معلومات | خواتین میں حیض کا رک جانا: وجوہات اور تشخیص
حیض کا رک جانا اس کیفیت کو کہتے ہیں جب حمل یا سنِ یاس کے بغیر بلوغت کے بعد ماہواری نہ آئے۔ یہ محض بے قاعدہ ماہواری نہیں بلکہ حیض کا مکمل طور پر غائب ہونا ہے۔ حیض کا رک جانا بذاتِ خود بیماری نہیں، لیکن یہ کسی بنیادی صحت کی خرابی کی علامت ہو سکتا ہے، اس لیے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔
1. حیض رکنے کی اقسام
حیض رکنے کی دو اقسام ہیں:
ابتدائی حیض کا رک جانا: عمر 15 تک پہلی ماہواری نہ آنا۔
ثانوی حیض کا رک جانا: پہلے باقاعدہ ماہواری آنے کے بعد مسلسل 3 ماہ یا اس سے زیادہ عرصے تک ماہواری بند رہنا۔
حیض رکنے کی علامات
ماہواری نہ آنے کے علاوہ علامات بنیادی وجہ کے مطابق مختلف ہو سکتی ہیں، جن میں شامل ہیں:
پیڑو میں درد
نظر میں تبدیلی
سر درد
مہاسے
بال جھڑنا
چہرے پر زائد بال
نپل سے دودھیا رطوبت کا اخراج
چھاتی کی نشوونما نہ ہونا (ابتدائی حیض کا رک جانا)
2. حیض رکنے کی وجوہات
وجوہات قسم کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہیں:
ابتدائی حیض رکنے کی ممکنہ وجوہات:
بیضہ دانی کی کمزور کارکردگی
مرکزی اعصابی نظام یا پچیوٹری غدود سے متعلق مسائل
تولیدی اعضاء کی ساخت میں بے قاعدگیاں
ثانوی حیض رکنے کی عام وجوہات:
حمل
دودھ پلانا
مانعِ حمل گولیاں بند کرنا
سنِ یاس
مانعِ حمل کے بعض طریقے، مثلاً انجیکشن یا کچھ رحم کے اندر لگائے جانے والے آلات
دیگر وجوہات میں ذہنی دباؤ، ناقص غذا، ڈپریشن، وزن میں شدید تبدیلی، پولی سسٹک اووری سنڈروم (PCOS)، تھائیرائڈ کی بیماری اور رسولیاں شامل ہیں۔
3. حیض رکنے کی تشخیص
چونکہ حیض رکنے کی کئی ممکنہ وجوہات ہو سکتی ہیں، اس لیے ڈاکٹر وجہ معلوم کرنے کے لیے کئی ٹیسٹ کروا سکتے ہیں۔ ان میں شامل ہو سکتے ہیں:
خون کے ٹیسٹ: فولیکل کو متحرک کرنے والے ہارمون، تھائیرائڈ کو متحرک کرنے والے ہارمون، پرولیکٹن اور اینڈروجن جیسے ہارمونز کی پیمائش۔
امیجنگ: الٹراساؤنڈ، CT یا مقناطیسی گونج امیجنگ (MRI) سے تولیدی اعضاء کی ساختی بے قاعدگیوں یا رسولیوں کی شناخت میں مدد مل سکتی ہے۔
ہارمون چیلنج ٹیسٹ: یہ دیکھنے کے لیے ہارمون کی دوا دی جاتی ہے کہ آیا اس سے حیض کا خون آتا ہے، اور ممکنہ ایسٹروجن کی کمی کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
ہسٹروسکوپی: رحم کے اندرونی حصے کا معائنہ کرنے کے لیے ہسٹروسکوپ استعمال کیا جاتا ہے۔
جینیاتی اسکریننگ اور کروموسوم ٹیسٹ: ایسی جینیاتی یا کروموسومی تبدیلیوں کا پتا لگانے کے لیے کیے جاتے ہیں جو حیض رکنے کا سبب بن سکتی ہیں۔
علاج اور نگہداشت
علاج بنیادی وجہ پر منحصر ہوتا ہے۔ ہارمون ریپلیسمنٹ تھراپی یا مانعِ حمل گولیاں ماہواری بحال کر سکتی ہیں۔ تھائیرائڈ یا پچیوٹری غدود کے عوارض کا علاج دوا سے کیا جا سکتا ہے، جبکہ ساختی بے قاعدگیوں کے لیے سرجری کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ جب ذہنی دباؤ، وزن میں تبدیلی یا ڈپریشن ماہواری کو متاثر کریں تو ان کا انتظام بھی حیض بحال کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
ماہواری میں تبدیلیوں، علامات، ادویات اور طرزِ زندگی میں تبدیلیوں کا ریکارڈ ڈاکٹر کو وجہ معلوم کرنے اور مؤثر علاج کا منصوبہ بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔
علم | خواتین میں ماہواری کا رک جانا: وجوہات اور تشخیص
