معلومات | پیچھے کی جانب جھکا ہوا رحم بانجھ پن کی علامت نہیں: ماہرین نے عام غلط فہمی کی وضاحت کر دی
زیادہ تر خواتین میں رحم قدرتی طور پر مثانے کے اوپر پیٹ کی سمت معمولی سا آگے کی جانب جھکا ہوتا ہے۔ جھکا ہوا یا پیچھے کی جانب مائل رحم ایک جسمانی ساختی فرق ہے جس میں رحم کی سمت مقعد کی طرف ہوتی ہے۔ طبی اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ تقریباً ہر چار میں سے ایک خاتون میں رحم کی یہ پوزیشن ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ کوئی بیماری نہیں اور عموماً زرخیزی کو متاثر نہیں کرتی، اگرچہ بعض صورتوں میں بے آرامی کا سبب بن سکتی ہے۔
پیچھے کی جانب جھکا ہوا رحم کیا ہوتا ہے؟
عام طور پر رحم مثانے کے اوپر واقع ہوتا ہے اور معمولی سا آگے کی طرف جھکا ہوتا ہے۔ پیچھے کی جانب مائل رحم میں اس کا زاویہ مقعد کی سمت قدرے پیچھے ہوتا ہے۔ زیادہ تر افراد میں کوئی نمایاں علامت نہیں ہوتی، لیکن بعض خواتین کو جنسی تعلق یا ماہواری کے دوران بے آرامی محسوس ہو سکتی ہے۔
عام علامات
اگرچہ پیچھے کی جانب مائل رحم میں عموماً کوئی علامت نہیں ہوتی، تاہم ممکنہ علامات میں شامل ہیں:
جنسی تعلق کے دوران درد: بعض پوزیشنز میں شریکِ حیات کا عضو رحم یا بیضہ دانی سے ٹکرا سکتا ہے، جس سے اچانک درد یا بے آرامی ہو سکتی ہے۔
رباط پر کھنچاؤ: زور دار یا سخت جنسی تعلق رحم کو سہارا دینے والے رباط پر کھنچاؤ ڈال سکتا ہے اور شدید صورتوں میں طبی نگہداشت کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
ماہواری کا زیادہ شدید درد: ماہواری کے دوران درد زیادہ نمایاں ہو سکتا ہے، خاص طور پر اینڈومیٹریوسس والی خواتین میں۔
پیشاب کے مسائل: ان میں ہلکی بے اختیاریِ بول، بار بار پیشاب آنا یا پیشاب کی نالی کے انفیکشن کا بڑھا ہوا خطرہ شامل ہو سکتا ہے۔
ٹیمپون کے استعمال میں بے آرامی: رحم کا زاویہ ٹیمپون داخل کرنا مشکل بنا سکتا ہے یا جسم میں کسی غیر مانوس چیز کی موجودگی جیسا احساس پیدا کر سکتا ہے۔
وجوہات
پیچھے کی جانب مائل رحم کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، جن میں شامل ہیں:
سنِ یاس اور عمر رسیدگی: عمر کے ساتھ رحم کے رباط ڈھیلے پڑنے پر رحم بتدریج پیچھے کی جانب جھک سکتا ہے۔
سرجری کے بعد چپکاؤ: حوض کی سرجری کے بعد بننے والا داغ دار بافت رحم کو اپنی جگہ سے کھینچ سکتا ہے۔
اینڈومیٹریوسس: اینڈومیٹریئم سے مشابہ بافت رحم کو اس کے پیچھے موجود ساختوں کے ساتھ چپکا سکتا ہے۔
رحمی رسولیاں: غیر سرطانی بڑھوتری رحم کی ساخت اور زاویے کو بدل سکتی ہے۔
جینیاتی عوامل: بعض خواتین رحم کے پیچھے کی جانب زاویے کے ساتھ پیدا ہوتی ہیں، جو خاندان میں چل سکتا ہے۔
کیا اس سے حمل متاثر ہوتا ہے؟
طبی تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ پیچھے کی جانب مائل رحم حمل ٹھہرنے یا حمل برقرار رہنے میں رکاوٹ نہیں بنتا۔ رحم آگے کی جانب جھکا ہو یا پیچھے کی جانب، نطفہ گریوا سے گزر کر بارآوری کے لیے فلوپین ٹیوبز تک پہنچ سکتا ہے۔ حمل کے دوران رحم قدرتی طور پر بڑا ہو کر اوپر کی سمت اٹھتا ہے، اور بہت سے معاملات میں پیچھے کی جانب مائل رحم خود ہی معمول کی پوزیشن میں آ جاتا ہے۔
