خبر | جین میں ترمیم کے نئے نتائج: انسانی جنین میں DNA کی مرمت کی صلاحیت محدود ہے
برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی کی ڈاکٹر Nada Kubikova کی سربراہی میں تحقیقی ٹیم کے شائع کردہ نتائج ابتدائی انسانی جنین میں جین میں ترمیم کی ٹیکنالوجی کے استعمال کے بارے میں سنگین انتباہ دیتے ہیں۔ نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابتدائی جنینی خلیوں میں DNA کو پہنچنے والے نقصان کی مرمت کی صلاحیت محدود ہوتی ہے، جس کے موروثی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے جین میں ترمیم کے محفوظ استعمال پر اہم اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ یہ مطالعہ یورپی سوسائٹی آف ہیومن ری پروڈکشن اینڈ ایمبریولوجی (ESHRE) کے 39ویں سالانہ اجلاس میں پیش کیا گیا۔
جین میں ترمیم: امکانات اور خطرات
ڈاکٹر Kubikova نے بتایا کہ اگرچہ CRISPR-Cas9 میں خراب جینز کی اصلاح کی صلاحیت ہے، لیکن ابتدائی جنین میں اس کا استعمال منفی نتائج کا سبب بن سکتا ہے۔ مطالعے سے معلوم ہوا کہ CRISPR نے مطلوبہ DNA حصے کو مؤثر طور پر ہدف بنایا، لیکن DNA کے نقصان میں سے صرف 9% کی مرمت ہم شکلی ہدایت یافتہ مرمت (HDR) کے ذریعے ہوئی، جو جینیاتی تبدیلیوں کی طبی اصلاح کا اہم طریقہ ہے۔ نصف سے زیادہ معاملات میں DNA کے ٹوٹے ہوئے حصوں کی مرمت غیر ہم شکل اختتامی اتصال (NHEJ) کے ذریعے ہوئی، جس سے نئی جینیاتی تبدیلیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ DNA کے ٹوٹے ہوئے حصوں میں سے 40% تک کی مرمت نہیں ہو سکی، جس کے نتیجے میں کروموسوم کے بڑے حصے حذف یا دوہرے ہو گئے۔
یہ غیر معمولیات جنین کی نشوونما روک سکتی ہیں اور کامیاب پیوند کاری کے بعد بھی پیدائشی سنگین عوارض کا خطرہ بڑھا سکتی ہیں۔
مطالعے کا ڈیزائن: DNA کی مرمت کے طریقۂ کار کی وضاحت
اخلاقی منظوری حاصل شدہ تجربے میں ٹیم نے انٹرا سائٹوپلازمک اسپرم انجیکشن (ICSI) کے ذریعے 84 جنین تیار کیے۔ ان میں سے 33 میں CRISPR-Cas9 کے ذریعے DNA کی دونوں لڑیاں توڑی گئیں، جبکہ باقی 51 جنین بطور کنٹرول استعمال ہوئے۔ ہدف والے حصے میں کوئی مخصوص جین شامل نہ ہونے کے باوجود بھی جنینی خلیوں نے DNA کے نقصان کی مرمت کے لیے NHEJ کو ترجیح دی۔ یہ طریقہ جینیاتی کوڈ کے ’حروف‘ حذف یا دوہرے کر سکتا ہے اور جین کے افعال میں خلل ڈال سکتا ہے۔
جین میں ترمیم کا مستقبل: ٹیکنالوجی میں بہتری اور جنین کا تحفظ
اگرچہ یہ مطالعہ موجودہ طریقوں کے بارے میں محتاط رہنے کی تلقین کرتا ہے، لیکن امید بھی دلاتا ہے۔ ڈاکٹر Kubikova نے کہا کہ جین میں ترمیم کی تکنیکوں میں تبدیلیاں خطرات کم اور مرمت کی کارکردگی بہتر کر سکتی ہیں۔ یہ نتائج ان وٹرو فرٹیلائزیشن (IVF) کو بہتر بنانے کے نئے طریقے بھی فراہم کر سکتے ہیں، کیونکہ اس وقت IVF کے صرف تقریباً ایک چوتھائی جنین بچے بن پاتے ہیں۔
