رحم کے پولپس، جنہیں اینڈومیٹریئل پولپس بھی کہا جاتا ہے، رحم کی اندرونی جھلی پر بننے والی چھوٹی، نرم ابھری ہوئی رسولیاں ہوتی ہیں۔ یہ اینڈومیٹریئم سے پیدا ہوتی ہیں اور ان کا سائز تل کے بیج سے لے کر گولف کی گیند تک ہو سکتا ہے۔ آپ کو ایک پولپ یا کئی پولپس ہو سکتے ہیں۔
رحم کے زیادہ تر پولپس سرطانی نہیں ہوتے۔ بہت سی خواتین میں کوئی علامت ظاہر نہیں ہوتی، اور بعض کو علاج کی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔ ڈاکٹر انہیں معلوم کرنے اور نکالنے کے کئی طریقے استعمال کر سکتے ہیں۔
1
رحم کے پولپس کی وجوہات
ماہرین کو معلوم نہیں کہ رحم کے پولپس ٹھیک ٹھیک کیوں بنتے ہیں۔ ہارمون کی سطح میں تبدیلیاں اس میں کردار ادا کر سکتی ہیں۔ ایسٹروجن کی سطح ہر ماہ بڑھتی اور گھٹتی ہے، جس سے اینڈومیٹریئم گاڑھا ہوتا ہے اور پھر ماہواری کے دوران جھڑ جاتا ہے۔ پولپس اس وقت بنتے ہیں جب یہ جھلی ضرورت سے زیادہ بڑھ جائے۔
کچھ عوامل رحم کے پولپس کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔ عمر ایک عامل ہے: یہ پولپس عموماً 40 یا 50 کی عمر اور اس سے زیادہ عمر کی خواتین میں زیادہ عام ہوتے ہیں، ممکنہ طور پر رجونِ حیض کے آس پاس ایسٹروجن کی سطح میں تبدیلیوں کی وجہ سے۔
دیگر خطرے کے عوامل میں شامل ہیں:
موٹاپا
بلند فشارِ خون
چھاتی کے سرطان کی دوا ٹاموکسیفن
2
رحم کے پولپس کی علامات
اگر پولپ چھوٹا ہو یا صرف ایک پولپ ہو تو ممکن ہے آپ میں کوئی علامت نہ ہو۔ اگر آپ کو درج ذیل میں سے کوئی بات محسوس ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کریں:
بے قاعدہ ماہواری، جس کے اوقات، دورانیے یا خون کے بہاؤ کا اندازہ نہ ہو
ماہواری میں بہت زیادہ خون آنا
ماہواری کے درمیان خون آنا یا دھبے پڑنا
رجونِ حیض کے بعد اندام نہانی سے خون آنا
بانجھ پن
3
رحم کے پولپس کی پیچیدگیاں
رحم کے زیادہ تر پولپس سرطانی نہیں ہوتے، لیکن بعض سرطانی بن سکتے ہیں، خاص طور پر رجونِ حیض کے بعد۔ پولپس زرخیزی کو بھی متاثر کر سکتے ہیں، کیونکہ وہ بارآور بیضے کو رحم کے اندر چپکنے سے روک سکتے ہیں یا فیلوپین نالیوں یا عنقِ رحم کو بند کر سکتے ہیں، جس سے بانجھ پن ہو سکتا ہے یا اسقاطِ حمل کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
کچھ مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ پولپس نکالنے سے خواتین کو حاملہ ہونے میں مدد مل سکتی ہے، لیکن یہ سب کے لیے مؤثر نہیں ہوتا۔
4
رحم کے پولپس کی تشخیص
ڈاکٹر رحم کے اندرونی حصے کا معائنہ کر کے پولپس کی جانچ کر سکتا ہے۔ اگر پولپ مل جائے تو اسے اسی وقت نکالا بھی جا سکتا ہے۔
معائنے سے پہلے آپ کو اینٹی بایوٹکس، درد کی دوا یا عنقِ رحم کو پھیلانے والی دوا کی ضرورت ہو سکتی ہے۔
تشخیصی طریقوں میں شامل ہیں:
ٹرانس ویجائنل الٹراساؤنڈ: ڈاکٹر اندام نہانی میں ایک باریک پروب داخل کرتا ہے اور رحم کے اندرونی حصے کی تصاویر بنانے کے لیے صوتی لہریں استعمال کرتا ہے۔