اس کی تشخیص کیسے کی جاتی ہے؟
ڈاکٹر حوض کے معائنے کے ذریعے رحم کی پوزیشن معلوم کر سکتا ہے۔ معائنے کے دوران ڈاکٹر اندام نہانی میں دو انگلیاں داخل کر کے ایک ہاتھ سے پیٹ پر دباؤ ڈالتا ہے اور دوسرے ہاتھ سے گریوا کو نرمی سے دباتا ہے تاکہ رحم کے حجم، شکل اور سمت کا اندازہ لگایا جا سکے۔ الٹراساؤنڈ کے ذریعے بھی اس کی پوزیشن کی تصدیق اور دیگر بیماریوں کو خارج کیا جا سکتا ہے۔
علاج اور نگہداشت
جس پیچھے کی جانب مائل رحم کی کوئی علامت نہ ہو، عموماً اس کے علاج کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اگر بے آرامی نمایاں ہو تو ڈاکٹر درج ذیل کی تجویز دے سکتا ہے:
ہارمون تھراپی: درد کم کرنے یا اینڈومیٹریوسس جیسی بنیادی بیماری کے علاج کے لیے ایسٹروجن کی سطح میں تبدیلی۔ اختیارات میں مانعِ حمل پیچ، منہ کے ذریعے لی جانے والی دوا یا اندام نہانی کی رِنگ شامل ہو سکتی ہے۔
پیسری: ایک آلہ جو رحم کو آگے کی پوزیشن میں سہارا دینے کے لیے عارضی یا طویل مدت تک اندام نہانی میں رکھا جاتا ہے۔ ممکنہ خطرات میں انفیکشن یا جنسی تعلق کے دوران بے آرامی شامل ہیں۔
جراحی اصلاح: کم سے کم مداخلتی سرجری کے ذریعے رحم کو دوبارہ پوزیشن میں لایا جا سکتا ہے، یا شدید صورتوں میں رحم نکالنے کی سرجری کی جا سکتی ہے۔ یہ عمل عموماً محفوظ ہوتا ہے اور صحت یابی کی مدت مختصر ہوتی ہے۔
حوض کے نچلے حصے کی ورزشیں: کیگل ورزشوں جیسی ورزشیں حوض کے نچلے حصے کے عضلات کو سہارا دینے کی صلاحیت مضبوط کر کے بعض مریضوں میں علامات بہتر بنا سکتی ہیں۔
تاہم، فی الحال اس بات کے حتمی شواہد موجود نہیں کہ ورزش طویل مدت میں رحم کی پوزیشن تبدیل کر سکتی ہے۔ عارضی طور پر کامیاب پوزیشن کی تبدیلی کے بعد بھی رحم دوبارہ پیچھے کی جانب جھک سکتا ہے۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
س: کیا پیچھے کی جانب مائل رحم کمر میں درد کا سبب بن سکتا ہے؟
ج: ممکن ہے۔ ایک مطالعے میں معلوم ہوا کہ پیچھے کی جانب مائل رحم والی بعض خواتین کو حمل کے ابتدائی مرحلے میں کمر میں درد ہونے کا امکان زیادہ تھا۔
س: کیا پیچھے کی جانب مائل رحم سے ولادت مشکل ہو سکتی ہے؟
ج: نہیں۔ زیادہ تر معاملات میں اس سے ولادت متاثر نہیں ہوتی اور نہ ہی سیزیرین سیکشن کا امکان بڑھتا ہے۔
طبی نقطۂ نظر
ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ پیچھے کی جانب مائل رحم ایک معمول کا جسمانی ساختی فرق ہے، بیماری نہیں۔ زیادہ تر خواتین کو کسی مداخلت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ طبی جائزہ صرف اس وقت ضروری ہے جب جنسی تعلق کے دوران درد، ماہواری میں بے قاعدگی یا پیشاب کرنے میں دشواری جیسی علامات ظاہر ہوں۔ حوض کے نچلے حصے کی صحت برقرار رکھنا اور باقاعدگی سے معائنہ کرانا اس کیفیت سے نمٹنے میں مدد دے سکتا ہے۔
معلومات | رحم کا پیچھے کی طرف جھکا ہونا بانجھ پن کی علامت نہیں: ماہرین نے عام غلط فہمی واضح کر دی
