معلومات | رحمِ دو حصوں والا نقص: یہ عام پیدائشی رحمی خرابی حمل اور زرخیزی کو کیسے متاثر کرتی ہے؟
رحمِ دو حصوں والا نقص ایک نشوونمائی خرابی ہے جس میں جنینی نشوونما کے دوران رحم کے وسط میں بننے والی بافتوں کی باریک جھلی مکمل طور پر جذب نہیں ہوتی۔ باقی رہ جانے والی جھلی رحم کی گہا کو دو الگ حصوں میں تقسیم کر دیتی ہے۔ اگرچہ باہر سے رحم معمول کے مطابق دکھائی دے سکتا ہے، لیکن اس کا اندرونی حصہ دل کی شکل کا ہوتا ہے۔ یہ رحم کی ساختی خرابیوں میں سے ایک عام ترین خرابی ہے اور اس سے اسقاطِ حمل، قبل از وقت پیدائش اور جنین کی غیر معمولی پوزیشن کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
رحمِ دو حصوں والے نقص کی اقسام
جھلی کی حد کے مطابق رحمِ دو حصوں والے نقص کی تین اقسام ہیں:
جزوی رحمِ دو حصوں والا نقص: جھلی گریوا تک نہیں پہنچتی اور صرف رحم کی اوپری گہا کو متاثر کرتی ہے۔
مکمل رحمِ دو حصوں والا نقص: جھلی گریوا تک پھیل جاتی ہے اور رحم کی گہا کو مکمل طور پر تقسیم کر دیتی ہے۔
رحم اور اندام نہانی کا دو حصوں والا نقص: جھلی اندام نہانی تک بھی پھیل جاتی ہے، جس سے ساختی تقسیم زیادہ پیچیدہ ہو جاتی ہے۔
وجہ
رحمِ دو حصوں والا نقص ایک پیدائشی نشوونمائی خرابی ہے۔ عام طور پر جنینی نشوونما کے دوران دونوں مولیرین نالیاں مل کر رحم اور فلوپین ٹیوبز بناتی ہیں اور مرکزی جھلی جذب ہو جاتی ہے۔ بعض خواتین میں جذب کا عمل نامکمل رہتا ہے اور جھلی باقی رہ جاتی ہے۔ اس کی حتمی وجہ معلوم نہیں، تاہم تحقیق ممکنہ جینیاتی رجحان کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
علامات اور جسمانی اثرات
بہت سی خواتین میں بلوغت سے پہلے کوئی واضح علامات نہیں ہوتیں، اس لیے یہ کیفیت برسوں تک تشخیص سے پوشیدہ رہ سکتی ہے۔ بعض کو ماہواری کے دوران زیادہ شدید مروڑ محسوس ہوتے ہیں، لیکن زیادہ تر کی تشخیص بار بار اسقاطِ حمل یا قبل از وقت پیدائش کے بعد ہی ہوتی ہے۔
معمول کی رحم کی گہا تکونی ہوتی ہے، جبکہ رحمِ دو حصوں والے نقص میں گہا دل کی شکل کی ہوتی ہے۔ کم گہری جھلی سے ظاہری تبدیلی بہت کم ہو سکتی ہے، جس سے تشخیص مشکل ہو جاتی ہے۔
تشخیص
چونکہ جھلی عموماً بافتوں کی انتہائی باریک تہہ ہوتی ہے جسے براہِ راست دیکھنا مشکل ہوتا ہے، اس لیے تشخیص زیادہ تر تصویری معائنے پر منحصر ہوتی ہے، جن میں شامل ہیں:
3D الٹراساؤنڈ: رحم کی ساخت کی سہ جہتی تصویر فراہم کرتا ہے اور تشخیص کا ترجیحی طریقہ ہے؛
2D الٹراساؤنڈ: ابتدائی جانچ کے لیے استعمال ہوتا ہے؛
مقناطیسی گونج کی تصویربرداری (MRI): رحمِ دو حصوں والے نقص اور دو شاخہ رحم میں فرق کرنے میں مدد دیتی ہے؛ دونوں میں دو گہائیاں ہوتی ہیں، مگر ان کی وجہ اور طبی اہمیت مختلف ہوتی ہے؛
