رہنما | اختیاری طور پر زچگی شروع کروانا: حاملہ خواتین کے لیے اہم معلومات
متوقع تاریخِ ولادت قریب آنے پر آپ زچگی جلد شروع کروانے پر غور کر سکتی ہیں۔ اختیاری طور پر زچگی شروع کروانا ایسی مقررہ مداخلت ہے جو طبی وجوہات کے بجائے سہولت کے لیے کی جاتی ہے۔ اس کے فوائد اور خطرات ہیں جن پر مریضہ اور ڈاکٹر کو احتیاط سے غور کرنا چاہیے۔
اختیاری طور پر زچگی شروع کروانا کیا ہے؟
زچگی شروع کروانے میں دوا یا دیگر طریقوں سے قدرتی طور پر شروع ہونے سے پہلے دردِ زہ شروع کیا جاتا ہے۔ جب یہ وقت کی سہولت جیسے غیر طبی سبب کے لیے کیا جائے تو اسے اختیاری کہا جاتا ہے۔ حمل کے دوران بلند فشارِ خون یا جنین کی تکلیف جیسی طبی وجوہات کی بنا پر زچگی شروع کروانا اختیاری نہیں ہوتا۔
زچگی کیسے شروع کروائی جاتی ہے
دوا یا دیگر طریقے رحم کے سکڑاؤ کو متحرک کر کے زچگی شروع کرتے ہیں، جس کا مقصد سکڑاؤ پیدا کرنا اور بچہ دانی کے منہ کو کھولنا ہوتا ہے۔ سکڑاؤ متحرک کرنے کے لیے آکسی ٹوسن عموماً رگ کے ذریعے دیا جاتا ہے۔ دیگر طریقوں میں جھلیوں کو پھاڑنا یا بچہ دانی کے منہ کو کھولنے کے لیے آلہ استعمال کرنا شامل ہے۔ بچہ دانی کے منہ کو نرم اور کھولنے کے لیے بھی دوا استعمال کی جا سکتی ہے۔
اختیاری طور پر زچگی شروع کروانے کی وجوہات
کچھ مریضائیں طبی ضرورت کے بغیر درج ذیل وجوہات کی بنا پر زچگی شروع کروانے کا انتخاب کرتی ہیں:
وقت پر ہسپتال نہ پہنچ پانے کی تشویش
حمل کے آخری حصے میں بے آرامی یا درد
شریکِ حیات یا خاندان کے کسی فرد کی ولادت میں شرکت یقینی بنانا
پسندیدہ ڈاکٹر کی موجودگی یقینی بنانا
کام یا بچوں کی نگہداشت کے اوقات کا انتظام
زچگی شروع کروانے کا عمل
سکڑاؤ شروع ہونے کے بعد رحم بتدریج سکڑتا اور ڈھیلا ہوتا ہے۔ زچگی آگے بڑھنے کے ساتھ سکڑاؤ زیادہ بار اور شدید ہوتے جاتے ہیں، جس سے بچہ دانی کا منہ کھلتا اور بالآخر بچہ باہر آتا ہے۔ عموماً جب بچہ دانی کا منہ 10 سینٹی میٹر تک کھل جاتا ہے تو مریضہ زور لگانا شروع کرتی ہے۔
فوائد اور نقصانات
فوائد:
اختیاری طور پر زچگی شروع کروانے سے وقت پر زیادہ اختیار ملتا ہے، مثلاً تعطیلات یا شریکِ حیات اور ڈاکٹر کے اوقات کے مطابق۔
ولادت کی منصوبہ بندی ان مریضاؤں کی بے چینی کم کر سکتی ہے جو اپنے بچے سے ملنے کے لیے تیار محسوس کرتی ہیں۔
نقصانات:
زچگی آہستہ شروع اور آگے بڑھ سکتی ہے، اور بچہ دانی کے منہ کے مکمل کھلنے میں کافی وقت لگ سکتا ہے۔ پیش رفت محدود ہونے پر ڈاکٹر زچگی آگے بڑھنے تک گھر واپس جانے کا مشورہ دے سکتا ہے۔
جھلیاں پھٹنے کے بعد انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور مریضہ کو ہسپتال میں رہنا پڑتا ہے۔
دوا سے سکڑاؤ زیادہ شدید اور تکلیف دہ ہو سکتے ہیں، خصوصاً شروع میں۔ جنین کی دھڑکن کی مسلسل نگرانی سے حرکت محدود ہو سکتی ہے۔
39 ہفتوں سے پہلے اختیاری طور پر زچگی شروع کروانا عموماً محفوظ نہیں ہوتا، کیونکہ جلد ولادت سے بچے کو دودھ پینے، جسمانی درجہ حرارت برقرار رکھنے یا سانس لینے میں مسائل ہو سکتے ہیں۔
زچگی شروع کروانے میں کتنا وقت لگتا ہے؟
زچگی شروع کروانے میں کئی گھنٹوں سے 2–3 دن تک لگ سکتے ہیں، اور پہلے حمل میں یا 37 ہفتوں سے پہلے اس میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔ اختیاری طور پر زچگی شروع کروانے کے لیے ڈاکٹر کو تصدیق کرنی ہوتی ہے کہ حمل کم از کم 39 ہفتوں کا ہو چکا ہے اور بچہ دانی کا منہ کھلنے کے لیے تیار ہے۔ بچہ دانی کے منہ کا معائنہ اور Bishop score اس کی تیاری اور اندام نہانی کی ولادت کے امکان کا اندازہ لگانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
رہنما | اختیاری طور پر زچگی شروع کروانا: حاملہ خواتین کے لیے اہم معلومات