سونوہائسٹروگرافی یا ہائسٹروسیلپنگوگرافی: ٹرانس ویجائنل الٹراساؤنڈ کے دوران ڈاکٹر اندام نہانی کے راستے ایک باریک نلکی داخل کر کے رحم میں نمکین محلول ڈالتا ہے، جس سے رحم پھیل جاتا ہے اور الٹراساؤنڈ کی تصویر زیادہ واضح ہو جاتی ہے۔
ہائسٹروسکوپی: ڈاکٹر ہائسٹروسکوپ نامی باریک، لچک دار اور روشن کیمرہ نما آلے کو اندام نہانی اور عنقِ رحم کے راستے رحم میں داخل کر کے اینڈومیٹریئل بافت کا معائنہ کرتا ہے۔ اگر پولپ مل جائے تو اسے اسی وقت ایک آلے سے نکالا جا سکتا ہے۔
اینڈومیٹریئل بایوپسی: ڈاکٹر نرم پلاسٹک کے آلے سے اینڈومیٹریئم کا بافتی نمونہ (بایوپسی) لیتا ہے اور اسے سرطان کے خلیوں کی جانچ کے لیے لیبارٹری بھیجتا ہے۔
عنقِ رحم کا پھیلاؤ اور کھرچائی: آپریشن تھیٹر میں ڈاکٹر پولپ یا اینڈومیٹریئل بافت کا نمونہ جانچ کے لیے لینے کی خاطر ایک دھاتی آلہ استعمال کرتا ہے، جس کے ایک سرے پر چھوٹا سا حلقہ ہوتا ہے اور اسے کیوریٹ کہتے ہیں۔ اسے پولپس نکالنے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
5
رحم کے پولپس کا علاج
آپ کے حالات کے مطابق ڈاکٹر درج ذیل میں سے کسی طریقے کی تجویز دے سکتا ہے:
نگرانی اور انتظار: اگر آپ میں کوئی علامت نہیں اور پولپ سرطانی نہیں ہے تو علاج کی ضرورت نہیں ہو سکتی اور پولپ خود بخود ختم ہو سکتا ہے۔ اگر آپ رجونِ حیض سے گزر چکی ہیں یا رحم کے سرطان کے خطرے میں ہیں تو ڈاکٹر اسے نکالنے کی تجویز دے گا۔
ادویات: پروجسٹن اور گوناڈوٹروپن خارج کرنے والے ہارمون کے ایگونسٹ ہارمون کی سطح کو منظم، پولپس کو چھوٹا اور علامات کو کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں، لیکن علاج بند ہونے کے بعد علامات واپس آ سکتی ہیں۔
جراحی: ڈاکٹر اکثر تشخیص کے وقت ہی پولپ نکال سکتے ہیں، مثلاً ہائسٹروسکوپی یا عنقِ رحم کے پھیلاؤ اور کھرچائی کے دوران۔ اگر پولپ میں سرطانی خلیے ہوں تو مکمل ہائسٹریکٹومی (پورا رحم نکالنا) کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
6
رحم کے پولپس اور رحم کی فائبرائڈز میں فرق
پولپس اور فائبرائڈز ایک جیسے ہوتے ہیں، لیکن ان میں کچھ فرق بھی ہیں۔ رحم کی فائبرائڈز اینڈومیٹریئل بافت کے بجائے رحم کی دیوار میں پٹھوں کی زائد بڑھوتری ہوتی ہیں۔ پولپس کی طرح فائبرائڈز بھی بہت زیادہ خون بہنے کا سبب بن سکتی ہیں، لیکن ان سے درد، قبض اور پیشاب کرنے میں دشواری بھی ہو سکتی ہے۔
ایک ہی طرح کے معائنے فائبرائڈز اور پولپس دونوں کا پتا لگا سکتے ہیں۔ ڈاکٹر آپ کے حالات کے مطابق موزوں ترین علاج تجویز کرے گا۔
رحم کے پولپس سے بچاؤ
رحم کے پولپس سے بچنے کا کوئی ثابت شدہ طریقہ نہیں ہے۔ اضافی وزن کم کرنے سے خطرہ کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
پولپس دوبارہ بن سکتے ہیں، اس لیے اگر آپ کا پہلے علاج ہو چکا ہے تو باقاعدہ معائنے اہم ہیں۔
معلومات | رحم کے پولپس کیا ہیں؟
معلومات | رحم کے پولپس کیا ہوتے ہیں؟
