رہنما | زچگی میں دردِ زہ شروع کرانے کو سمجھنا: دو دھاری تلوار
دردِ زہ شروع کرانا: یہ کیوں اور کیسے کیا جاتا ہے؟
دردِ زہ شروع کرانے میں اس وقت دوا یا طبی طریقۂ کار استعمال کیا جاتا ہے جب دردِ زہ قدرتی طور پر شروع نہ ہوا ہو۔ عموماً یہ ماں یا جنین کی صحت کے تحفظ کے لیے کیا جاتا ہے جب ان میں سے کسی کو خطرہ ہو۔ چونکہ اس عمل میں ممکنہ خطرات بھی ہوتے ہیں، اس لیے اسے صرف واضح طبی وجہ موجود ہونے پر تجویز کیا جاتا ہے۔
امریکہ میں ہر چار میں سے ایک ولادت میں دردِ زہ شروع کرایا جاتا ہے۔ زیادہ تر صورتوں میں اس کی طبی وجہ ہوتی ہے، تاہم کچھ عمل اختیاری بھی ہوتے ہیں۔
اشارے اور ممانعتیں
عام طبی وجوہ میں شامل ہیں:
مقررہ تاریخ گزرنے کے 1 سے 2 ہفتے بعد تک حمل جاری رہنا، جس سے ماں اور جنین میں پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
قدرتی سکڑاؤ کے بغیر جھلیوں کا پھٹ جانا، جس میں انفیکشن کا خطرہ کم کرنے کے لیے دردِ زہ شروع کرنا ضروری ہوتا ہے۔
ماں یا جنین کی صحت کو خطرات، جیسے حمل کے دوران بلند فشارِ خون، ذیابیطس یا نال کا الگ ہو جانا۔
جنین کی نشوونما محدود ہونا یا دل کی دھڑکن غیر معمولی ہونا۔
واضح ممانعتیں بھی موجود ہیں۔ پلیسینٹا پریویا، جنین کا عرضی انداز میں ہونا، نال کا باہر نکل آنا یا جنسی اعضا کا فعال ہرپس انفیکشن ہونے کی صورت میں دردِ زہ شروع کرانا مناسب نہیں۔ کلاسیکی سیزیرین چیرا لگنے کے بعد بھی احتیاط ضروری ہے۔
دردِ زہ شروع کرانے کے عام طریقے
طبی ماہرین ہر فرد کی صورتِ حال کے مطابق طریقہ منتخب کرتے ہیں:
جھلیوں کو الگ کرنا: امینیوٹک تھیلی کو رحم کی دیوار سے الگ کرنے سے دردِ زہ کے ہارمون خارج ہونے کی تحریک ملتی ہے۔
میکانی پھیلاؤ: غبارے والا کیتھیٹر عنقِ رحم کو پھیلاتا ہے۔
دوا: پروسٹاگلینڈنز عنقِ رحم کو نرم کرتے ہیں، یا وریدی آکسی ٹوسن سکڑاؤ شروع کرتا ہے۔
قدرتی طریقے: جنسی ملاپ اور ایکیوپنکچر استعمال کیے جا سکتے ہیں، لیکن ان کی مؤثریت کے شواہد محدود ہیں۔
دردِ زہ شروع کرانے کے خطرات
یہ عمل عموماً محفوظ ہوتا ہے، لیکن خطرے سے خالی نہیں:
ماں پر اثرات: ہسپتال میں طویل قیام، دردِ زہ کی زیادہ تکلیف اور بے ہوشی کی زیادہ ضرورت۔
انفیکشن: اگر جھلیاں پھٹنے کے بعد 48 گھنٹوں کے اندر ولادت نہ ہو تو انفیکشن کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔
جنین کی صحت سے متعلق خدشات: 39 ہفتوں سے پہلے دردِ زہ شروع کرانے سے نوزائیدہ کو سانس لینے میں دشواری اور دیگر مسائل ہو سکتے ہیں۔
ولادت کی پیچیدگیاں: نایاب لیکن سنگین واقعات میں رحم کا پھٹ جانا اور نال کا الگ ہو جانا شامل ہیں۔
ماہرین کی رہنمائی
طبی ماہرین زور دیتے ہیں کہ قدرتی دردِ زہ کو ترجیح دی جاتی ہے اور اسے صرف طبی ضرورت کے وقت زیرِ غور لانا چاہیے۔ فیصلہ کرنے سے پہلے حاملہ خواتین کو خطرات اور فوائد سمجھنے چاہییں اور اپنی صحت کے لیے موزوں ترین انتخاب کے لیے طبی ماہر سے مشورہ کرنا چاہیے۔
رہنما | زچگی میں دردِ زہ شروع کرانے کو سمجھنا: دو دھاری تلوار
