رہنما | کیا زیرے کی چائے دردِ زہ کو تیز کر سکتی ہے؟ شواہد کیا بتاتے ہیں
مقررہ تاریخ قریب آنے یا گزر جانے پر کچھ حاملہ خواتین دردِ زہ شروع کرنے کے لیے گھریلو نسخے آزماتی ہیں۔ زیرے کی چائے بھی ایسا ہی ایک روایتی نسخہ ہے، لیکن تحقیق سے ثابت نہیں ہوا کہ کوئی بھی جڑی بوٹیوں والی چائے دردِ زہ کو تیز کر سکتی ہے۔
کیا زیرے کی چائے دردِ زہ شروع کر سکتی ہے؟
کچھ مطالعات میں معلوم ہوا کہ زیرے سمیت بعض جڑی بوٹیوں نے چوہوں کے رحم کے بافتوں میں سکڑاؤ پیدا کیا، لیکن یہ سکڑاؤ آکسیٹوسن سے پیدا ہونے والے سکڑاؤ کے مقابلے میں کمزور اور کم دیرپا تھے۔ یہ ثابت کرنے کے لیے شواہد ناکافی ہیں کہ زیرہ مؤثر طور پر دردِ زہ شروع کرتا ہے۔
یہ مطالعات حاملہ خواتین پر نہیں کیے گئے، اور ممکنہ مضر اثرات بدستور تشویش کا باعث ہیں۔ ماہرین کے مطابق زیرہ پیٹ میں درد، قبل از وقت دردِ زہ یا اسقاطِ حمل کا سبب بن سکتا ہے کیونکہ زیرے کے بیج اسقاط کا اثر رکھتے ہیں۔ دردِ زہ شروع کرنے کے لیے کوئی بھی روایتی نسخہ استعمال کرنے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔
ممکنہ صحت کے فوائد
زیرہ میکسیکن، بھارتی اور مشرقِ وسطیٰ کے کھانوں میں وسیع پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔ اس میں آئرن، مینگنیز، تانبا، کیلشیم، میگنیشیم، تھایامین اور فاسفورس ہوتا ہے اور یہ آئرن کی مقدار اور مدافعتی افعال میں معاون ہو سکتا ہے۔
رپورٹ کیے گئے ممکنہ فوائد میں شامل ہیں:
ذیابیطس کے انتظام میں مدد
کولیسٹرول کم کرنا
مرکزی اعصابی نظام کو تحفظ دینا
ایسٹروجن کی سطح بڑھانا
معدے اور آنتوں کی صحت میں مدد
زیرے میں اینٹی آکسیڈنٹ، جراثیم کش، فنگس کش، سرطان مخالف اور ادرار آور خصوصیات بھی رپورٹ ہوئی ہیں۔ یہ جاننے کے لیے مزید تحقیق درکار ہے کہ ان اثرات کا سبب کون سے مرکبات ہیں۔
کیا حمل کے دوران زیرے کی چائے محفوظ ہے؟
حمل یا دودھ پلانے کے دوران زیرے کی چائے کے بارے میں ڈیٹا ناکافی ہے۔ تیونس کے روایتی طب میں اسقاطِ حمل کے لیے زیرہ استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ کچھ ڈاکٹر حمل کے دوران اس سے پرہیز کا مشورہ دیتے ہیں، جبکہ کچھ اسے لازماً پرہیز کی جانے والی جڑی بوٹیوں میں شامل نہیں کرتے۔
حاملہ خواتین کو زیرہ استعمال کرنے سے پہلے ڈاکٹر سے بات کرنی چاہیے۔
خلاصہ
زیرے کی چائے کے دردِ زہ کو تیز کرنے کا کوئی ثبوت نہیں۔ اگرچہ زیرہ ایک عام مصالحہ ہے اور اس کے ممکنہ صحت کے فوائد ہیں، حاملہ خواتین کو طبی ہدایات پر عمل کرنا چاہیے اور غیرمصدقہ نسخوں سے پرہیز کرنا چاہیے۔
رہنما | کیا زیرے کی چائے دردِ زہ کو تیز کر سکتی ہے؟ شواہد کیا بتاتے ہیں
