خبریں | بچپن میں منجمد کیے گئے خصیوں کے بافتے بالغ ہونے پر پختہ سپرم کی پیداوار بحال کرتے ہیں، جو زرخیزی محفوظ رکھنے کی تحقیق میں ایک اہم پیش رفت ہے



خبریں | بچپن میں محفوظ کیا گیا منجمد خصوی بافتہ بالغی میں بالغ نطفوں کی پیداوار بحال کرتا ہے، زرخیزی محفوظ رکھنے کی تحقیق میں اہم پیش رفت


ایک ایسے مرد نے، جس کے خصوی بافتے کو بچپن میں منجمد کر کے محفوظ کیا گیا تھا، اپنے ہی بافتے کی دوبارہ پیوند کاری کے بعد بالغی میں کامیابی سے بالغ نطفے پیدا کیے۔ اس نتیجے کو زرخیزی محفوظ رکھنے کے شعبے میں اہم پیش رفتوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ مستقبل میں بانجھ پن کے خطرے سے دوچار بلوغت سے پہلے کے لڑکوں کے لیے، جنہیں کینسر کے علاج یا دیگر انتہائی زہریلے طریقۂ علاج کے باعث یہ خطرہ لاحق ہو، یہ مطالعہ اس راستے کے بارے میں انسانوں پر مبنی پہلی اہم شہادت فراہم کرتا ہے کہ ’’ابتدائی عمر میں محفوظ کریں اور بالغی میں زرخیزی بحال کرنے کی کوشش کریں‘‘۔ تاہم، تحقیقی ٹیم نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ کامیابی ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے، اور آیا آخرکار بارآوری اور زندہ بچے کی پیدائش ممکن ہو سکے گی یا نہیں، اس کی مزید توثیق ضروری ہے۔


petal_material_character_series_realistic_four_people_meeting_hand_movement_close-up_image_194673169.png


انسانوں میں ’’بچپن میں تحفظ، بالغی میں نطفوں کی پیداوار‘‘ کی پہلی شہادت

رپورٹس کے مطابق، یہ آزمائش بیلجیئم کی Vrije Universiteit Brussel کی ٹیم نے Brussels IVF کے اشتراک سے مکمل کی۔ زیرِ علاج مریض کی عمر اب 27 سال ہے۔ 10 سال کی عمر میں اسے سِکل سیل بیماری کے باعث شدید کیموتھراپی کی ضرورت پڑی، جو زرخیزی کو متاثر کر سکتی تھی، اس لیے علاج سے پہلے اس کے خصوی بافتے کا ایک حصہ محفوظ کر لیا گیا۔


کئی سال بعد تحقیقی ٹیم نے اس منجمد محفوظ بافتے کو دوبارہ مریض کے جسم میں پیوند کیا؛ اس کا ایک حصہ خصیے میں اور دوسرا حصہ کیسهٔ بیضہ کے نیچے کی جلد کے اندر پیوند کیا گیا۔ بافتہ نکال کر تجزیے کے لیے بھیجے جانے سے پہلے تقریباً ایک سال تک جسم میں نشوونما پاتا رہا۔ نتائج سے ظاہر ہوا کہ خصیے میں پیوند کیے گئے بافتے میں بالغ نطفے نمودار ہوئے، جنہیں محققین نے بعد ازاں نکال کر منجمد کر کے محفوظ کر لیا۔


یہ پہلا موقع ہے کہ کسی مطالعے نے انسانوں میں ثابت کیا ہے کہ بلوغت سے پہلے منجمد کر کے محفوظ کیا گیا خصوی بافتہ، بالغی میں دوبارہ پیوند کاری کے بعد نطفہ سازی بحال کر سکتا ہے۔ یہ زرخیزی محفوظ رکھنے کی تحقیق کے لیے ایک سنگِ میل ہے۔