رہنما | اختیاری طور پر زچگی شروع کروانا: حاملہ خواتین کے لیے اہم معلومات
متوقع تاریخِ ولادت قریب آنے پر آپ زچگی جلد شروع کروانے پر غور کر سکتی ہیں۔ اختیاری طور پر زچگی شروع کروانا ایسی مقررہ مداخلت ہے جو طبی وجوہات کے بجائے سہولت کے لیے کی جاتی ہے۔ اس کے فوائد اور خطرات ہیں جن پر مریضہ اور ڈاکٹر کو احتیاط سے غور کرنا چاہیے۔
اختیاری طور پر زچگی شروع کروانا کیا ہے؟
زچگی شروع کروانے میں دوا یا دیگر طریقوں سے قدرتی طور پر شروع ہونے سے پہلے دردِ زہ شروع کیا جاتا ہے۔ جب یہ وقت کی سہولت جیسے غیر طبی سبب کے لیے کیا جائے تو اسے اختیاری کہا جاتا ہے۔ حمل کے دوران بلند فشارِ خون یا جنین کی تکلیف جیسی طبی وجوہات کی بنا پر زچگی شروع کروانا اختیاری نہیں ہوتا۔
زچگی کیسے شروع کروائی جاتی ہے
دوا یا دیگر طریقے رحم کے سکڑاؤ کو متحرک کر کے زچگی شروع کرتے ہیں، جس کا مقصد سکڑاؤ پیدا کرنا اور بچہ دانی کے منہ کو کھولنا ہوتا ہے۔ سکڑاؤ متحرک کرنے کے لیے آکسی ٹوسن عموماً رگ کے ذریعے دیا جاتا ہے۔ دیگر طریقوں میں جھلیوں کو پھاڑنا یا بچہ دانی کے منہ کو کھولنے کے لیے آلہ استعمال کرنا شامل ہے۔ بچہ دانی کے منہ کو نرم اور کھولنے کے لیے بھی دوا استعمال کی جا سکتی ہے۔
اختیاری طور پر زچگی شروع کروانے کی وجوہات
کچھ مریضائیں طبی ضرورت کے بغیر درج ذیل وجوہات کی بنا پر زچگی شروع کروانے کا انتخاب کرتی ہیں:
وقت پر ہسپتال نہ پہنچ پانے کی تشویش
حمل کے آخری حصے میں بے آرامی یا درد
شریکِ حیات یا خاندان کے کسی فرد کی ولادت میں شرکت یقینی بنانا
پسندیدہ ڈاکٹر کی موجودگی یقینی بنانا
کام یا بچوں کی نگہداشت کے اوقات کا انتظام
زچگی شروع کروانے کا عمل
سکڑاؤ شروع ہونے کے بعد رحم بتدریج سکڑتا اور ڈھیلا ہوتا ہے۔ زچگی آگے بڑھنے کے ساتھ سکڑاؤ زیادہ بار اور شدید ہوتے جاتے ہیں، جس سے بچہ دانی کا منہ کھلتا اور بالآخر بچہ باہر آتا ہے۔ عموماً جب بچہ دانی کا منہ 10 سینٹی میٹر تک کھل جاتا ہے تو مریضہ زور لگانا شروع کرتی ہے۔
فوائد اور نقصانات
فوائد:
اختیاری طور پر زچگی شروع کروانے سے وقت پر زیادہ اختیار ملتا ہے، مثلاً تعطیلات یا شریکِ حیات اور ڈاکٹر کے اوقات کے مطابق۔
ولادت کی منصوبہ بندی ان مریضاؤں کی بے چینی کم کر سکتی ہے جو اپنے بچے سے ملنے کے لیے تیار محسوس کرتی ہیں۔
نقصانات:
زچگی آہستہ شروع اور آگے بڑھ سکتی ہے، اور بچہ دانی کے منہ کے مکمل کھلنے میں کافی وقت لگ سکتا ہے۔ پیش رفت محدود ہونے پر ڈاکٹر زچگی آگے بڑھنے تک گھر واپس جانے کا مشورہ دے سکتا ہے۔
جھلیاں پھٹنے کے بعد انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور مریضہ کو ہسپتال میں رہنا پڑتا ہے۔
دوا سے سکڑاؤ زیادہ شدید اور تکلیف دہ ہو سکتے ہیں، خصوصاً شروع میں۔ جنین کی دھڑکن کی مسلسل نگرانی سے حرکت محدود ہو سکتی ہے۔
39 ہفتوں سے پہلے اختیاری طور پر زچگی شروع کروانا عموماً محفوظ نہیں ہوتا، کیونکہ جلد ولادت سے بچے کو دودھ پینے، جسمانی درجہ حرارت برقرار رکھنے یا سانس لینے میں مسائل ہو سکتے ہیں۔
زچگی شروع کروانے میں کتنا وقت لگتا ہے؟
زچگی شروع کروانے میں کئی گھنٹوں سے 2–3 دن تک لگ سکتے ہیں، اور پہلے حمل میں یا 37 ہفتوں سے پہلے اس میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔ اختیاری طور پر زچگی شروع کروانے کے لیے ڈاکٹر کو تصدیق کرنی ہوتی ہے کہ حمل کم از کم 39 ہفتوں کا ہو چکا ہے اور بچہ دانی کا منہ کھلنے کے لیے تیار ہے۔ بچہ دانی کے منہ کا معائنہ اور Bishop score اس کی تیاری اور اندام نہانی کی ولادت کے امکان کا اندازہ لگانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
ماخذ:
آن لائن ذرائع سے مرتب کردہ