معلومات | پیچھے کی جانب جھکا ہوا رحم بانجھ پن کی علامت نہیں: ماہرین نے عام غلط فہمی کی وضاحت کر دی
زیادہ تر خواتین میں رحم قدرتی طور پر مثانے کے اوپر پیٹ کی سمت معمولی سا آگے کی جانب جھکا ہوتا ہے۔ جھکا ہوا یا پیچھے کی جانب مائل رحم ایک جسمانی ساختی فرق ہے جس میں رحم کی سمت مقعد کی طرف ہوتی ہے۔ طبی اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ تقریباً ہر چار میں سے ایک خاتون میں رحم کی یہ پوزیشن ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ کوئی بیماری نہیں اور عموماً زرخیزی کو متاثر نہیں کرتی، اگرچہ بعض صورتوں میں بے آرامی کا سبب بن سکتی ہے۔
پیچھے کی جانب جھکا ہوا رحم کیا ہوتا ہے؟
عام طور پر رحم مثانے کے اوپر واقع ہوتا ہے اور معمولی سا آگے کی طرف جھکا ہوتا ہے۔ پیچھے کی جانب مائل رحم میں اس کا زاویہ مقعد کی سمت قدرے پیچھے ہوتا ہے۔ زیادہ تر افراد میں کوئی نمایاں علامت نہیں ہوتی، لیکن بعض خواتین کو جنسی تعلق یا ماہواری کے دوران بے آرامی محسوس ہو سکتی ہے۔
عام علامات
اگرچہ پیچھے کی جانب مائل رحم میں عموماً کوئی علامت نہیں ہوتی، تاہم ممکنہ علامات میں شامل ہیں:
جنسی تعلق کے دوران درد: بعض پوزیشنز میں شریکِ حیات کا عضو رحم یا بیضہ دانی سے ٹکرا سکتا ہے، جس سے اچانک درد یا بے آرامی ہو سکتی ہے۔
رباط پر کھنچاؤ: زور دار یا سخت جنسی تعلق رحم کو سہارا دینے والے رباط پر کھنچاؤ ڈال سکتا ہے اور شدید صورتوں میں طبی نگہداشت کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
ماہواری کا زیادہ شدید درد: ماہواری کے دوران درد زیادہ نمایاں ہو سکتا ہے، خاص طور پر اینڈومیٹریوسس والی خواتین میں۔
پیشاب کے مسائل: ان میں ہلکی بے اختیاریِ بول، بار بار پیشاب آنا یا پیشاب کی نالی کے انفیکشن کا بڑھا ہوا خطرہ شامل ہو سکتا ہے۔
ٹیمپون کے استعمال میں بے آرامی: رحم کا زاویہ ٹیمپون داخل کرنا مشکل بنا سکتا ہے یا جسم میں کسی غیر مانوس چیز کی موجودگی جیسا احساس پیدا کر سکتا ہے۔
وجوہات
پیچھے کی جانب مائل رحم کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، جن میں شامل ہیں:
سنِ یاس اور عمر رسیدگی: عمر کے ساتھ رحم کے رباط ڈھیلے پڑنے پر رحم بتدریج پیچھے کی جانب جھک سکتا ہے۔
سرجری کے بعد چپکاؤ: حوض کی سرجری کے بعد بننے والا داغ دار بافت رحم کو اپنی جگہ سے کھینچ سکتا ہے۔
اینڈومیٹریوسس: اینڈومیٹریئم سے مشابہ بافت رحم کو اس کے پیچھے موجود ساختوں کے ساتھ چپکا سکتا ہے۔
رحمی رسولیاں: غیر سرطانی بڑھوتری رحم کی ساخت اور زاویے کو بدل سکتی ہے۔
جینیاتی عوامل: بعض خواتین رحم کے پیچھے کی جانب زاویے کے ساتھ پیدا ہوتی ہیں، جو خاندان میں چل سکتا ہے۔
کیا اس سے حمل متاثر ہوتا ہے؟
طبی تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ پیچھے کی جانب مائل رحم حمل ٹھہرنے یا حمل برقرار رہنے میں رکاوٹ نہیں بنتا۔ رحم آگے کی جانب جھکا ہو یا پیچھے کی جانب، نطفہ گریوا سے گزر کر بارآوری کے لیے فلوپین ٹیوبز تک پہنچ سکتا ہے۔ حمل کے دوران رحم قدرتی طور پر بڑا ہو کر اوپر کی سمت اٹھتا ہے، اور بہت سے معاملات میں پیچھے کی جانب مائل رحم خود ہی معمول کی پوزیشن میں آ جاتا ہے۔
