خبر | تحقیق سے معلوم ہوا کہ ڈاکٹروں کے الفاظ PCOS کے مریضوں میں بے چینی بڑھا سکتے ہیں
پولی سسٹک اووری سنڈروم (PCOS) ایک عام امراضِ نسواں کا اینڈوکرائن عارضہ ہے جو بیضہ دانی کے افعال کو متاثر کرتا ہے اور بے قاعدہ ماہواری، وزن بڑھنے اور دیگر جسمانی و میٹابولک مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔ تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ PCOS کی تشخیص کے وقت ڈاکٹر جو زبان استعمال کرتے ہیں، وہ مریضوں کی ذہنی صحت پر دیرپا اثر ڈال سکتی ہے۔
University of Surrey کے محققین نے پایا کہ "raised" جیسی اصطلاحات جسمانی عدم اطمینان اور ڈائٹنگ میں اضافہ کر سکتی ہیں، جبکہ "irregular" زرخیزی کے بارے میں بے چینی پیدا کر سکتی ہے۔ یہ سادہ مگر مبہم الفاظ منفی وابستگیاں پیدا کر سکتے ہیں اور طویل مدتی ذہنی صحت و بیماری کو سمجھنے پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
زبان کی طاقت: تشخیصی اصطلاحات PCOS کے مریضوں کو کیسے متاثر کرتی ہیں
صحت کی نفسیات کی پروفیسر Jane Ogden نے کہا: "تشخیصی مشاورت اکثر صرف چند منٹ جاری رہتی ہے، لیکن اس دوران ڈاکٹر کے الفاظ مریضوں کے اپنی حالت کو سمجھنے کے انداز کو تشکیل دے سکتے ہیں اور بالآخر ان کی جسمانی و ذہنی صحت کو متاثر کر سکتے ہیں۔"
تحقیق میں PCOS سے متاثرہ 147 خواتین سے تشخیصی مشاورت سے اطمینان، معالجین کی زبان اور مجموعی نفسیاتی بہبود کے بارے میں سروے کیا گیا۔ نتائج یہ تھے:
تشخیص سے غیر مطمئن مریضوں میں جسمانی خود اعتمادی کم، معیارِ زندگی خراب اور مستقبل کی صحت کے بارے میں تشویش زیادہ تھی۔
ایک چوتھائی سے زیادہ خواتین اس بات سے غیر مطمئن تھیں کہ ڈاکٹروں نے جذباتی پریشانی کو کیسے حل کیا، اور انہیں ابلاغ ناقص محسوس ہوا۔
"Raised" وزن یا ہارمون کی سطح کے بارے میں تشویش پیدا کر سکتا ہے، جبکہ "irregular periods" بانجھ پن کے بارے میں قیاس آرائی اور بے چینی بڑھا سکتا ہے۔
مریض اکثر اپنی حالت سمجھنے کے لیے تشخیصی گفتگو کو ذہن میں دہراتے ہیں۔ مبہم الفاظ غلط فہمی، ضرورت سے زیادہ پریشانی اور دیرپا نفسیاتی نقصان کا سبب بن سکتے ہیں۔
ڈاکٹر تشخیص کے تجربے کو کیسے بہتر بنا سکتے ہیں؟
معالجین کو الفاظ کا محتاط انتخاب کرنا چاہیے، مبہم یا بے چینی پیدا کرنے والی زبان سے گریز کرنا چاہیے اور زیادہ واضح و معاون انداز میں بات کرنی چاہیے۔
محققین نے تجاویز دیں:
1. بے چینی پیدا کرنے والی اصطلاحات سے گریز کریں
مثال کے طور پر، "raised hormone levels" کے بجائے کہیں: "آپ کے ہارمون کی سطح میں معمولی اتار چڑھاؤ ہے، جو PCOS میں عام ہے، اور غذا و طرزِ زندگی میں تبدیلیاں مددگار ہو سکتی ہیں۔"
