رہنما | نطفے کے معیار اور تعداد میں بہتری: مردانہ زرخیزی کی معاونت کے آسان طریقے
حمل ٹھہرنے میں دشواری کا تعلق نطفوں کی کم تعداد سے ہو سکتا ہے، جو مردانہ بانجھ پن کی ایک عام وجہ ہے۔ تشخیص کے لیے طبی معائنہ ضروری ہے، تاہم کئی آسان اقدامات قدرتی طور پر نطفوں کی تعداد اور معیار میں معاونت کر سکتے ہیں۔
نطفوں کی کم تعداد کیا ہے؟
منی کے فی ملی لیٹر میں نطفوں کا معمول کا ارتکاز کم از کم 15 ملین ہوتا ہے۔ اس سے کم سطح کو نطفوں کی کم تعداد سمجھا جاتا ہے، جسے طبّی اصطلاح میں اولیگواسپرمیہ کہا جاتا ہے۔ نطفوں کی تعداد کم ہونے سے بیضے تک پہنچنے اور اسے بارآور کرنے کا امکان گھٹ جاتا ہے، جس سے زرخیزی کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
صحت مند نطفہ کیا ہوتا ہے؟
تعداد معمول کے مطابق ہونے کے باوجود نطفوں کا معیار اہم ہے۔ نطفے صحت مند اور اتنے متحرک ہونے چاہییں کہ اندام نہانی سے گزر کر عنق رحم اور رحم سے نالیٔ رحم تک پہنچیں اور بیضے کو بارآور کریں۔ خراب معیار کی وجہ سے معمول کی تعداد کے باوجود حمل ٹھہرنا مشکل ہو سکتا ہے۔
ڈاکٹر نطفوں کے معیار کا تین طریقوں سے جائزہ لیتے ہیں:
تعداد: منی میں موجود نطفوں کی تعداد۔ معمول کا ارتکاز فی ملی لیٹر کم از کم 15 ملین ہوتا ہے۔
حرکت پذیری: نطفے کتنی تیزی اور مؤثریت سے بیضے کی طرف حرکت کرتے ہیں۔ بہتر طور پر کم از کم 50% میں اچھی حرکت پذیری ہونی چاہیے۔
ساخت: معمول کے نطفے کا سر بیضوی اور دم لمبی ہوتی ہے، جو اسے بیضے کی طرف تیرنے میں مدد دیتی ہے۔ معمول کی ساخت والے نطفوں کے بیضے تک پہنچنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔
نطفوں کی کم تعداد کی وجوہات
نطفوں کی کم تعداد کی کئی ممکنہ وجوہات ہیں، جن میں سابقہ صحت کے مسائل، عمر اور ماحولیاتی عوامل شامل ہیں۔ طرزِ زندگی بھی اہم ہے: سگریٹ نوشی اور تفریحی منشیات کا استعمال نطفوں کی تعداد اور معیار کو متاثر کر سکتا ہے۔
نطفوں کی تعداد اور معیار کیسے بہتر بنائے جا سکتے ہیں؟
تحقیق سے معاونت یافتہ کئی آسان طریقے مددگار ہو سکتے ہیں:
اعتدال سے ورزش کریں
اعتدال کی ورزش مزاج اور نطفوں کی تعداد بہتر بنا سکتی ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ ہفتے میں کم از کم تین بار ایک گھنٹے کی ورزش نطفوں کی تعداد اور حرکت پذیری میں نمایاں اضافہ کر سکتی ہے۔
تناؤ کم کریں
اگرچہ یہ ہمیشہ آسان نہیں، لیکن نطفوں کی صحت کے لیے تناؤ کم کرنا اہم ہے۔ بانجھ پن کے علاج سے پہلے دو سے زیادہ بڑے دباؤ والے واقعات کا سامنا کرنے والے مردوں میں نطفوں کی تعداد اور حرکت پذیری کم پائی گئی۔
سگریٹ نوشی ترک کریں
سگریٹ نوش مردوں میں نطفوں کی تعداد، ارتکاز اور حرکت پذیری کم ہوتی ہے اور منی بھی کم بنتی ہے۔ ترکِ سگریٹ نوشی زرخیزی بہتر بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
تفریحی منشیات سے پرہیز کریں
کوکین اور ہیروئن جیسی منشیات عضو تناسل کے فعل کو متاثر کر سکتی ہیں، جبکہ بھنگ نطفوں کی تعداد اور حرکت پذیری کم کر سکتی ہے اور نطفوں کی معمول کی نشوونما کو متاثر کر سکتی ہے۔
صحت مند غذا کھائیں
تازہ پھل اور سبزیاں منی کے معیار کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ چکنائی والی غذاؤں میں کمی اور پروٹین کا معتدل استعمال بھی نطفوں کی صحت میں معاون ہو سکتا ہے۔
نتیجہ
نطفوں کی کم تعداد اور خراب معیار مردانہ بانجھ پن کی عام وجوہات ہیں۔ طرزِ زندگی، غذا اور صحت میں تبدیلیاں بہت سے مردوں کو قدرتی طور پر نطفوں کی تعداد اور معیار بہتر بنانے اور حمل ٹھہرنے کے امکانات بڑھانے میں مدد دے سکتی ہیں۔ نطفوں کی صحت کے بارے میں تشویش رکھنے والے افراد کو طبی معائنہ اور پیشہ ورانہ رہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔
رہنما | نطفے کے معیار اور تعداد میں بہتری: مردانہ زرخیزی کی معاونت کے آسان طریقے