ٹیم یہ جانچنے کا ارادہ رکھتی ہے کہ ابتدائی جنین کو DNA کے نقصان سے کیسے محفوظ رکھا جائے اور جین میں ترمیم کے ایسے نرم طریقے کیسے تیار کیے جائیں جن میں DNA کو توڑنا شامل نہ ہو۔ بالآخر ان کوششوں سے موروثی جینیاتی تبدیلیوں کو محفوظ طریقے سے واپس درست کرنا اور بعض سنگین جینیاتی بیماریوں کو نسل در نسل منتقل ہونے سے روکنا ممکن ہو سکتا ہے۔
اخلاقیات اور ضابطہ کاری: جین میں ترمیم کے لیے احتیاط ضروری ہے
ESHRE کی چیئر منتخب پروفیسر Karen Sermon نے تبصرہ کیا کہ یہ مطالعہ انسانی جنین میں جین میں ترمیم کے استعمال سے پہلے جامع اور محتاط تحقیق کی ضرورت واضح کرتا ہے۔ اگرچہ جین میں ترمیم ایک دن موروثی بیماریوں سے بچاؤ کا اہم ذریعہ بن سکتی ہے، لیکن اس کی حفاظت اور افادیت ابھی پوری طرح سمجھ میں نہیں آئی۔
ڈاکٹر Kubikova نے نتیجہ اخذ کرتے ہوئے کہا: “اگرچہ موجودہ نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنین میں CRISPR کے استعمال کے حوالے سے بڑے چیلنجز باقی ہیں، مستقبل کی تکنیکی پیش رفت جین میں ترمیم کے لیے ایک محفوظ راستہ کھول سکتی ہے اور بہت سے خاندانوں کو موروثی بیماریوں سے بچنے میں مدد دے سکتی ہے۔”
خبر | جین میں ترمیم کے نئے نتائج: انسانی جنین میں DNA کی مرمت کی صلاحیت محدود ہے
خبر | جین میں ترمیم کے نئے نتائج: انسانی جنین میں DNA کی مرمت کی صلاحیت محدود ہے
برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی کی ڈاکٹر Nada Kubikova کی سربراہی میں تحقیقی ٹیم کے شائع کردہ نتائج ابتدائی انسانی جنین میں جین میں ترمیم کی ٹیکنالوجی کے استعمال کے بارے میں سنگین انتباہ دیتے ہیں۔ نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابتدائی جنینی خلیوں میں DNA کو پہنچنے والے نقصان کی مرمت کی صلاحیت محدود ہوتی ہے، جس کے موروثی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے جین میں ترمیم کے محفوظ استعمال پر اہم اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ یہ مطالعہ یورپی سوسائٹی آف ہیومن ری پروڈکشن اینڈ ایمبریولوجی (ESHRE) کے 39ویں سالانہ اجلاس میں پیش کیا گیا۔
جین میں ترمیم: امکانات اور خطرات
ڈاکٹر Kubikova نے بتایا کہ اگرچہ CRISPR-Cas9 میں خراب جینز کی اصلاح کی صلاحیت ہے، لیکن ابتدائی جنین میں اس کا استعمال منفی نتائج کا سبب بن سکتا ہے۔ مطالعے سے معلوم ہوا کہ CRISPR نے مطلوبہ DNA حصے کو مؤثر طور پر ہدف بنایا، لیکن DNA کے نقصان میں سے صرف 9% کی مرمت ہم شکلی ہدایت یافتہ مرمت (HDR) کے ذریعے ہوئی، جو جینیاتی تبدیلیوں کی طبی اصلاح کا اہم طریقہ ہے۔ نصف سے زیادہ معاملات میں DNA کے ٹوٹے ہوئے حصوں کی مرمت غیر ہم شکل اختتامی اتصال (NHEJ) کے ذریعے ہوئی، جس سے نئی جینیاتی تبدیلیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ DNA کے ٹوٹے ہوئے حصوں میں سے 40% تک کی مرمت نہیں ہو سکی، جس کے نتیجے میں کروموسوم کے بڑے حصے حذف یا دوہرے ہو گئے۔