رہنما | کیا زیرے کی چائے دردِ زہ کو تیز کر سکتی ہے؟ شواہد کیا بتاتے ہیں
مقررہ تاریخ قریب آنے یا گزر جانے پر کچھ حاملہ خواتین دردِ زہ شروع کرنے کے لیے گھریلو نسخے آزماتی ہیں۔ زیرے کی چائے بھی ایسا ہی ایک روایتی نسخہ ہے، لیکن تحقیق سے ثابت نہیں ہوا کہ کوئی بھی جڑی بوٹیوں والی چائے دردِ زہ کو تیز کر سکتی ہے۔
کیا زیرے کی چائے دردِ زہ شروع کر سکتی ہے؟
کچھ مطالعات میں معلوم ہوا کہ زیرے سمیت بعض جڑی بوٹیوں نے چوہوں کے رحم کے بافتوں میں سکڑاؤ پیدا کیا، لیکن یہ سکڑاؤ آکسیٹوسن سے پیدا ہونے والے سکڑاؤ کے مقابلے میں کمزور اور کم دیرپا تھے۔ یہ ثابت کرنے کے لیے شواہد ناکافی ہیں کہ زیرہ مؤثر طور پر دردِ زہ شروع کرتا ہے۔
یہ مطالعات حاملہ خواتین پر نہیں کیے گئے، اور ممکنہ مضر اثرات بدستور تشویش کا باعث ہیں۔ ماہرین کے مطابق زیرہ پیٹ میں درد، قبل از وقت دردِ زہ یا اسقاطِ حمل کا سبب بن سکتا ہے کیونکہ زیرے کے بیج اسقاط کا اثر رکھتے ہیں۔ دردِ زہ شروع کرنے کے لیے کوئی بھی روایتی نسخہ استعمال کرنے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔
ممکنہ صحت کے فوائد
زیرہ میکسیکن، بھارتی اور مشرقِ وسطیٰ کے کھانوں میں وسیع پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔ اس میں آئرن، مینگنیز، تانبا، کیلشیم، میگنیشیم، تھایامین اور فاسفورس ہوتا ہے اور یہ آئرن کی مقدار اور مدافعتی افعال میں معاون ہو سکتا ہے۔
رپورٹ کیے گئے ممکنہ فوائد میں شامل ہیں:
ذیابیطس کے انتظام میں مدد
کولیسٹرول کم کرنا
مرکزی اعصابی نظام کو تحفظ دینا
ایسٹروجن کی سطح بڑھانا
معدے اور آنتوں کی صحت میں مدد
زیرے میں اینٹی آکسیڈنٹ، جراثیم کش، فنگس کش، سرطان مخالف اور ادرار آور خصوصیات بھی رپورٹ ہوئی ہیں۔ یہ جاننے کے لیے مزید تحقیق درکار ہے کہ ان اثرات کا سبب کون سے مرکبات ہیں۔
کیا حمل کے دوران زیرے کی چائے محفوظ ہے؟
حمل یا دودھ پلانے کے دوران زیرے کی چائے کے بارے میں ڈیٹا ناکافی ہے۔ تیونس کے روایتی طب میں اسقاطِ حمل کے لیے زیرہ استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ کچھ ڈاکٹر حمل کے دوران اس سے پرہیز کا مشورہ دیتے ہیں، جبکہ کچھ اسے لازماً پرہیز کی جانے والی جڑی بوٹیوں میں شامل نہیں کرتے۔
حاملہ خواتین کو زیرہ استعمال کرنے سے پہلے ڈاکٹر سے بات کرنی چاہیے۔
خلاصہ
زیرے کی چائے کے دردِ زہ کو تیز کرنے کا کوئی ثبوت نہیں۔ اگرچہ زیرہ ایک عام مصالحہ ہے اور اس کے ممکنہ صحت کے فوائد ہیں، حاملہ خواتین کو طبی ہدایات پر عمل کرنا چاہیے اور غیرمصدقہ نسخوں سے پرہیز کرنا چاہیے۔
ماخذ:
آن لائن جمع کردہ مواد