ہسٹروسکوپی: ایک چھوٹے کیمرے کے ذریعے رحم کی گہا کو براہِ راست دیکھتی ہے اور تشخیص و علاج دونوں کے لیے اہم ہے۔
علاج
ہسٹروسکوپک میٹروپلاسٹی بنیادی علاج ہے۔ ڈاکٹر ہسٹروسکوپ کو رحم کی گہا میں داخل کرکے جراحی آلات کے ذریعے جھلی کے بافتے کو ہٹا دیتا ہے، جس سے ایک واحد گہا بحال ہو جاتی ہے۔
یہ کم تکلیف دہ ایک روزہ طریقۂ کار عموماً مریضہ کو اسی دن گھر واپس جانے کی اجازت دیتا ہے۔ پیچیدہ صورتوں میں مختصر مدت کے لیے اسپتال میں قیام درکار ہو سکتا ہے۔ پیٹ میں ہلکا درد یا معمولی خون بہنا عام ہے اور عموماً 1 سے 2 دن تک رہتا ہے۔
انفیکشن کے خطرے کو کم کرنے کے لیے ڈاکٹر عموماً سرجری کے بعد ٹیمپون استعمال نہ کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ شدید درد یا زیادہ خون بہنے کی صورت میں فوری طبی امداد لینی چاہیے۔
کامیاب صحت یابی سے اسقاطِ حمل اور قبل از وقت پیدائش کے خطرات نمایاں طور پر کم ہو سکتے ہیں۔ پیچیدگیاں غیر معمولی ہیں، جبکہ شدید خون بہنا یا رحم میں سوراخ ہونا شاذ و نادر ہی ہوتا ہے۔
زرخیزی اور حمل پر اثرات
رحمِ دو حصوں والے نقص کی حامل خواتین حاملہ ہو کر صحت مند بچوں کو جنم دے سکتی ہیں، لیکن حمل کے خطرات نسبتاً زیادہ ہوتے ہیں۔ ممکنہ پیچیدگیوں میں شامل ہیں:
اسقاطِ حمل یا قبل از وقت پیدائش؛
جنین کی نشوونما میں رکاوٹ یا پیدائش کے وقت کم وزن؛
آنول کا جزوی یا مکمل الگ ہونا؛
جنین کی غیر معمولی پوزیشن، مثلاً پاؤں کے بل ہونا؛
آپریشن کے ذریعے بچے کی پیدائش کی زیادہ شرح؛
بعض صورتوں میں بانجھ پن۔
Virtua Health کی ماہرِ زچگی و امراضِ نسواں ڈاکٹر الزبتھ شائی نے کہا: ‘رحمِ دو حصوں والے نقص کی حامل زیادہ تر خواتین حاملہ ہو سکتی ہیں اور صحت مند بچوں کو جنم دے سکتی ہیں۔ بہت سی خواتین میں کوئی علامات نہیں ہوتیں اور انہیں یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ ان کے رحم کی ساخت مختلف ہے۔’
ڈاکٹر شائی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جن خواتین میں حاملہ ہونے میں دشواری یا بار بار اسقاطِ حمل کے دوران جھلی کی موجودگی کا پتا چلے، انہیں علاج کے اختیارات پر اپنے ڈاکٹر سے بات کرنی چاہیے۔ ہسٹروسکوپک ریسیکشن عموماً حمل کے نتائج بہتر بناتا ہے۔
طبی جائزہ
تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ رحمِ دو حصوں والا نقص لازماً بانجھ پن کا سبب نہیں بنتا، لیکن اس کا تعلق اسقاطِ حمل کے زیادہ خطرے سے ہے۔ حمل کی منصوبہ بندی کرنے والی خواتین کے لیے رحم کی ساخت کا جائزہ ممکنہ خطرات کی جلد شناخت میں مدد دے سکتا ہے۔
مجموعی طور پر، مناسب علاج اور حمل کے دوران قریبی نگرانی کے ساتھ رحمِ دو حصوں والے نقص کی زیادہ تر مریضات کا حمل معمول کے مطابق رہتا ہے اور نتیجہ اچھا ہوتا ہے۔
معلومات | رحمِ دو حصوں والا نقص: یہ عام پیدائشی رحمی خرابی حمل اور زرخیزی کو کیسے متاثر کرتی ہے؟
