خبر | کیا جڑواں بچوں کی مائیں زیادہ زرخیز ہوتی ہیں؟ نئی تحقیق روایتی سوچ کو چیلنج کرتی ہے



خبر | کیا جڑواں بچوں کی مائیں زیادہ زرخیز ہوتی ہیں؟ نئی تحقیق روایتی سوچ کو چیلنج کرتی ہے!


ماضی کی تحقیقات میں اکثر یہ کہا گیا کہ جڑواں بچوں کو جنم دینے والی خواتین دیگر خواتین کے مقابلے میں زیادہ زرخیز ہوتی ہیں، حتیٰ کہ انہیں "سپر مائیں" بھی کہا گیا۔ تاہم، ایک نئی بین الاقوامی تحقیق نے اس دیرینہ تصور کو رد کر دیا ہے۔


تحقیق سے معلوم ہوا کہ جڑواں بچوں کی ماؤں کے حاملہ ہونے کا امکان زیادہ نہیں ہوتا۔ اس کے بجائے، زیادہ بار حمل ٹھہرنے سے انہیں جڑواں بچوں کی پیدائش کے زیادہ مواقع ملتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں، وہ "غیر معمولی طور پر زرخیز" نہیں ہوتیں؛ انہیں صرف "کامیابی" کے زیادہ مواقع ملتے ہیں۔


Petal material_general series minimalist floating molecular background_193661881.jpg


تحقیقی اعداد و شمار: 100,000 تاریخی پیدائش کے ریکارڈز کا جائزہ

تحقیقاتی ٹیم نے ناروے، سویڈن، فن لینڈ، جرمنی اور سوئٹزرلینڈ کے کلیسائی محفوظات سے 100,000 تاریخی یورپی پیدائش کے ریکارڈز کا تجزیہ کیا، جو صنعتی دور سے پہلے کے معاشروں سے متعلق تھے۔


اس زمانے میں لوگ مانع حمل طریقوں یا معاون تولیدی ٹیکنالوجی کے ذریعے تولید پر قابو نہیں پا سکتے تھے، اس لیے یہ اعداد و شمار خواتین کی قدرتی زرخیزی کی زیادہ درست عکاسی کرتے ہیں۔


مرکزی نتیجہ یہ تھا کہ زیادہ بچوں کو جنم دینے والی خواتین میں جڑواں بچوں کی پیدائش کا امکان زیادہ تھا، اس لیے نہیں کہ وہ قدرتی طور پر زیادہ زرخیز تھیں، بلکہ اس لیے کہ انہیں زیادہ مواقع ملے۔ یہ لاٹری ٹکٹ خریدنے جیسا ہے: جتنی بار ٹکٹ خریدیں گے، جیتنے کا امکان اتنا ہی بڑھ جائے گا۔


جڑواں بچوں کا ارتقائی تضاد: قدرتی انتخاب نے جڑواں حمل کو ختم کیوں نہیں کیا؟

ارتقائی نقطۂ نظر سے جڑواں بچوں کی پیدائش ماں اور بچوں دونوں کے لیے صحت کے زیادہ خطرات اور جسمانی بوجھ رکھتی ہے۔ اس لیے محققین نے پوچھا: اگر جڑواں بچے تولیدی خطرات بڑھاتے ہیں تو قدرتی انتخاب نے جڑواں حمل کو ختم کیوں نہیں کیا؟


انہوں نے دو وضاحتیں پیش کیں:


جڑواں حمل ایک ارتقائی "تلافی کا طریقہ" ہو سکتا ہے۔ خواتین کی عمر بڑھنے کے ساتھ اسقاطِ حمل کا خطرہ بڑھتا ہے، اور بیک وقت دو بیضے خارج ہونے سے کامیاب حمل کا امکان بہتر ہو سکتا ہے، یوں اسقاطِ حمل سے ضائع ہونے والے تولیدی مواقع کی تلافی ہوتی ہے۔


اگرچہ جڑواں بچوں والی خواتین کے مجموعی حمل کم ہو سکتے ہیں، لیکن ان کے بچوں کی تعداد زیادہ ہو سکتی ہے۔ جڑواں بچوں کی پیدائش ایک اضافی بچہ دیتی ہے، اس لیے اگر بچوں کے زندہ رہنے کی شرح زیادہ ہو تو یہ تولیدی انداز اب بھی خاندان کے تسلسل میں مدد دے سکتا ہے۔


اعداد و شمار کا مسئلہ: دیرینہ شماریاتی غلطیاں

پہلی تحقیقات اس نتیجے پر کیوں پہنچیں کہ جڑواں بچوں والی خواتین آسانی سے حاملہ ہو جاتی ہیں؟ نئی تحقیق کے مطابق سابقہ شماریاتی طریقوں نے سبب اور نتیجے کو خلط ملط کر دیا تھا۔


Leibniz Institute for Zoo and Wildlife Research کے پرنسپل محقق Dr. Alexandre Courtiol نے وضاحت کی:


"پہلی تحقیقات کا مسئلہ یہ تھا کہ وہ یہ امتیاز نہیں کر سکتی تھیں کہ جڑواں بچوں کی مائیں زیادہ زرخیز تھیں یا زیادہ بچوں کی پیدائش نے انہیں جڑواں بچوں کے لیے صرف زیادہ مواقع فراہم کیے۔"


نئی تحقیق میں دیر سے تسلیم کیے گئے "Simpson's Paradox" سے بچنے کے لیے زیادہ جدید شماریاتی طریقے استعمال کیے گئے: یعنی حقیقی سببی تعلق کو نظرانداز کرتے ہوئے شماریاتی تعلق کو غلط طور پر سبب قرار دینا۔


آخرکار تحقیق سے معلوم ہوا کہ پیدائشوں کی تعداد کو مدِنظر رکھنے کے بعد جڑواں بچوں کی مائیں دراصل دیگر خواتین سے کم زرخیز تھیں، زیادہ نہیں۔


طبی اہمیت: زرخیزی اور جڑواں بچوں کے تعلق پر نظرِ ثانی

اس نتیجے کے تعلیمی دنیا سے باہر بھی اثرات ہیں۔ طبی تحقیق میں طویل عرصے سے زرخیزی کے فرق کا مطالعہ کرنے کے لیے جڑواں بچوں والی خواتین کا دیگر خواتین سے موازنہ کیا جاتا رہا ہے۔


لیکن University of Exeter کے Dr. Erik Postma نے کہا:


"تحقیق کا یہ طریقہ سنگین مسائل رکھتا ہے کیونکہ یہ درست طور پر واضح نہیں کر سکتا کہ کون سے عوامل واقعی خواتین کی زرخیزی کو متاثر کرتے ہیں۔"


اس کا مطلب ہے کہ جڑواں بچوں کی ماؤں کے اعداد و شمار پر مبنی خواتین کی زرخیزی سے متعلق سابقہ طبی تحقیق غلط نتائج تک پہنچی ہو سکتی ہے۔ مستقبل کی تحقیقات میں جڑواں حمل کے قدرتی امکان کو زیادہ درست طور پر مدِنظر رکھنا ہوگا، بجائے اس کے کہ اسے محض زرخیزی کی علامت سمجھا جائے۔


بہت سے سوالات باقی ہیں

اگرچہ یہ تحقیق بہت سے روایتی مفروضوں کو چیلنج کرتی ہے، سائنس دانوں کا خیال ہے کہ جڑواں حمل کے اسرار ابھی پوری طرح نہیں سمجھے گئے۔


تحقیق کی شریک مصنفہ اور University of Turku کی پروفیسر Virpi Lummaa نے کہا:


"ہم اب بھی جڑواں بچوں کی شرحِ پیدائش کو متاثر کرنے والے ہر عامل کو نہیں سمجھتے، لیکن یہ تحقیق بتاتی ہے کہ جڑواں بچے ارتقائی غلطی نہیں بلکہ تولیدی حکمتِ عملی ہو سکتے ہیں۔"


Norwegian University of Science and Technology کی سینئر حیاتیاتی محقق Dr. Gine Roll Skjærvø نے مزید کہا:


"جڑواں بچوں کی پیدائش محض زرخیزی کا سوال نہیں، بلکہ ایک پیچیدہ حیاتیاتی مظہر ہے جس میں جسمانی، ارتقائی اور شماریاتی عوامل شامل ہیں۔"


نتیجہ: "سپر ماں" کے تصور کو رد کرنا اور جڑواں بچوں کی سائنس پر نظرِ ثانی

جڑواں بچوں کی مائیں زیادہ زرخیز نہیں ہوتیں۔ اس کے بجائے، زیادہ بار بچے پیدا کرنے سے انہیں جڑواں بچوں کی پیدائش کے زیادہ مواقع ملتے ہیں۔ یہ نتیجہ سابقہ مفروضوں کو بدلتا ہے اور یاد دلاتا ہے کہ طبی و ارتقائی اعداد و شمار کی محتاط تشریح ضروری ہے تاکہ باہمی تعلق کو سبب سمجھنے کی غلطی نہ ہو۔


جڑواں بچوں کی پیدائش کی مکمل حیاتیات سمجھنے کے لیے مزید تحقیق درکار ہے۔


کہانی کا ماخذ:

آن لائن جمع کردہ

作者 LinkedIVF Team發布於 2025-04-01
本文使用 AI 輔助整理;LinkedIVF 尚未記錄本篇的編輯審核,不構成醫療建議。
本頁內容僅供資訊參考,不構成醫療建議;具體診療請諮詢執業醫師。 內容指南與編輯政策

آپ کو یہ بھی پسند آ سکتا ہے

ہم جلد آپ سے رابطہ کریں گے

اپنی تفصیلات درج کریں، ہم جلد از جلد آپ سے رابطہ کریں گے۔
  • ایمبریو کی منتقلی سے پہلے جینیاتی جانچ اور IVF
    عطیہ کردہ انڈے یا اسپرم کے ساتھ IVF
    تیسرے فریق سے تولیدی معاونت کی معلومات (مقامی قانون کے تابع)
    دیگر