یہ مطالعہ کیوں اہم ہے

وہ مرد مریض جو بلوغت میں داخل ہو چکے ہیں، عموماً کیموتھراپی، ریڈیوتھراپی یا ایسے دیگر علاج سے پہلے منی کو منجمد کر کے محفوظ رکھنے کے ذریعے مستقبل میں اپنی زرخیزی کے امکانات محفوظ رکھ سکتے ہیں جو تولیدی افعال کو متاثر کر سکتے ہیں۔ تاہم، ان لڑکوں کے لیے جن میں ابھی نطفے بننا شروع نہیں ہوئے، یہ راستہ قابلِ عمل نہیں ہے۔


اسی وجہ سے بلوغت سے پہلے خصوی بافتے کو منجمد کر کے محفوظ رکھنا طویل عرصے سے زرخیزی محفوظ رکھنے کی ایک ممکنہ طور پر امید افزا مگر اب بھی تجرباتی حکمتِ عملی سمجھا جاتا رہا ہے۔ ماضی میں تحقیق زیادہ تر حیوانی تجربات یا صرف بافتے کے زندہ رہنے کی سطح تک محدود تھی، لیکن اس انسانی آزمائش نے پہلی بار دکھایا ہے کہ اتنی ابتدائی عمر میں محفوظ کیا گیا بافتہ کئی سال بعد بھی نطفے پیدا کرنے کی صلاحیت بحال کر سکتا ہے۔ اس سے اس حکمتِ عملی کو نظریے سے طبی اطلاق کی طرف لے جانے کے لیے زیادہ براہِ راست حمایت ملتی ہے۔


ابھی ’’زرخیزی کے حصول‘‘ کے برابر نہیں

اگرچہ نتائج حوصلہ افزا ہیں، لیکن یہ پیش رفت حقیقی طبی پختگی سے اب بھی واضح طور پر دور ہے۔ اول، اس بار حاصل ہونے والی چیز اس بات کی شہادت ہے کہ ’’بالغ نطفے بن چکے ہیں‘‘؛ یہ قدرتی حمل یا معاون تولید کے ذریعے کامیاب زندہ پیدائش کا نتیجہ نہیں ہے۔ چونکہ پیوند کیا گیا بافتہ منی کے اخراج کے معمول کے راستے سے براہِ راست منسلک نہیں ہے، اس لیے یہ نطفے قدرتی طور پر منی میں ظاہر نہیں ہوں گے۔ لہٰذا اگر مستقبل میں انہیں زرخیزی کے لیے استعمال کیا جائے تو معاون تولیدی ٹیکنالوجیز، مثلاً ان وٹرو فرٹیلائزیشن (IVF)، کا استعمال غالباً ضروری ہوگا۔


دوم، تحقیقی ٹیم نے یہ بھی بتایا کہ ابھی اس بات کی تصدیق ضروری ہے کہ آیا ان نطفوں میں معمول کی بارآوری کی صلاحیت موجود ہے اور آیا اس کے بعد جنین کی نشوونما کے نتائج محفوظ اور قابلِ اعتماد ہیں۔ دوسرے لفظوں میں، یہ مطالعہ ثابت کرتا ہے کہ ’’بالغ نطفے پیدا کرنا ممکن ہے‘‘، لیکن اس نے ابھی تک ’’مستحکم اور قابلِ استعمال طبی زرخیزی کی صلاحیت‘‘ ثابت نہیں کی۔


مطالعے کا موضوع، طریقے اور اہم نتائج

مطالعے کے ڈیزائن کے لحاظ سے یہ ایک ایسے واحد کیس پر مرکوز طبی ترجماتی تحقیق ہے، جس میں بچپن میں خصوی بافتے کو منجمد کر کے محفوظ کیا گیا اور بالغی میں اسی بافتے کی دوبارہ پیوند کاری کی گئی۔ طریقۂ کار کے تحت ٹیم نے کئی سال بعد محفوظ شدہ منجمد بافتے کو پگھلایا اور مریض میں دوبارہ پیوند کیا، بافتے کو جسم میں مزید پختہ ہونے کے لیے کچھ عرصہ انتظار کیا، پھر اسے نکال کر لیبارٹری میں تجزیہ کیا۔