اس کی تشخیص کیسے کی جاتی ہے؟
ڈاکٹر حوض کے معائنے کے ذریعے رحم کی پوزیشن معلوم کر سکتا ہے۔ معائنے کے دوران ڈاکٹر اندام نہانی میں دو انگلیاں داخل کر کے ایک ہاتھ سے پیٹ پر دباؤ ڈالتا ہے اور دوسرے ہاتھ سے گریوا کو نرمی سے دباتا ہے تاکہ رحم کے حجم، شکل اور سمت کا اندازہ لگایا جا سکے۔ الٹراساؤنڈ کے ذریعے بھی اس کی پوزیشن کی تصدیق اور دیگر بیماریوں کو خارج کیا جا سکتا ہے۔
علاج اور نگہداشت
جس پیچھے کی جانب مائل رحم کی کوئی علامت نہ ہو، عموماً اس کے علاج کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اگر بے آرامی نمایاں ہو تو ڈاکٹر درج ذیل کی تجویز دے سکتا ہے:
ہارمون تھراپی: درد کم کرنے یا اینڈومیٹریوسس جیسی بنیادی بیماری کے علاج کے لیے ایسٹروجن کی سطح میں تبدیلی۔ اختیارات میں مانعِ حمل پیچ، منہ کے ذریعے لی جانے والی دوا یا اندام نہانی کی رِنگ شامل ہو سکتی ہے۔
پیسری: ایک آلہ جو رحم کو آگے کی پوزیشن میں سہارا دینے کے لیے عارضی یا طویل مدت تک اندام نہانی میں رکھا جاتا ہے۔ ممکنہ خطرات میں انفیکشن یا جنسی تعلق کے دوران بے آرامی شامل ہیں۔
جراحی اصلاح: کم سے کم مداخلتی سرجری کے ذریعے رحم کو دوبارہ پوزیشن میں لایا جا سکتا ہے، یا شدید صورتوں میں رحم نکالنے کی سرجری کی جا سکتی ہے۔ یہ عمل عموماً محفوظ ہوتا ہے اور صحت یابی کی مدت مختصر ہوتی ہے۔
حوض کے نچلے حصے کی ورزشیں: کیگل ورزشوں جیسی ورزشیں حوض کے نچلے حصے کے عضلات کو سہارا دینے کی صلاحیت مضبوط کر کے بعض مریضوں میں علامات بہتر بنا سکتی ہیں۔
تاہم، فی الحال اس بات کے حتمی شواہد موجود نہیں کہ ورزش طویل مدت میں رحم کی پوزیشن تبدیل کر سکتی ہے۔ عارضی طور پر کامیاب پوزیشن کی تبدیلی کے بعد بھی رحم دوبارہ پیچھے کی جانب جھک سکتا ہے۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
س: کیا پیچھے کی جانب مائل رحم کمر میں درد کا سبب بن سکتا ہے؟
ج: ممکن ہے۔ ایک مطالعے میں معلوم ہوا کہ پیچھے کی جانب مائل رحم والی بعض خواتین کو حمل کے ابتدائی مرحلے میں کمر میں درد ہونے کا امکان زیادہ تھا۔
س: کیا پیچھے کی جانب مائل رحم سے ولادت مشکل ہو سکتی ہے؟
ج: نہیں۔ زیادہ تر معاملات میں اس سے ولادت متاثر نہیں ہوتی اور نہ ہی سیزیرین سیکشن کا امکان بڑھتا ہے۔
طبی نقطۂ نظر
ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ پیچھے کی جانب مائل رحم ایک معمول کا جسمانی ساختی فرق ہے، بیماری نہیں۔ زیادہ تر خواتین کو کسی مداخلت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ طبی جائزہ صرف اس وقت ضروری ہے جب جنسی تعلق کے دوران درد، ماہواری میں بے قاعدگی یا پیشاب کرنے میں دشواری جیسی علامات ظاہر ہوں۔ حوض کے نچلے حصے کی صحت برقرار رکھنا اور باقاعدگی سے معائنہ کرانا اس کیفیت سے نمٹنے میں مدد دے سکتا ہے۔
مضمون کا ماخذ:
آن لائن جمع کردہ