یہ غیر معمولیات جنین کی نشوونما روک سکتی ہیں اور کامیاب پیوند کاری کے بعد بھی پیدائشی سنگین عوارض کا خطرہ بڑھا سکتی ہیں۔
مطالعے کا ڈیزائن: DNA کی مرمت کے طریقۂ کار کی وضاحت
اخلاقی منظوری حاصل شدہ تجربے میں ٹیم نے انٹرا سائٹوپلازمک اسپرم انجیکشن (ICSI) کے ذریعے 84 جنین تیار کیے۔ ان میں سے 33 میں CRISPR-Cas9 کے ذریعے DNA کی دونوں لڑیاں توڑی گئیں، جبکہ باقی 51 جنین بطور کنٹرول استعمال ہوئے۔ ہدف والے حصے میں کوئی مخصوص جین شامل نہ ہونے کے باوجود بھی جنینی خلیوں نے DNA کے نقصان کی مرمت کے لیے NHEJ کو ترجیح دی۔ یہ طریقہ جینیاتی کوڈ کے ’حروف‘ حذف یا دوہرے کر سکتا ہے اور جین کے افعال میں خلل ڈال سکتا ہے۔
جین میں ترمیم کا مستقبل: ٹیکنالوجی میں بہتری اور جنین کا تحفظ
اگرچہ یہ مطالعہ موجودہ طریقوں کے بارے میں محتاط رہنے کی تلقین کرتا ہے، لیکن امید بھی دلاتا ہے۔ ڈاکٹر Kubikova نے کہا کہ جین میں ترمیم کی تکنیکوں میں تبدیلیاں خطرات کم اور مرمت کی کارکردگی بہتر کر سکتی ہیں۔ یہ نتائج ان وٹرو فرٹیلائزیشن (IVF) کو بہتر بنانے کے نئے طریقے بھی فراہم کر سکتے ہیں، کیونکہ اس وقت IVF کے صرف تقریباً ایک چوتھائی جنین بچے بن پاتے ہیں۔
ٹیم یہ جانچنے کا ارادہ رکھتی ہے کہ ابتدائی جنین کو DNA کے نقصان سے کیسے محفوظ رکھا جائے اور جین میں ترمیم کے ایسے نرم طریقے کیسے تیار کیے جائیں جن میں DNA کو توڑنا شامل نہ ہو۔ بالآخر ان کوششوں سے موروثی جینیاتی تبدیلیوں کو محفوظ طریقے سے واپس درست کرنا اور بعض سنگین جینیاتی بیماریوں کو نسل در نسل منتقل ہونے سے روکنا ممکن ہو سکتا ہے۔
اخلاقیات اور ضابطہ کاری: جین میں ترمیم کے لیے احتیاط ضروری ہے
ESHRE کی چیئر منتخب پروفیسر Karen Sermon نے تبصرہ کیا کہ یہ مطالعہ انسانی جنین میں جین میں ترمیم کے استعمال سے پہلے جامع اور محتاط تحقیق کی ضرورت واضح کرتا ہے۔ اگرچہ جین میں ترمیم ایک دن موروثی بیماریوں سے بچاؤ کا اہم ذریعہ بن سکتی ہے، لیکن اس کی حفاظت اور افادیت ابھی پوری طرح سمجھ میں نہیں آئی۔
ڈاکٹر Kubikova نے نتیجہ اخذ کرتے ہوئے کہا: “اگرچہ موجودہ نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنین میں CRISPR کے استعمال کے حوالے سے بڑے چیلنجز باقی ہیں، مستقبل کی تکنیکی پیش رفت جین میں ترمیم کے لیے ایک محفوظ راستہ کھول سکتی ہے اور بہت سے خاندانوں کو موروثی بیماریوں سے بچنے میں مدد دے سکتی ہے۔”
ماخذ:
آن لائن جمع کردہ