رہنما | کیا حاملہ خواتین کو سونا اور گرم پانی کے ٹب سے پرہیز کرنا چاہیے؟ گرمی سے متعلق خطرات کو سمجھیں
اگرچہ سونا اور گرم پانی کے ٹب بظاہر بے ضرر لگ سکتے ہیں، لیکن حمل کے دوران ان کا استعمال حاملہ خاتون اور جنین کے لیے خطرات پیدا کر سکتا ہے۔ ہارمونی تبدیلیاں حاملہ خواتین کو گرمی کے لیے زیادہ حساس بنا دیتی ہیں، جس سے جسم کا حد سے زیادہ گرم ہونا، بے ہوشی، چکر آنا اور پانی کی کمی ہو سکتی ہے۔ طبی ماہرین ان خطرات کو کم کرنے کے لیے خاص احتیاط کا مشورہ دیتے ہیں۔
شدید گرمی حاملہ خاتون کے جسم کا درجہ حرارت 38°C یا اس سے زیادہ کر سکتی ہے، جو بخار کے مشابہ ہے، اور جنین کو متاثر کر سکتی ہے۔ تحقیق سے اشارہ ملتا ہے کہ حمل کے ابتدائی مرحلے میں جسم کا بلند درجہ حرارت عصبی نالی کی پیدائشی خامیوں کا خطرہ بڑھا سکتا ہے، جو جنین کے دماغ یا ریڑھ کی ہڈی کی نشوونما کو متاثر کرتی ہیں اور ان میں اسپائنا بائیفِڈا، اینین سیفلی اور اینسیفیلوسیل شامل ہیں۔ چونکہ یہ خامیاں عموماً حمل کے شروع میں بنتی ہیں، اس لیے ماہرین حمل کے پہلے چھ ہفتوں کے دوران سونا اور گرم پانی کے ٹب سے پرہیز کا مشورہ دیتے ہیں۔
حمل کے دوران خطرات کم کرنا
جو حاملہ خواتین پھر بھی سونا یا گرم پانی کا ٹب استعمال کرنا چاہیں، ماہرین درج ذیل احتیاطی تدابیر تجویز کرتے ہیں:
پانی کا درجہ حرارت کم رکھیں: زیادہ گرم ہونے سے بچنے کے لیے گرم پانی کے ٹب کا پانی 35°C سے کم رکھیں۔
مکمل طور پر نہ ڈوبیں: جسم کا اوپری حصہ پانی سے باہر رکھیں۔
دورانیہ محدود کریں: ٹب میں 10 منٹ سے زیادہ نہ رہیں۔
علامات پر نظر رکھیں: چکر آنے، متلی یا جسم کا درجہ حرارت بڑھنے کی صورت میں فوراً باہر نکلیں اور جسم ٹھنڈا کریں۔
حرارت کے ذرائع سے دور رہیں: گرم پانی کے ٹب کے حرارتی جیٹس کے قریب بیٹھنے سے گریز کریں۔
پہلی سہ ماہی کے بعد خطرات کم ہو جاتے ہیں، لیکن پھر بھی جسم کے درجہ حرارت اور علامات کی احتیاط سے نگرانی کرنی چاہیے۔
حادثاتی طور پر گرمی کا سامنا ہونے کے بعد کیا کریں
اگر حمل کے ابتدائی مرحلے میں سونا یا گرم پانی کا ٹب استعمال کیا گیا ہو تو قبل از پیدائش معائنے کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ درجہ حرارت میں اضافے اور علامات کی بنیاد پر ڈاکٹر یہ طے کر سکتا ہے کہ جنین میں عصبی نالی کی پیدائشی خامیوں کے خطرے کا جائزہ لینے کے لیے مزید ٹیسٹ ضروری ہیں یا نہیں۔ عموماً جانچ میں خون کے ٹیسٹ اور الٹراساؤنڈ شامل ہوتے ہیں۔ فولک ایسڈ کا استعمال بھی عصبی نالی کی پیدائشی خامیوں کا خطرہ کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
ماہرین حاملہ خاتون اور جنین کو گرمی سے متعلق ممکنہ خطرات کم کرنے کے لیے آرام کے دیگر طریقے، جیسے ہلکی مالش یا نیم گرم غسل، تجویز کرتے ہیں۔
رہنما | کیا حاملہ خواتین کو سونا اور گرم پانی کے ٹب سے پرہیز کرنا چاہیے؟ گرمی سے متعلق خطرات کو سمجھیں