"irregular periods" کے بجائے کہیں: "آپ کے ماہواری کے چکر طویل یا متغیر ہو سکتے ہیں، اور انہیں باقاعدہ کرنے کے لیے کچھ اقدامات مددگار ہو سکتے ہیں۔"
2. عمومی بیانات کے بجائے مخصوص معلومات دیں
جب ہارمون کی سطح زیادہ ہو تو صرف "raised" کہنے کے بجائے اس کی مقدار، ممکنہ اثرات اور علاج کے اختیارات سمجھائیں۔
3. جذبات کو سمجھیں اور نفسیاتی مدد فراہم کریں
چونکہ تشخیص کے بعد بے چینی اور ڈپریشن عام ہیں، اس لیے معالجین کو مریضوں سے ان کے احساسات کے بارے میں پوچھنا اور ضرورت پڑنے پر مدد یا ریفرل فراہم کرنا چاہیے۔
4. معالج اور مریض کے درمیان مضبوط تعلق قائم کریں
اپنے ڈاکٹر کے ساتھ اچھے تعلق والے مریض اکثر نفسیاتی طور پر بہتر طور پر حالات سے مطابقت پیدا کرتے ہیں اور معیارِ زندگی زیادہ بتاتے ہیں۔ معالجین کو خدشات سننے اور حوصلہ و مدد فراہم کرنے چاہیے۔
نتیجہ: زبان صحت کے بارے میں تصورات تشکیل دیتی ہے
یہ پہلا منظم مطالعہ تھا جس میں جائزہ لیا گیا کہ PCOS کی تشخیص میں استعمال ہونے والی زبان ذہنی صحت کو کیسے متاثر کرتی ہے۔ محققین نے صحت کی دیکھ بھال کے ماہرین پر زور دیا کہ وہ ان اثرات کو سمجھیں تاکہ مریضوں کو واضح معلومات اور مناسب مدد دونوں مل سکیں۔
یہ مطالعہ British Journal of General Practice میں شائع ہوا۔
خبر | تحقیق سے معلوم ہوا کہ ڈاکٹروں کے الفاظ PCOS کے مریضوں میں بے چینی بڑھا سکتے ہیں
خبر | تحقیق سے معلوم ہوا کہ ڈاکٹروں کے الفاظ PCOS کے مریضوں میں بے چینی بڑھا سکتے ہیں
پولی سسٹک اووری سنڈروم (PCOS) ایک عام امراضِ نسواں کا اینڈوکرائن عارضہ ہے جو بیضہ دانی کے افعال کو متاثر کرتا ہے اور بے قاعدہ ماہواری، وزن بڑھنے اور دیگر جسمانی و میٹابولک مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔ تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ PCOS کی تشخیص کے وقت ڈاکٹر جو زبان استعمال کرتے ہیں، وہ مریضوں کی ذہنی صحت پر دیرپا اثر ڈال سکتی ہے۔
University of Surrey کے محققین نے پایا کہ "raised" جیسی اصطلاحات جسمانی عدم اطمینان اور ڈائٹنگ میں اضافہ کر سکتی ہیں، جبکہ "irregular" زرخیزی کے بارے میں بے چینی پیدا کر سکتی ہے۔ یہ سادہ مگر مبہم الفاظ منفی وابستگیاں پیدا کر سکتے ہیں اور طویل مدتی ذہنی صحت و بیماری کو سمجھنے پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
زبان کی طاقت: تشخیصی اصطلاحات PCOS کے مریضوں کو کیسے متاثر کرتی ہیں
صحت کی نفسیات کی پروفیسر Jane Ogden نے کہا: "تشخیصی مشاورت اکثر صرف چند منٹ جاری رہتی ہے، لیکن اس دوران ڈاکٹر کے الفاظ مریضوں کے اپنی حالت کو سمجھنے کے انداز کو تشکیل دے سکتے ہیں اور بالآخر ان کی جسمانی و ذہنی صحت کو متاثر کر سکتے ہیں۔"