رہنما | نطفے کے معیار اور تعداد میں بہتری: مردانہ زرخیزی کی معاونت کے آسان طریقے
حمل ٹھہرنے میں دشواری کا تعلق نطفوں کی کم تعداد سے ہو سکتا ہے، جو مردانہ بانجھ پن کی ایک عام وجہ ہے۔ تشخیص کے لیے طبی معائنہ ضروری ہے، تاہم کئی آسان اقدامات قدرتی طور پر نطفوں کی تعداد اور معیار میں معاونت کر سکتے ہیں۔
نطفوں کی کم تعداد کیا ہے؟
منی کے فی ملی لیٹر میں نطفوں کا معمول کا ارتکاز کم از کم 15 ملین ہوتا ہے۔ اس سے کم سطح کو نطفوں کی کم تعداد سمجھا جاتا ہے، جسے طبّی اصطلاح میں اولیگواسپرمیہ کہا جاتا ہے۔ نطفوں کی تعداد کم ہونے سے بیضے تک پہنچنے اور اسے بارآور کرنے کا امکان گھٹ جاتا ہے، جس سے زرخیزی کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
صحت مند نطفہ کیا ہوتا ہے؟
تعداد معمول کے مطابق ہونے کے باوجود نطفوں کا معیار اہم ہے۔ نطفے صحت مند اور اتنے متحرک ہونے چاہییں کہ اندام نہانی سے گزر کر عنق رحم اور رحم سے نالیٔ رحم تک پہنچیں اور بیضے کو بارآور کریں۔ خراب معیار کی وجہ سے معمول کی تعداد کے باوجود حمل ٹھہرنا مشکل ہو سکتا ہے۔
ڈاکٹر نطفوں کے معیار کا تین طریقوں سے جائزہ لیتے ہیں:
تعداد: منی میں موجود نطفوں کی تعداد۔ معمول کا ارتکاز فی ملی لیٹر کم از کم 15 ملین ہوتا ہے۔
حرکت پذیری: نطفے کتنی تیزی اور مؤثریت سے بیضے کی طرف حرکت کرتے ہیں۔ بہتر طور پر کم از کم 50% میں اچھی حرکت پذیری ہونی چاہیے۔
ساخت: معمول کے نطفے کا سر بیضوی اور دم لمبی ہوتی ہے، جو اسے بیضے کی طرف تیرنے میں مدد دیتی ہے۔ معمول کی ساخت والے نطفوں کے بیضے تک پہنچنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔
نطفوں کی کم تعداد کی وجوہات
نطفوں کی کم تعداد کی کئی ممکنہ وجوہات ہیں، جن میں سابقہ صحت کے مسائل، عمر اور ماحولیاتی عوامل شامل ہیں۔ طرزِ زندگی بھی اہم ہے: سگریٹ نوشی اور تفریحی منشیات کا استعمال نطفوں کی تعداد اور معیار کو متاثر کر سکتا ہے۔
نطفوں کی تعداد اور معیار کیسے بہتر بنائے جا سکتے ہیں؟
تحقیق سے معاونت یافتہ کئی آسان طریقے مددگار ہو سکتے ہیں:
اعتدال سے ورزش کریں
اعتدال کی ورزش مزاج اور نطفوں کی تعداد بہتر بنا سکتی ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ ہفتے میں کم از کم تین بار ایک گھنٹے کی ورزش نطفوں کی تعداد اور حرکت پذیری میں نمایاں اضافہ کر سکتی ہے۔
تناؤ کم کریں
اگرچہ یہ ہمیشہ آسان نہیں، لیکن نطفوں کی صحت کے لیے تناؤ کم کرنا اہم ہے۔ بانجھ پن کے علاج سے پہلے دو سے زیادہ بڑے دباؤ والے واقعات کا سامنا کرنے والے مردوں میں نطفوں کی تعداد اور حرکت پذیری کم پائی گئی۔
سگریٹ نوشی ترک کریں
سگریٹ نوش مردوں میں نطفوں کی تعداد، ارتکاز اور حرکت پذیری کم ہوتی ہے اور منی بھی کم بنتی ہے۔ ترکِ سگریٹ نوشی زرخیزی بہتر بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
تفریحی منشیات سے پرہیز کریں
کوکین اور ہیروئن جیسی منشیات عضو تناسل کے فعل کو متاثر کر سکتی ہیں، جبکہ بھنگ نطفوں کی تعداد اور حرکت پذیری کم کر سکتی ہے اور نطفوں کی معمول کی نشوونما کو متاثر کر سکتی ہے۔
صحت مند غذا کھائیں
تازہ پھل اور سبزیاں منی کے معیار کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ چکنائی والی غذاؤں میں کمی اور پروٹین کا معتدل استعمال بھی نطفوں کی صحت میں معاون ہو سکتا ہے۔
نتیجہ
نطفوں کی کم تعداد اور خراب معیار مردانہ بانجھ پن کی عام وجوہات ہیں۔ طرزِ زندگی، غذا اور صحت میں تبدیلیاں بہت سے مردوں کو قدرتی طور پر نطفوں کی تعداد اور معیار بہتر بنانے اور حمل ٹھہرنے کے امکانات بڑھانے میں مدد دے سکتی ہیں۔ نطفوں کی صحت کے بارے میں تشویش رکھنے والے افراد کو طبی معائنہ اور پیشہ ورانہ رہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔
ماخذ:
آن لائن جمع کردہ معلومات