رحم کے پولپس، جنہیں اینڈومیٹریئل پولپس بھی کہا جاتا ہے، رحم کی اندرونی جھلی پر بننے والی چھوٹی، نرم ابھری ہوئی رسولیاں ہوتی ہیں۔ یہ اینڈومیٹریئم سے پیدا ہوتی ہیں اور ان کا سائز تل کے بیج سے لے کر گولف کی گیند تک ہو سکتا ہے۔ آپ کو ایک پولپ یا کئی پولپس ہو سکتے ہیں۔
رحم کے زیادہ تر پولپس سرطانی نہیں ہوتے۔ بہت سی خواتین میں کوئی علامت ظاہر نہیں ہوتی، اور بعض کو علاج کی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔ ڈاکٹر انہیں معلوم کرنے اور نکالنے کے کئی طریقے استعمال کر سکتے ہیں۔
1
رحم کے پولپس کی وجوہات
ماہرین کو معلوم نہیں کہ رحم کے پولپس ٹھیک ٹھیک کیوں بنتے ہیں۔ ہارمون کی سطح میں تبدیلیاں اس میں کردار ادا کر سکتی ہیں۔ ایسٹروجن کی سطح ہر ماہ بڑھتی اور گھٹتی ہے، جس سے اینڈومیٹریئم گاڑھا ہوتا ہے اور پھر ماہواری کے دوران جھڑ جاتا ہے۔ پولپس اس وقت بنتے ہیں جب یہ جھلی ضرورت سے زیادہ بڑھ جائے۔
کچھ عوامل رحم کے پولپس کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔ عمر ایک عامل ہے: یہ پولپس عموماً 40 یا 50 کی عمر اور اس سے زیادہ عمر کی خواتین میں زیادہ عام ہوتے ہیں، ممکنہ طور پر رجونِ حیض کے آس پاس ایسٹروجن کی سطح میں تبدیلیوں کی وجہ سے۔
دیگر خطرے کے عوامل میں شامل ہیں:
موٹاپا
بلند فشارِ خون
چھاتی کے سرطان کی دوا ٹاموکسیفن
2
رحم کے پولپس کی علامات
اگر پولپ چھوٹا ہو یا صرف ایک پولپ ہو تو ممکن ہے آپ میں کوئی علامت نہ ہو۔ اگر آپ کو درج ذیل میں سے کوئی بات محسوس ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کریں:
بے قاعدہ ماہواری، جس کے اوقات، دورانیے یا خون کے بہاؤ کا اندازہ نہ ہو
ماہواری میں بہت زیادہ خون آنا
ماہواری کے درمیان خون آنا یا دھبے پڑنا
رجونِ حیض کے بعد اندام نہانی سے خون آنا
بانجھ پن
3
رحم کے پولپس کی پیچیدگیاں
رحم کے زیادہ تر پولپس سرطانی نہیں ہوتے، لیکن بعض سرطانی بن سکتے ہیں، خاص طور پر رجونِ حیض کے بعد۔ پولپس زرخیزی کو بھی متاثر کر سکتے ہیں، کیونکہ وہ بارآور بیضے کو رحم کے اندر چپکنے سے روک سکتے ہیں یا فیلوپین نالیوں یا عنقِ رحم کو بند کر سکتے ہیں، جس سے بانجھ پن ہو سکتا ہے یا اسقاطِ حمل کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
کچھ مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ پولپس نکالنے سے خواتین کو حاملہ ہونے میں مدد مل سکتی ہے، لیکن یہ سب کے لیے مؤثر نہیں ہوتا۔
4
رحم کے پولپس کی تشخیص
ڈاکٹر رحم کے اندرونی حصے کا معائنہ کر کے پولپس کی جانچ کر سکتا ہے۔ اگر پولپ مل جائے تو اسے اسی وقت نکالا بھی جا سکتا ہے۔
معائنے سے پہلے آپ کو اینٹی بایوٹکس، درد کی دوا یا عنقِ رحم کو پھیلانے والی دوا کی ضرورت ہو سکتی ہے۔
تشخیصی طریقوں میں شامل ہیں:
ٹرانس ویجائنل الٹراساؤنڈ: ڈاکٹر اندام نہانی میں ایک باریک پروب داخل کرتا ہے اور رحم کے اندرونی حصے کی تصاویر بنانے کے لیے صوتی لہریں استعمال کرتا ہے۔