رہنما | کیا حاملہ خواتین کو سونا اور گرم پانی کے ٹب سے پرہیز کرنا چاہیے؟ گرمی سے متعلق خطرات کو سمجھیں
اگرچہ سونا اور گرم پانی کے ٹب بظاہر بے ضرر لگ سکتے ہیں، لیکن حمل کے دوران ان کا استعمال حاملہ خاتون اور جنین کے لیے خطرات پیدا کر سکتا ہے۔ ہارمونی تبدیلیاں حاملہ خواتین کو گرمی کے لیے زیادہ حساس بنا دیتی ہیں، جس سے جسم کا حد سے زیادہ گرم ہونا، بے ہوشی، چکر آنا اور پانی کی کمی ہو سکتی ہے۔ طبی ماہرین ان خطرات کو کم کرنے کے لیے خاص احتیاط کا مشورہ دیتے ہیں۔
شدید گرمی حاملہ خاتون کے جسم کا درجہ حرارت 38°C یا اس سے زیادہ کر سکتی ہے، جو بخار کے مشابہ ہے، اور جنین کو متاثر کر سکتی ہے۔ تحقیق سے اشارہ ملتا ہے کہ حمل کے ابتدائی مرحلے میں جسم کا بلند درجہ حرارت عصبی نالی کی پیدائشی خامیوں کا خطرہ بڑھا سکتا ہے، جو جنین کے دماغ یا ریڑھ کی ہڈی کی نشوونما کو متاثر کرتی ہیں اور ان میں اسپائنا بائیفِڈا، اینین سیفلی اور اینسیفیلوسیل شامل ہیں۔ چونکہ یہ خامیاں عموماً حمل کے شروع میں بنتی ہیں، اس لیے ماہرین حمل کے پہلے چھ ہفتوں کے دوران سونا اور گرم پانی کے ٹب سے پرہیز کا مشورہ دیتے ہیں۔
حمل کے دوران خطرات کم کرنا
جو حاملہ خواتین پھر بھی سونا یا گرم پانی کا ٹب استعمال کرنا چاہیں، ماہرین درج ذیل احتیاطی تدابیر تجویز کرتے ہیں:
پانی کا درجہ حرارت کم رکھیں: زیادہ گرم ہونے سے بچنے کے لیے گرم پانی کے ٹب کا پانی 35°C سے کم رکھیں۔
مکمل طور پر نہ ڈوبیں: جسم کا اوپری حصہ پانی سے باہر رکھیں۔
دورانیہ محدود کریں: ٹب میں 10 منٹ سے زیادہ نہ رہیں۔
علامات پر نظر رکھیں: چکر آنے، متلی یا جسم کا درجہ حرارت بڑھنے کی صورت میں فوراً باہر نکلیں اور جسم ٹھنڈا کریں۔
حرارت کے ذرائع سے دور رہیں: گرم پانی کے ٹب کے حرارتی جیٹس کے قریب بیٹھنے سے گریز کریں۔
پہلی سہ ماہی کے بعد خطرات کم ہو جاتے ہیں، لیکن پھر بھی جسم کے درجہ حرارت اور علامات کی احتیاط سے نگرانی کرنی چاہیے۔
حادثاتی طور پر گرمی کا سامنا ہونے کے بعد کیا کریں
اگر حمل کے ابتدائی مرحلے میں سونا یا گرم پانی کا ٹب استعمال کیا گیا ہو تو قبل از پیدائش معائنے کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ درجہ حرارت میں اضافے اور علامات کی بنیاد پر ڈاکٹر یہ طے کر سکتا ہے کہ جنین میں عصبی نالی کی پیدائشی خامیوں کے خطرے کا جائزہ لینے کے لیے مزید ٹیسٹ ضروری ہیں یا نہیں۔ عموماً جانچ میں خون کے ٹیسٹ اور الٹراساؤنڈ شامل ہوتے ہیں۔ فولک ایسڈ کا استعمال بھی عصبی نالی کی پیدائشی خامیوں کا خطرہ کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
ماہرین حاملہ خاتون اور جنین کو گرمی سے متعلق ممکنہ خطرات کم کرنے کے لیے آرام کے دیگر طریقے، جیسے ہلکی مالش یا نیم گرم غسل، تجویز کرتے ہیں۔
ماخذ:
آن لائن سے جمع کردہ