خبر | کیا اسپرم کا معیار عمرِ حیات کی پیش گوئی کر سکتا ہے؟ ڈنمارک کی تحقیق میں تقریباً 80,000 مردوں کا جائزہ لیا گیا اور اسپرم و لمبی عمر میں حیرت انگیز تعلق سامنے آیا
اسپرم کا معیار نہ صرف زرخیزی بلکہ مرد کی عمرِ حیات کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔
کوپن ہیگن یونیورسٹی ہسپتال کے محققین نے منی کے معیار اور عمرِ حیات کے درمیان نمایاں تعلق پایا: زیادہ متحرک اسپرم والے مرد عموماً زیادہ عرصہ زندہ رہے۔ تحقیق میں 78,284 مردوں کا زیادہ سے زیادہ 50 سال تک جائزہ لیا گیا اور اسے Human Reproduction میں شائع کیا گیا۔
120 ملین متحرک اسپرم کا تعلق زندگی کے مزید دو یا تین سال سے؟
اس تحقیق کی مشترکہ قیادت یونیورسٹی آف کوپن ہیگن کے رِگشاسپیتالیٹ میں شعبۂ نمو و تولید کی ڈاکٹر لیرکے پرسکورن اور مردانہ بانجھ پن کے ماہر ڈاکٹر نیلس یورگنسن نے کی۔ انہوں نے 80,000 کے قریب مردوں کے منی کے نمونوں کا تجزیہ کیا، جو 1965 سے 2015 کے درمیان لیے گئے تھے۔ بیشتر افراد شریکِ حیات کی بانجھ پن کے باعث کوپن ہیگن کی سرکاری منی تجزیہ لیبارٹری گئے تھے۔
تحقیق کے نتائج:
جن مردوں میں کل متحرک اسپرم کی تعداد 120 ملین سے زیادہ تھی، وہ ان مردوں سے اوسطاً دو سے تین سال زیادہ زندہ رہے جن میں یہ تعداد 0 سے 5 ملین تھی۔
یعنی اسپرم کی بہتر حرکت پذیری کا تعلق طویل عمر سے ہو سکتا ہے۔
پیروی کے دوران 8,600 مرد انتقال کر گئے، جو نمونے کا تقریباً 11% تھا۔ ٹیم نے 50,000 سے زیادہ ایسے مردوں کا بھی تجزیہ کیا جنہوں نے 1987 کے بعد نمونے دیے تھے؛ اس میں تعلیمی سطح اور گزشتہ دہائی کی طبی تاریخ کو مدِنظر رکھا گیا۔
واضح نتیجہ: یہ تعلق صرف بیماری سے واضح نہیں ہوا
ڈاکٹر پرسکورن نے کہا، “ہم جاننا چاہتے تھے کہ آیا منی کا معیار واقعی لمبی عمر سے وابستہ ہے اور آیا بیماری یا سماجی پس منظر اس تعلق کی وضاحت کرتے ہیں۔ اعداد و شمار سے ظاہر ہوا کہ تعلیم اور معلوم بیماریوں کو مدِنظر رکھنے کے بعد بھی کمزور اسپرم معیار والے مرد عموماً کم عمر پاتے تھے۔”
اس لیے اسپرم کا ناقص معیار بیرونی عوامل کے بجائے بنیادی صحت کے مسائل کی علامت ہو سکتا ہے۔
کیا اسپرم کا معیار صحت کا اشاریہ ہے؟ کم عمر مردوں میں بھی جانچ اہم ہو سکتی ہے
ڈاکٹر یورگنسن نے کہا کہ اس دریافت کا مطلب یہ ہو سکتا ہے:
“منی کا تجزیہ صرف زرخیزی کا جائزہ نہیں لیتا؛ یہ پوشیدہ صحت کے خطرات کی ابتدائی نشاندہی بھی کر سکتا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا، “بظاہر صحت مند نوجوان مرد جن کا اسپرم معیار بہت خراب ہو، ان میں بعد کی زندگی میں بعض دائمی بیماریوں کا امکان زیادہ ہو سکتا ہے۔ آئندہ تحقیق سرطان یا قلبی مرض جیسی مخصوص بیماریوں سے قبل از وقت موت اور اسپرم معیار کے تعلق کا جائزہ لے گی اور زیادہ خطرے والے گروہوں کی پہلے شناخت کے لیے حیاتیاتی اشاریے تلاش کرے گی۔”