رہنما | زچگی میں دردِ زہ شروع کرانے کو سمجھنا: دو دھاری تلوار
دردِ زہ شروع کرانا: یہ کیوں اور کیسے کیا جاتا ہے؟
دردِ زہ شروع کرانے میں اس وقت دوا یا طبی طریقۂ کار استعمال کیا جاتا ہے جب دردِ زہ قدرتی طور پر شروع نہ ہوا ہو۔ عموماً یہ ماں یا جنین کی صحت کے تحفظ کے لیے کیا جاتا ہے جب ان میں سے کسی کو خطرہ ہو۔ چونکہ اس عمل میں ممکنہ خطرات بھی ہوتے ہیں، اس لیے اسے صرف واضح طبی وجہ موجود ہونے پر تجویز کیا جاتا ہے۔
امریکہ میں ہر چار میں سے ایک ولادت میں دردِ زہ شروع کرایا جاتا ہے۔ زیادہ تر صورتوں میں اس کی طبی وجہ ہوتی ہے، تاہم کچھ عمل اختیاری بھی ہوتے ہیں۔
اشارے اور ممانعتیں
عام طبی وجوہ میں شامل ہیں:
مقررہ تاریخ گزرنے کے 1 سے 2 ہفتے بعد تک حمل جاری رہنا، جس سے ماں اور جنین میں پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
قدرتی سکڑاؤ کے بغیر جھلیوں کا پھٹ جانا، جس میں انفیکشن کا خطرہ کم کرنے کے لیے دردِ زہ شروع کرنا ضروری ہوتا ہے۔
ماں یا جنین کی صحت کو خطرات، جیسے حمل کے دوران بلند فشارِ خون، ذیابیطس یا نال کا الگ ہو جانا۔
جنین کی نشوونما محدود ہونا یا دل کی دھڑکن غیر معمولی ہونا۔
واضح ممانعتیں بھی موجود ہیں۔ پلیسینٹا پریویا، جنین کا عرضی انداز میں ہونا، نال کا باہر نکل آنا یا جنسی اعضا کا فعال ہرپس انفیکشن ہونے کی صورت میں دردِ زہ شروع کرانا مناسب نہیں۔ کلاسیکی سیزیرین چیرا لگنے کے بعد بھی احتیاط ضروری ہے۔
دردِ زہ شروع کرانے کے عام طریقے
طبی ماہرین ہر فرد کی صورتِ حال کے مطابق طریقہ منتخب کرتے ہیں:
جھلیوں کو الگ کرنا: امینیوٹک تھیلی کو رحم کی دیوار سے الگ کرنے سے دردِ زہ کے ہارمون خارج ہونے کی تحریک ملتی ہے۔
میکانی پھیلاؤ: غبارے والا کیتھیٹر عنقِ رحم کو پھیلاتا ہے۔
دوا: پروسٹاگلینڈنز عنقِ رحم کو نرم کرتے ہیں، یا وریدی آکسی ٹوسن سکڑاؤ شروع کرتا ہے۔
قدرتی طریقے: جنسی ملاپ اور ایکیوپنکچر استعمال کیے جا سکتے ہیں، لیکن ان کی مؤثریت کے شواہد محدود ہیں۔
دردِ زہ شروع کرانے کے خطرات
یہ عمل عموماً محفوظ ہوتا ہے، لیکن خطرے سے خالی نہیں:
ماں پر اثرات: ہسپتال میں طویل قیام، دردِ زہ کی زیادہ تکلیف اور بے ہوشی کی زیادہ ضرورت۔
انفیکشن: اگر جھلیاں پھٹنے کے بعد 48 گھنٹوں کے اندر ولادت نہ ہو تو انفیکشن کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔
جنین کی صحت سے متعلق خدشات: 39 ہفتوں سے پہلے دردِ زہ شروع کرانے سے نوزائیدہ کو سانس لینے میں دشواری اور دیگر مسائل ہو سکتے ہیں۔
ولادت کی پیچیدگیاں: نایاب لیکن سنگین واقعات میں رحم کا پھٹ جانا اور نال کا الگ ہو جانا شامل ہیں۔
ماہرین کی رہنمائی
طبی ماہرین زور دیتے ہیں کہ قدرتی دردِ زہ کو ترجیح دی جاتی ہے اور اسے صرف طبی ضرورت کے وقت زیرِ غور لانا چاہیے۔ فیصلہ کرنے سے پہلے حاملہ خواتین کو خطرات اور فوائد سمجھنے چاہییں اور اپنی صحت کے لیے موزوں ترین انتخاب کے لیے طبی ماہر سے مشورہ کرنا چاہیے۔
ماخذ:
آن لائن سے جمع کردہ