معلومات | خواتین میں حیض کا رک جانا: وجوہات اور تشخیص
حیض کا رک جانا اس کیفیت کو کہتے ہیں جب حمل یا سنِ یاس کے بغیر بلوغت کے بعد ماہواری نہ آئے۔ یہ محض بے قاعدہ ماہواری نہیں بلکہ حیض کا مکمل طور پر غائب ہونا ہے۔ حیض کا رک جانا بذاتِ خود بیماری نہیں، لیکن یہ کسی بنیادی صحت کی خرابی کی علامت ہو سکتا ہے، اس لیے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔
1. حیض رکنے کی اقسام
حیض رکنے کی دو اقسام ہیں:
ابتدائی حیض کا رک جانا: عمر 15 تک پہلی ماہواری نہ آنا۔
ثانوی حیض کا رک جانا: پہلے باقاعدہ ماہواری آنے کے بعد مسلسل 3 ماہ یا اس سے زیادہ عرصے تک ماہواری بند رہنا۔
حیض رکنے کی علامات
ماہواری نہ آنے کے علاوہ علامات بنیادی وجہ کے مطابق مختلف ہو سکتی ہیں، جن میں شامل ہیں:
پیڑو میں درد
نظر میں تبدیلی
سر درد
مہاسے
بال جھڑنا
چہرے پر زائد بال
نپل سے دودھیا رطوبت کا اخراج
چھاتی کی نشوونما نہ ہونا (ابتدائی حیض کا رک جانا)
2. حیض رکنے کی وجوہات
وجوہات قسم کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہیں:
ابتدائی حیض رکنے کی ممکنہ وجوہات:
بیضہ دانی کی کمزور کارکردگی
مرکزی اعصابی نظام یا پچیوٹری غدود سے متعلق مسائل
تولیدی اعضاء کی ساخت میں بے قاعدگیاں
ثانوی حیض رکنے کی عام وجوہات:
حمل
دودھ پلانا
مانعِ حمل گولیاں بند کرنا
سنِ یاس
مانعِ حمل کے بعض طریقے، مثلاً انجیکشن یا کچھ رحم کے اندر لگائے جانے والے آلات
دیگر وجوہات میں ذہنی دباؤ، ناقص غذا، ڈپریشن، وزن میں شدید تبدیلی، پولی سسٹک اووری سنڈروم (PCOS)، تھائیرائڈ کی بیماری اور رسولیاں شامل ہیں۔
3. حیض رکنے کی تشخیص
چونکہ حیض رکنے کی کئی ممکنہ وجوہات ہو سکتی ہیں، اس لیے ڈاکٹر وجہ معلوم کرنے کے لیے کئی ٹیسٹ کروا سکتے ہیں۔ ان میں شامل ہو سکتے ہیں:
خون کے ٹیسٹ: فولیکل کو متحرک کرنے والے ہارمون، تھائیرائڈ کو متحرک کرنے والے ہارمون، پرولیکٹن اور اینڈروجن جیسے ہارمونز کی پیمائش۔
امیجنگ: الٹراساؤنڈ، CT یا مقناطیسی گونج امیجنگ (MRI) سے تولیدی اعضاء کی ساختی بے قاعدگیوں یا رسولیوں کی شناخت میں مدد مل سکتی ہے۔
ہارمون چیلنج ٹیسٹ: یہ دیکھنے کے لیے ہارمون کی دوا دی جاتی ہے کہ آیا اس سے حیض کا خون آتا ہے، اور ممکنہ ایسٹروجن کی کمی کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
ہسٹروسکوپی: رحم کے اندرونی حصے کا معائنہ کرنے کے لیے ہسٹروسکوپ استعمال کیا جاتا ہے۔
جینیاتی اسکریننگ اور کروموسوم ٹیسٹ: ایسی جینیاتی یا کروموسومی تبدیلیوں کا پتا لگانے کے لیے کیے جاتے ہیں جو حیض رکنے کا سبب بن سکتی ہیں۔
علاج اور نگہداشت
علاج بنیادی وجہ پر منحصر ہوتا ہے۔ ہارمون ریپلیسمنٹ تھراپی یا مانعِ حمل گولیاں ماہواری بحال کر سکتی ہیں۔ تھائیرائڈ یا پچیوٹری غدود کے عوارض کا علاج دوا سے کیا جا سکتا ہے، جبکہ ساختی بے قاعدگیوں کے لیے سرجری کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ جب ذہنی دباؤ، وزن میں تبدیلی یا ڈپریشن ماہواری کو متاثر کریں تو ان کا انتظام بھی حیض بحال کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
ماہواری میں تبدیلیوں، علامات، ادویات اور طرزِ زندگی میں تبدیلیوں کا ریکارڈ ڈاکٹر کو وجہ معلوم کرنے اور مؤثر علاج کا منصوبہ بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔
کہانی کا ماخذ:
آن لائن جمع کردہ