اس کے تین اہم نتائج ہیں۔ اول، کئی سال تک منجمد کر کے محفوظ کیا گیا بلوغت سے پہلے کا خصوی بافتہ دوبارہ پیوند کاری کے بعد بھی زندہ رہنے اور مزید نشوونما پانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ دوم، پیوند کیے گئے بافتے کا کم از کم ایک حصہ بالغ نطفے پیدا کرنے کے مرحلے تک پہنچنے کی صلاحیت بحال کر سکا۔ سوم، ان نطفوں کو کامیابی سے الگ کر کے منجمد کر کے محفوظ کر لیا گیا ہے، جس سے بعد میں بارآوری کی صلاحیت جانچنے اور معاون تولید میں ممکنہ استعمال کی راہ کھلی ہے۔


اس مطالعے کی حدود بھی واضح ہیں

اس پیش رفت کی حدود کو بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ اول، فی الحال شائع شدہ نتائج ایک واحد کیس سے متعلق ہیں اور نمونہ انتہائی چھوٹا ہے، اس لیے یہ راستہ مریضوں کی وسیع آبادی میں کامیابی کی شرح کی نمائندگی نہیں کر سکتے۔ دوم، یہ نتیجہ فی الحال ٹیم کی جانب سے ظاہر کیے گئے پری پرنٹ اور آزمائشی پیش رفت پر مبنی ہے اور ابھی مکمل ہم مرتبہ جائزے سے نہیں گزرا، لہٰذا باضابطہ علمی توثیق کا انتظار ہے۔ سوم، اگر بالغ نطفے پیدا بھی ہو جائیں تو اس سے خودبخود یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مستقبل میں صحت مند حمل اور زندہ بچے کی پیدائش یقینی طور پر ممکن ہوگی۔ آخرکار، بنیادی بیماری، علاج کی شدت، بافتے کو محفوظ رکھنے کی مدت اور پیوند کاری کے طریقے میں فرق مستقبل کے نتائج پر اثر انداز ہو سکتا ہے، جبکہ طبی سطح پر نتائج کی تکرار پذیری کے لیے مزید تحقیقی شواہد درکار ہیں۔


تولیدی طب اور زرخیزی محفوظ رکھنے کے لیے اس کا مطلب

تولیدی طب کے شعبے میں زرخیزی کے تحفظ کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے، خاص طور پر ایسے افراد میں جنہیں بچپن کا کینسر، خون کی بیماریاں یا دیگر ایسی حالتیں لاحق ہوں جن کے لیے انتہائی زہریلے علاج درکار ہوتے ہیں۔ قبل از بلوغ لڑکوں کے لیے ماضی میں زرخیزی کے تحفظ کے پختہ اور قابلِ عمل اختیارات موجود نہیں تھے، اور یہ مطالعہ کم از کم یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ تکنیکی راستہ محض نظری نہیں ہے۔


اس کی ممکنہ اہمیت یہ ہے کہ یہ زیادہ خطرے سے دوچار بچوں کے لیے بالغ ہونے پر "حیاتیاتی اولاد پیدا کرنے" کا موقع محفوظ رکھنے کی ایک حقیقت پسندانہ بنیاد فراہم کرتا ہے۔ تاہم، طبی اطلاق کے نقطۂ نظر سے یہ اب بھی ابتدائی مرحلے کی تحقیقی تکنیک ہے اور اسے پختہ، ہر جگہ دستیاب معیاری علاج قرار نہیں دینا چاہیے۔ مریض بچوں کے خاندانوں کے لیے اس کی زیادہ عملی اہمیت شاید یہ ہو کہ مخصوص مراکز، اخلاقی تقاضوں کی پابندی اور تحقیقی اہلیت کی شرائط کے تحت مستقبل میں زرخیزی کے تحفظ کے اختیارات بتدریج بڑھ سکتے ہیں۔