محققین نے چند حدود بھی تسلیم کیں:
تمام شرکا کے طرزِ زندگی، مثلاً غذا، تمباکو نوشی اور ورزش، کی معلومات دستیاب نہیں تھیں
یہ معلوم نہیں کیا جا سکا کہ غیر متحرک اسپرم والے کچھ مردوں میں تولیدی نالی کی رکاوٹ تھی یا نہیں
صحت کی معلومات ڈنمارک کے قومی طبی ریکارڈ تک محدود تھیں اور نمونے کے صرف ایک حصے کے لیے دستیاب تھیں
ماہرین کی رائے: اہم تحقیق، آکسیڈیٹو اسٹریس ممکنہ کلیدی عنصر
آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف نیوکاسل کے اعزازی پروفیسر جان آئٹکن نے تحقیق کو انقلابی قرار دیا اور آکسیڈیٹو اسٹریس کو ممکنہ مرکزی طریقۂ کار بتایا۔
ان کے مطابق جینیاتی عوامل، مدافعتی نظام، میٹابولک مسائل، ماحولیاتی آلودگی اور طرزِ زندگی آکسیڈیٹو اسٹریس بڑھا سکتے ہیں۔ یہ اسپرم کو نقصان پہنچا کر عمر بڑھنے کے عمل کو تیز کر سکتا ہے اور اسپرم معیار و عمرِ حیات کے تعلق کی وضاحت کر سکتا ہے۔
پروفیسر آئٹکن نے کہا کہ خواتین میں عموماً اینٹی آکسیڈنٹس کی مقدار زیادہ اور ٹیلومیرز طویل ہوتے ہیں، جو خواتین کی زیادہ عمرِ حیات کی وضاحت میں مدد دے سکتا ہے۔
انہوں نے نتیجہ اخذ کیا:
“مردوں اور خواتین دونوں کے لیے لمبی عمر اور بلند زرخیزی کا راز صحت مند ریڈوکس توازن برقرار رکھنے میں ہو سکتا ہے۔”
خبر | کیا اسپرم کا معیار عمرِ حیات کی پیش گوئی کر سکتا ہے؟ تقریباً 80,000 مردوں پر ڈنمارک کی تحقیق نے حیرت انگیز تعلق ظاہر کیا
خبر | کیا اسپرم کا معیار عمرِ حیات کی پیش گوئی کر سکتا ہے؟ ڈنمارک کی تحقیق میں تقریباً 80,000 مردوں کا جائزہ لیا گیا اور اسپرم و لمبی عمر میں حیرت انگیز تعلق سامنے آیا
اسپرم کا معیار نہ صرف زرخیزی بلکہ مرد کی عمرِ حیات کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔
کوپن ہیگن یونیورسٹی ہسپتال کے محققین نے منی کے معیار اور عمرِ حیات کے درمیان نمایاں تعلق پایا: زیادہ متحرک اسپرم والے مرد عموماً زیادہ عرصہ زندہ رہے۔ تحقیق میں 78,284 مردوں کا زیادہ سے زیادہ 50 سال تک جائزہ لیا گیا اور اسے Human Reproduction میں شائع کیا گیا۔
120 ملین متحرک اسپرم کا تعلق زندگی کے مزید دو یا تین سال سے؟
اس تحقیق کی مشترکہ قیادت یونیورسٹی آف کوپن ہیگن کے رِگشاسپیتالیٹ میں شعبۂ نمو و تولید کی ڈاکٹر لیرکے پرسکورن اور مردانہ بانجھ پن کے ماہر ڈاکٹر نیلس یورگنسن نے کی۔ انہوں نے 80,000 کے قریب مردوں کے منی کے نمونوں کا تجزیہ کیا، جو 1965 سے 2015 کے درمیان لیے گئے تھے۔ بیشتر افراد شریکِ حیات کی بانجھ پن کے باعث کوپن ہیگن کی سرکاری منی تجزیہ لیبارٹری گئے تھے۔
تحقیق کے نتائج:
جن مردوں میں کل متحرک اسپرم کی تعداد 120 ملین سے زیادہ تھی، وہ ان مردوں سے اوسطاً دو سے تین سال زیادہ زندہ رہے جن میں یہ تعداد 0 سے 5 ملین تھی۔