سونوہائسٹروگرافی یا ہائسٹروسیلپنگوگرافی: ٹرانس ویجائنل الٹراساؤنڈ کے دوران ڈاکٹر اندام نہانی کے راستے ایک باریک نلکی داخل کر کے رحم میں نمکین محلول ڈالتا ہے، جس سے رحم پھیل جاتا ہے اور الٹراساؤنڈ کی تصویر زیادہ واضح ہو جاتی ہے۔
ہائسٹروسکوپی: ڈاکٹر ہائسٹروسکوپ نامی باریک، لچک دار اور روشن کیمرہ نما آلے کو اندام نہانی اور عنقِ رحم کے راستے رحم میں داخل کر کے اینڈومیٹریئل بافت کا معائنہ کرتا ہے۔ اگر پولپ مل جائے تو اسے اسی وقت ایک آلے سے نکالا جا سکتا ہے۔
اینڈومیٹریئل بایوپسی: ڈاکٹر نرم پلاسٹک کے آلے سے اینڈومیٹریئم کا بافتی نمونہ (بایوپسی) لیتا ہے اور اسے سرطان کے خلیوں کی جانچ کے لیے لیبارٹری بھیجتا ہے۔
عنقِ رحم کا پھیلاؤ اور کھرچائی: آپریشن تھیٹر میں ڈاکٹر پولپ یا اینڈومیٹریئل بافت کا نمونہ جانچ کے لیے لینے کی خاطر ایک دھاتی آلہ استعمال کرتا ہے، جس کے ایک سرے پر چھوٹا سا حلقہ ہوتا ہے اور اسے کیوریٹ کہتے ہیں۔ اسے پولپس نکالنے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
5
رحم کے پولپس کا علاج
آپ کے حالات کے مطابق ڈاکٹر درج ذیل میں سے کسی طریقے کی تجویز دے سکتا ہے:
نگرانی اور انتظار: اگر آپ میں کوئی علامت نہیں اور پولپ سرطانی نہیں ہے تو علاج کی ضرورت نہیں ہو سکتی اور پولپ خود بخود ختم ہو سکتا ہے۔ اگر آپ رجونِ حیض سے گزر چکی ہیں یا رحم کے سرطان کے خطرے میں ہیں تو ڈاکٹر اسے نکالنے کی تجویز دے گا۔
ادویات: پروجسٹن اور گوناڈوٹروپن خارج کرنے والے ہارمون کے ایگونسٹ ہارمون کی سطح کو منظم، پولپس کو چھوٹا اور علامات کو کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں، لیکن علاج بند ہونے کے بعد علامات واپس آ سکتی ہیں۔
جراحی: ڈاکٹر اکثر تشخیص کے وقت ہی پولپ نکال سکتے ہیں، مثلاً ہائسٹروسکوپی یا عنقِ رحم کے پھیلاؤ اور کھرچائی کے دوران۔ اگر پولپ میں سرطانی خلیے ہوں تو مکمل ہائسٹریکٹومی (پورا رحم نکالنا) کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
6
رحم کے پولپس اور رحم کی فائبرائڈز میں فرق
پولپس اور فائبرائڈز ایک جیسے ہوتے ہیں، لیکن ان میں کچھ فرق بھی ہیں۔ رحم کی فائبرائڈز اینڈومیٹریئل بافت کے بجائے رحم کی دیوار میں پٹھوں کی زائد بڑھوتری ہوتی ہیں۔ پولپس کی طرح فائبرائڈز بھی بہت زیادہ خون بہنے کا سبب بن سکتی ہیں، لیکن ان سے درد، قبض اور پیشاب کرنے میں دشواری بھی ہو سکتی ہے۔
ایک ہی طرح کے معائنے فائبرائڈز اور پولپس دونوں کا پتا لگا سکتے ہیں۔ ڈاکٹر آپ کے حالات کے مطابق موزوں ترین علاج تجویز کرے گا۔
رحم کے پولپس سے بچاؤ
رحم کے پولپس سے بچنے کا کوئی ثابت شدہ طریقہ نہیں ہے۔ اضافی وزن کم کرنے سے خطرہ کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
پولپس دوبارہ بن سکتے ہیں، اس لیے اگر آپ کا پہلے علاج ہو چکا ہے تو باقاعدہ معائنے اہم ہیں۔
مضمون کا ماخذ
آن لائن سے جمع کردہ