوتا؛ اسے خود کو الزام نہیں دینا چاہیے۔
علامات
ابتدائی علامات عام حمل جیسی ہو سکتی ہیں، جیسے مثبت ٹیسٹ یا ماہواری کا رک جانا۔ بعد کی علامات میں یہ شامل ہو سکتی ہیں:
پیٹ میں مروڑ
اندام نہانی سے خون آنا یا دھبے آنا
معمول سے زیادہ ماہواری کا خون
یہ علامات اسقاط حمل کی طرف اشارہ کر سکتی ہیں، اگرچہ پہلی سہ ماہی میں خون آنا ہمیشہ حمل ضائع ہونے کا مطلب نہیں۔ فوری طبی معائنہ ضروری ہے۔
تشخیص
خالی حمل میں حمل کا ٹیسٹ مثبت اور ماہواری بند ہو سکتی ہے، کیونکہ انسانی کوریونک گوناڈوٹروپن (hCG) عموماً بڑھتا ہے۔ پیوست ہونے کے بعد نال hCG بناتی ہے اور جنین کے بغیر بھی کچھ عرصہ بڑھ سکتی ہے۔ تشخیص کے لیے عموماً الٹراساؤنڈ سے تصدیق کی جاتی ہے کہ حمل کی تھیلی میں جنین نہیں۔
حمل ضائع ہونے کے بعد علاج
تشخیص کے بعد مریضہ کو اگلے اقدامات ڈاکٹر سے طے کرنے چاہییں۔ بعض کو ڈائلیشن اینڈ کیوریٹیج (D&C) درکار ہو سکتی ہے، جس میں رحم کا منہ کھول کر باقی بافت نکالی جاتی ہے۔ اس سے جسمانی و جذباتی بحالی تیز ہو سکتی ہے اور ضرورت پر پیتھالوجسٹ بافت کا معائنہ کر سکتا ہے۔
دوسرا اختیار مائفی پریسٹون جیسی دوا ہے۔ عموماً ہسپتال میں داخلہ ضروری نہیں، مگر بافت کے مکمل اخراج میں کئی دن لگ سکتے ہیں اور زیادہ خون یا مضر اثرات ہو سکتے ہیں۔ دونوں طریقوں میں درد یا مروڑ ہو سکتے ہیں جنہیں دوا سے قابو کیا جا سکتا ہے۔
کچھ خواتین انتظار پر مبنی علاج منتخب کرتی ہیں اور جسم کو بافت قدرتی طور پر خارج کرنے دیتی ہیں۔ حفاظت کے لیے اس فیصلے پر بھی ڈاکٹر سے تفصیل سے بات کرنی چاہیے۔
مستقبل کے حمل کی منصوبہ بندی
اسقاط حمل کے بعد ڈاکٹر عموماً دوبارہ کوشش سے پہلے کم از کم ایک سے تین ماہواری کے چکروں تک انتظار کا مشورہ دیتے ہیں، تاکہ جسمانی بحالی اور ذہنی موافقت کا وقت ملے۔
رہنما | خالی حمل: ابتدائی حمل ضائع ہونے کی عام وجہ اور کیا کیا جائے
معلومات | خالی حمل: ابتدائی حمل ضائع ہونے کی عام وجوہ اور علاج کے اختیارات
خالی حمل، جسے این ایمبریونک حمل بھی کہا جاتا ہے، ابتدائی حمل ضائع ہونے کی عام قسم ہے۔ بارآور بیضہ رحم میں پیوست ہوتا ہے مگر جنین نہیں بنتا۔ یہ ابتدائی حمل ضائع ہونے کے تقریباً نصف کیسز کا سبب بنتا ہے۔
خالی حمل کیسے بنتا ہے
ابتدائی حمل میں بارآور بیضہ رحم کی جھلی سے جڑ جاتا ہے۔ جنین عموماً پانچ سے چھ ہفتوں میں نظر آتا ہے، جب حمل کی تھیلی کا قطر تقریباً 18 ملی میٹر ہوتا ہے۔ خالی حمل میں تھیلی بنتی اور بڑھتی رہتی ہے مگر جنین نہیں بنتا۔
یہ کیفیت عموماً بیضے یا سپرم کی کروموسومی خرابیوں سے وابستہ ہوتی ہے، اور خلیوں کی غیر معمولی تقسیم بھی شامل ہو سکتی ہے۔ جسم ان خرابیوں کی وجہ سے حمل ختم کر دیتا ہے۔ اسقاط حمل عورت کے کسی عمل یا کوتاہی سے نہیں ہوتا؛ اسے خود کو الزام نہیں دینا چاہیے۔
علامات
ابتدائی علامات عام حمل جیسی ہو سکتی ہیں، جیسے مثبت ٹیسٹ یا ماہواری کا رک جانا۔ بعد کی علامات میں یہ شامل ہو سکتی ہیں:
پیٹ میں مروڑ
اندام نہانی سے خون آنا یا دھبے آنا
معمول سے زیادہ ماہواری کا خون
یہ علامات اسقاط حمل کی طرف اشارہ کر سکتی ہیں، اگرچہ پہلی سہ ماہی میں خون آنا ہمیشہ حمل ضائع ہونے کا مطلب نہیں۔ فوری طبی معائنہ ضروری ہے۔
تشخیص
خالی حمل میں حمل کا ٹیسٹ مثبت اور ماہواری بند ہو سکتی ہے، کیونکہ انسانی کوریونک گوناڈوٹروپن (hCG) عموماً بڑھتا ہے۔ پیوست ہونے کے بعد نال hCG بناتی ہے اور جنین کے بغیر بھی کچھ عرصہ بڑھ سکتی ہے۔ تشخیص کے لیے عموماً الٹراساؤنڈ سے تصدیق کی جاتی ہے کہ حمل کی تھیلی میں جنین نہیں۔
حمل ضائع ہونے کے بعد علاج
تشخیص کے بعد مریضہ کو اگلے اقدامات ڈاکٹر سے طے کرنے چاہییں۔ بعض کو ڈائلیشن اینڈ کیوریٹیج (D&C) درکار ہو سکتی ہے، جس میں رحم کا منہ کھول کر باقی بافت نکالی جاتی ہے۔ اس سے جسمانی و جذباتی بحالی تیز ہو سکتی ہے اور ضرورت پر پیتھالوجسٹ بافت کا معائنہ کر سکتا ہے۔
دوسرا اختیار مائفی پریسٹون جیسی دوا ہے۔ عموماً ہسپتال میں داخلہ ضروری نہیں، مگر بافت کے مکمل اخراج میں کئی دن لگ سکتے ہیں اور زیادہ خون یا مضر اثرات ہو سکتے ہیں۔ دونوں طریقوں میں درد یا مروڑ ہو سکتے ہیں جنہیں دوا سے قابو کیا جا سکتا ہے۔
کچھ خواتین انتظار پر مبنی علاج منتخب کرتی ہیں اور جسم کو بافت قدرتی طور پر خارج کرنے دیتی ہیں۔ حفاظت کے لیے اس فیصلے پر بھی ڈاکٹر سے تفصیل سے بات کرنی چاہیے۔
مستقبل کے حمل کی منصوبہ بندی
اسقاط حمل کے بعد ڈاکٹر عموماً دوبارہ کوشش سے پہلے کم از کم ایک سے تین ماہواری کے چکروں تک انتظار کا مشورہ دیتے ہیں، تاکہ جسمانی بحالی اور ذہنی موافقت کا وقت ملے۔
ماخذ:
آن لائن سے جمع کردہ