یعنی اسپرم کی بہتر حرکت پذیری کا تعلق طویل عمر سے ہو سکتا ہے۔
پیروی کے دوران 8,600 مرد انتقال کر گئے، جو نمونے کا تقریباً 11% تھا۔ ٹیم نے 50,000 سے زیادہ ایسے مردوں کا بھی تجزیہ کیا جنہوں نے 1987 کے بعد نمونے دیے تھے؛ اس میں تعلیمی سطح اور گزشتہ دہائی کی طبی تاریخ کو مدِنظر رکھا گیا۔
واضح نتیجہ: یہ تعلق صرف بیماری سے واضح نہیں ہوا
ڈاکٹر پرسکورن نے کہا، “ہم جاننا چاہتے تھے کہ آیا منی کا معیار واقعی لمبی عمر سے وابستہ ہے اور آیا بیماری یا سماجی پس منظر اس تعلق کی وضاحت کرتے ہیں۔ اعداد و شمار سے ظاہر ہوا کہ تعلیم اور معلوم بیماریوں کو مدِنظر رکھنے کے بعد بھی کمزور اسپرم معیار والے مرد عموماً کم عمر پاتے تھے۔”
اس لیے اسپرم کا ناقص معیار بیرونی عوامل کے بجائے بنیادی صحت کے مسائل کی علامت ہو سکتا ہے۔
کیا اسپرم کا معیار صحت کا اشاریہ ہے؟ کم عمر مردوں میں بھی جانچ اہم ہو سکتی ہے
ڈاکٹر یورگنسن نے کہا کہ اس دریافت کا مطلب یہ ہو سکتا ہے:
“منی کا تجزیہ صرف زرخیزی کا جائزہ نہیں لیتا؛ یہ پوشیدہ صحت کے خطرات کی ابتدائی نشاندہی بھی کر سکتا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا، “بظاہر صحت مند نوجوان مرد جن کا اسپرم معیار بہت خراب ہو، ان میں بعد کی زندگی میں بعض دائمی بیماریوں کا امکان زیادہ ہو سکتا ہے۔ آئندہ تحقیق سرطان یا قلبی مرض جیسی مخصوص بیماریوں سے قبل از وقت موت اور اسپرم معیار کے تعلق کا جائزہ لے گی اور زیادہ خطرے والے گروہوں کی پہلے شناخت کے لیے حیاتیاتی اشاریے تلاش کرے گی۔”
محققین نے چند حدود بھی تسلیم کیں:
تمام شرکا کے طرزِ زندگی، مثلاً غذا، تمباکو نوشی اور ورزش، کی معلومات دستیاب نہیں تھیں
یہ معلوم نہیں کیا جا سکا کہ غیر متحرک اسپرم والے کچھ مردوں میں تولیدی نالی کی رکاوٹ تھی یا نہیں
صحت کی معلومات ڈنمارک کے قومی طبی ریکارڈ تک محدود تھیں اور نمونے کے صرف ایک حصے کے لیے دستیاب تھیں
ماہرین کی رائے: اہم تحقیق، آکسیڈیٹو اسٹریس ممکنہ کلیدی عنصر
آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف نیوکاسل کے اعزازی پروفیسر جان آئٹکن نے تحقیق کو انقلابی قرار دیا اور آکسیڈیٹو اسٹریس کو ممکنہ مرکزی طریقۂ کار بتایا۔
ان کے مطابق جینیاتی عوامل، مدافعتی نظام، میٹابولک مسائل، ماحولیاتی آلودگی اور طرزِ زندگی آکسیڈیٹو اسٹریس بڑھا سکتے ہیں۔ یہ اسپرم کو نقصان پہنچا کر عمر بڑھنے کے عمل کو تیز کر سکتا ہے اور اسپرم معیار و عمرِ حیات کے تعلق کی وضاحت کر سکتا ہے۔
پروفیسر آئٹکن نے کہا کہ خواتین میں عموماً اینٹی آکسیڈنٹس کی مقدار زیادہ اور ٹیلومیرز طویل ہوتے ہیں، جو خواتین کی زیادہ عمرِ حیات کی وضاحت میں مدد دے سکتا ہے۔
انہوں نے نتیجہ اخذ کیا:
“مردوں اور خواتین دونوں کے لیے لمبی عمر اور بلند زرخیزی کا راز صحت مند ریڈوکس توازن برقرار رکھنے میں ہو سکتا ہے۔”
ماخذ:
آن لائن سے جمع کردہ