معلومات | رحمِ دو حصوں والا نقص: یہ عام پیدائشی رحمی خرابی حمل اور زرخیزی کو کیسے متاثر کرتی ہے؟
رحمِ دو حصوں والا نقص ایک نشوونمائی خرابی ہے جس میں جنینی نشوونما کے دوران رحم کے وسط میں بننے والی بافتوں کی باریک جھلی مکمل طور پر جذب نہیں ہوتی۔ باقی رہ جانے والی جھلی رحم کی گہا کو دو الگ حصوں میں تقسیم کر دیتی ہے۔ اگرچہ باہر سے رحم معمول کے مطابق دکھائی دے سکتا ہے، لیکن اس کا اندرونی حصہ دل کی شکل کا ہوتا ہے۔ یہ رحم کی ساختی خرابیوں میں سے ایک عام ترین خرابی ہے اور اس سے اسقاطِ حمل، قبل از وقت پیدائش اور جنین کی غیر معمولی پوزیشن کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
رحمِ دو حصوں والے نقص کی اقسام
جھلی کی حد کے مطابق رحمِ دو حصوں والے نقص کی تین اقسام ہیں:
جزوی رحمِ دو حصوں والا نقص: جھلی گریوا تک نہیں پہنچتی اور صرف رحم کی اوپری گہا کو متاثر کرتی ہے۔
مکمل رحمِ دو حصوں والا نقص: جھلی گریوا تک پھیل جاتی ہے اور رحم کی گہا کو مکمل طور پر تقسیم کر دیتی ہے۔
رحم اور اندام نہانی کا دو حصوں والا نقص: جھلی اندام نہانی تک بھی پھیل جاتی ہے، جس سے ساختی تقسیم زیادہ پیچیدہ ہو جاتی ہے۔
وجہ
رحمِ دو حصوں والا نقص ایک پیدائشی نشوونمائی خرابی ہے۔ عام طور پر جنینی نشوونما کے دوران دونوں مولیرین نالیاں مل کر رحم اور فلوپین ٹیوبز بناتی ہیں اور مرکزی جھلی جذب ہو جاتی ہے۔ بعض خواتین میں جذب کا عمل نامکمل رہتا ہے اور جھلی باقی رہ جاتی ہے۔ اس کی حتمی وجہ معلوم نہیں، تاہم تحقیق ممکنہ جینیاتی رجحان کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
علامات اور جسمانی اثرات
بہت سی خواتین میں بلوغت سے پہلے کوئی واضح علامات نہیں ہوتیں، اس لیے یہ کیفیت برسوں تک تشخیص سے پوشیدہ رہ سکتی ہے۔ بعض کو ماہواری کے دوران زیادہ شدید مروڑ محسوس ہوتے ہیں، لیکن زیادہ تر کی تشخیص بار بار اسقاطِ حمل یا قبل از وقت پیدائش کے بعد ہی ہوتی ہے۔
معمول کی رحم کی گہا تکونی ہوتی ہے، جبکہ رحمِ دو حصوں والے نقص میں گہا دل کی شکل کی ہوتی ہے۔ کم گہری جھلی سے ظاہری تبدیلی بہت کم ہو سکتی ہے، جس سے تشخیص مشکل ہو جاتی ہے۔
تشخیص
چونکہ جھلی عموماً بافتوں کی انتہائی باریک تہہ ہوتی ہے جسے براہِ راست دیکھنا مشکل ہوتا ہے، اس لیے تشخیص زیادہ تر تصویری معائنے پر منحصر ہوتی ہے، جن میں شامل ہیں:
3D الٹراساؤنڈ: رحم کی ساخت کی سہ جہتی تصویر فراہم کرتا ہے اور تشخیص کا ترجیحی طریقہ ہے؛
2D الٹراساؤنڈ: ابتدائی جانچ کے لیے استعمال ہوتا ہے؛
مقناطیسی گونج کی تصویربرداری (MRI): رحمِ دو حصوں والے نقص اور دو شاخہ رحم میں فرق کرنے میں مدد دیتی ہے؛ دونوں میں دو گہائیاں ہوتی ہیں، مگر ان کی وجہ اور طبی اہمیت مختلف ہوتی ہے؛