پسِ منظر کی معلومات

بچپن کے کینسر اور شدید دائمی بیماریوں کے علاج کے نتائج بہتر ہونے کے ساتھ زیادہ سے زیادہ مریض طویل عرصے تک زندہ رہنے کے قابل ہو رہے ہیں، اور علاج کے بعد زندگی کے معیار سے متعلق مسائل، بشمول بالغ ہونے پر زرخیزی، زیادہ اہم ہو گئے ہیں۔ اسی وجہ سے زرخیزی کا تحفظ اب صرف بالغ کینسر کے مریضوں کی تشویش نہیں رہا بلکہ بتدریج بچوں اور نوعمروں تک بھی وسیع ہو گیا ہے۔


لڑکیوں میں بیضہ دانی کے ٹشو کا تحفظ زیادہ رائج ہے؛ تاہم قبل از بلوغ لڑکوں میں براہِ راست محفوظ کیے جانے کے لیے پختہ سپرم موجود نہیں ہوتے، اس لیے خصیوں کے ٹشو کو منجمد کرنا ہمیشہ سے زیادہ مشکل سمت رہی ہے۔ اس آزمائش کی پیش رفت دراصل اس دیرینہ مشکل مسئلے پر ایک قدم آگے بڑھنا ہے۔


اثرات اور اہمیت

اس مطالعے کا سب سے قابلِ ذکر پہلو یہ نہیں ہے کہ اس نے "قبل از بلوغ لڑکوں میں مستقبل کی زرخیزی کا مسئلہ حل کر دیا ہے"، بلکہ یہ ہے کہ اس نے پہلی بار انسانوں میں قابلِ عمل ہونے کے اہم شواہد فراہم کیے ہیں۔ مستقبل میں مسلسل مشاہدے کے قابل اہم نکات میں یہ شامل ہیں: کیا مزید کیسز اس نتیجے کو دہرا سکتے ہیں، کیا حاصل کیے گئے سپرم کامیابی سے بارآوری کر سکتے ہیں، کیا بعد میں جنین اور اولاد کے نتائج محفوظ ہوں گے، اور کیا یہ ٹیکنالوجی تجرباتی تحقیق سے بتدریج ایک معیاری طبی طریقۂ کار میں تبدیل ہو سکتی ہے۔


موجودہ مرحلے پر زیادہ محتاط جائزہ یہ ہے کہ یہ ایک حوصلہ افزا ابتدائی پیش رفت ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قبل از بلوغ لڑکوں کے لیے زرخیزی کے تحفظ کا طویل مدتی تصور زیادہ حقیقت پسندانہ ہو رہا ہے، لیکن وسیع پیمانے پر طبی اطلاق سے پہلے ابھی مزید پیش رفت درکار ہے۔


کہانی کا ماخذ:

انٹرنیٹ سے جمع کیا گیا

作者 LinkedIVF Team發布於 2026-07-03
本文使用 AI 輔助整理;LinkedIVF 尚未記錄本篇的編輯審核,不構成醫療建議。
本頁內容僅供資訊參考,不構成醫療建議;具體診療請諮詢執業醫師。 內容指南與編輯政策

آپ کو یہ بھی پسند آ سکتا ہے

ہم جلد آپ سے رابطہ کریں گے

اپنی تفصیلات درج کریں، ہم جلد از جلد آپ سے رابطہ کریں گے۔
  • ایمبریو کی منتقلی سے پہلے جینیاتی جانچ اور IVF
    عطیہ کردہ انڈے یا اسپرم کے ساتھ IVF
    تیسرے فریق سے تولیدی معاونت کی معلومات (مقامی قانون کے تابع)
    دیگر