تحقیق میں PCOS سے متاثرہ 147 خواتین سے تشخیصی مشاورت سے اطمینان، معالجین کی زبان اور مجموعی نفسیاتی بہبود کے بارے میں سروے کیا گیا۔ نتائج یہ تھے:
تشخیص سے غیر مطمئن مریضوں میں جسمانی خود اعتمادی کم، معیارِ زندگی خراب اور مستقبل کی صحت کے بارے میں تشویش زیادہ تھی۔
ایک چوتھائی سے زیادہ خواتین اس بات سے غیر مطمئن تھیں کہ ڈاکٹروں نے جذباتی پریشانی کو کیسے حل کیا، اور انہیں ابلاغ ناقص محسوس ہوا۔
"Raised" وزن یا ہارمون کی سطح کے بارے میں تشویش پیدا کر سکتا ہے، جبکہ "irregular periods" بانجھ پن کے بارے میں قیاس آرائی اور بے چینی بڑھا سکتا ہے۔
مریض اکثر اپنی حالت سمجھنے کے لیے تشخیصی گفتگو کو ذہن میں دہراتے ہیں۔ مبہم الفاظ غلط فہمی، ضرورت سے زیادہ پریشانی اور دیرپا نفسیاتی نقصان کا سبب بن سکتے ہیں۔
ڈاکٹر تشخیص کے تجربے کو کیسے بہتر بنا سکتے ہیں؟
معالجین کو الفاظ کا محتاط انتخاب کرنا چاہیے، مبہم یا بے چینی پیدا کرنے والی زبان سے گریز کرنا چاہیے اور زیادہ واضح و معاون انداز میں بات کرنی چاہیے۔
محققین نے تجاویز دیں:
1. بے چینی پیدا کرنے والی اصطلاحات سے گریز کریں
مثال کے طور پر، "raised hormone levels" کے بجائے کہیں: "آپ کے ہارمون کی سطح میں معمولی اتار چڑھاؤ ہے، جو PCOS میں عام ہے، اور غذا و طرزِ زندگی میں تبدیلیاں مددگار ہو سکتی ہیں۔"
"irregular periods" کے بجائے کہیں: "آپ کے ماہواری کے چکر طویل یا متغیر ہو سکتے ہیں، اور انہیں باقاعدہ کرنے کے لیے کچھ اقدامات مددگار ہو سکتے ہیں۔"
2. عمومی بیانات کے بجائے مخصوص معلومات دیں
جب ہارمون کی سطح زیادہ ہو تو صرف "raised" کہنے کے بجائے اس کی مقدار، ممکنہ اثرات اور علاج کے اختیارات سمجھائیں۔
3. جذبات کو سمجھیں اور نفسیاتی مدد فراہم کریں
چونکہ تشخیص کے بعد بے چینی اور ڈپریشن عام ہیں، اس لیے معالجین کو مریضوں سے ان کے احساسات کے بارے میں پوچھنا اور ضرورت پڑنے پر مدد یا ریفرل فراہم کرنا چاہیے۔
4. معالج اور مریض کے درمیان مضبوط تعلق قائم کریں
اپنے ڈاکٹر کے ساتھ اچھے تعلق والے مریض اکثر نفسیاتی طور پر بہتر طور پر حالات سے مطابقت پیدا کرتے ہیں اور معیارِ زندگی زیادہ بتاتے ہیں۔ معالجین کو خدشات سننے اور حوصلہ و مدد فراہم کرنے چاہیے۔
نتیجہ: زبان صحت کے بارے میں تصورات تشکیل دیتی ہے
یہ پہلا منظم مطالعہ تھا جس میں جائزہ لیا گیا کہ PCOS کی تشخیص میں استعمال ہونے والی زبان ذہنی صحت کو کیسے متاثر کرتی ہے۔ محققین نے صحت کی دیکھ بھال کے ماہرین پر زور دیا کہ وہ ان اثرات کو سمجھیں تاکہ مریضوں کو واضح معلومات اور مناسب مدد دونوں مل سکیں۔
یہ مطالعہ British Journal of General Practice میں شائع ہوا۔
ماخذ:
آن لائن سے جمع کردہ