ہسٹروسکوپی: ایک چھوٹے کیمرے کے ذریعے رحم کی گہا کو براہِ راست دیکھتی ہے اور تشخیص و علاج دونوں کے لیے اہم ہے۔
علاج
ہسٹروسکوپک میٹروپلاسٹی بنیادی علاج ہے۔ ڈاکٹر ہسٹروسکوپ کو رحم کی گہا میں داخل کرکے جراحی آلات کے ذریعے جھلی کے بافتے کو ہٹا دیتا ہے، جس سے ایک واحد گہا بحال ہو جاتی ہے۔
یہ کم تکلیف دہ ایک روزہ طریقۂ کار عموماً مریضہ کو اسی دن گھر واپس جانے کی اجازت دیتا ہے۔ پیچیدہ صورتوں میں مختصر مدت کے لیے اسپتال میں قیام درکار ہو سکتا ہے۔ پیٹ میں ہلکا درد یا معمولی خون بہنا عام ہے اور عموماً 1 سے 2 دن تک رہتا ہے۔
انفیکشن کے خطرے کو کم کرنے کے لیے ڈاکٹر عموماً سرجری کے بعد ٹیمپون استعمال نہ کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ شدید درد یا زیادہ خون بہنے کی صورت میں فوری طبی امداد لینی چاہیے۔
کامیاب صحت یابی سے اسقاطِ حمل اور قبل از وقت پیدائش کے خطرات نمایاں طور پر کم ہو سکتے ہیں۔ پیچیدگیاں غیر معمولی ہیں، جبکہ شدید خون بہنا یا رحم میں سوراخ ہونا شاذ و نادر ہی ہوتا ہے۔
زرخیزی اور حمل پر اثرات
رحمِ دو حصوں والے نقص کی حامل خواتین حاملہ ہو کر صحت مند بچوں کو جنم دے سکتی ہیں، لیکن حمل کے خطرات نسبتاً زیادہ ہوتے ہیں۔ ممکنہ پیچیدگیوں میں شامل ہیں:
اسقاطِ حمل یا قبل از وقت پیدائش؛
جنین کی نشوونما میں رکاوٹ یا پیدائش کے وقت کم وزن؛
آنول کا جزوی یا مکمل الگ ہونا؛
جنین کی غیر معمولی پوزیشن، مثلاً پاؤں کے بل ہونا؛
آپریشن کے ذریعے بچے کی پیدائش کی زیادہ شرح؛
بعض صورتوں میں بانجھ پن۔
Virtua Health کی ماہرِ زچگی و امراضِ نسواں ڈاکٹر الزبتھ شائی نے کہا: ‘رحمِ دو حصوں والے نقص کی حامل زیادہ تر خواتین حاملہ ہو سکتی ہیں اور صحت مند بچوں کو جنم دے سکتی ہیں۔ بہت سی خواتین میں کوئی علامات نہیں ہوتیں اور انہیں یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ ان کے رحم کی ساخت مختلف ہے۔’
ڈاکٹر شائی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جن خواتین میں حاملہ ہونے میں دشواری یا بار بار اسقاطِ حمل کے دوران جھلی کی موجودگی کا پتا چلے، انہیں علاج کے اختیارات پر اپنے ڈاکٹر سے بات کرنی چاہیے۔ ہسٹروسکوپک ریسیکشن عموماً حمل کے نتائج بہتر بناتا ہے۔
طبی جائزہ
تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ رحمِ دو حصوں والا نقص لازماً بانجھ پن کا سبب نہیں بنتا، لیکن اس کا تعلق اسقاطِ حمل کے زیادہ خطرے سے ہے۔ حمل کی منصوبہ بندی کرنے والی خواتین کے لیے رحم کی ساخت کا جائزہ ممکنہ خطرات کی جلد شناخت میں مدد دے سکتا ہے۔
مجموعی طور پر، مناسب علاج اور حمل کے دوران قریبی نگرانی کے ساتھ رحمِ دو حصوں والے نقص کی زیادہ تر مریضات کا حمل معمول کے مطابق رہتا ہے اور نتیجہ اچھا ہوتا ہے۔
کہانی کا ماخذ:
آن لائن جمع کیا گیا