خبر | بڑھاپے کی نئی تعریف: ارتقا کی ایک بڑی کامیابی
جدید معاشرے میں بڑھاپے کو اکثر ایک ایسے عمل کے طور پر دیکھا جاتا ہے جس سے بچنا چاہیے۔ مقبول ثقافت نوجوانی کو سراہتی اور رجحانات و خوب صورتی متعین کرنے کے لیے اسے استعمال کرتی ہے، جبکہ عمر رسیدگی سے بچاؤ کی صنعت بھی فروغ پا رہی ہے اور کریموں، گولیوں اور کاسمیٹک سرجری پر اربوں ڈالر خرچ ہو رہے ہیں۔ تاہم بڑھاپا ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے۔ لوگ پہلے سے زیادہ طویل عرصے تک زندہ رہ رہے ہیں، جبکہ دنیا کے نصف سے زیادہ ممالک میں شرحِ زرخیزی آبادی برقرار رکھنے کی سطح سے نیچے آ گئی ہے، جس سے آبادی کا عمر رسیدہ ہونا معیشتوں اور صحت کے نظام کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔
اپنی نئی کتاب Seven Decades: How We Evolved to Live Longer (Princeton University Press، 2025) میں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سانتا باربرا کے بشریات کے پروفیسر مائیکل گُروین کا استدلال ہے کہ “انسان ستر سال کی عمر تک زندہ رہنے کے لیے ارتقا پذیر ہوئے۔” ان کے مطابق گزشتہ صدی میں متوقع عمر میں اضافہ صرف انسانی عمر کی بالائی حد بڑھنے کا نتیجہ نہیں، بلکہ اس نے زیادہ لوگوں کو بڑھاپے تک پہنچنے کے قابل بنایا ہے۔
گُروین کے مطابق شکاری و خوراک جمع کرنے والے معاشروں میں ہزاروں سال پہلے بھی انسانوں میں زیادہ طویل زندگی کی صلاحیت موجود تھی۔ بیشتر انواع کے برعکس، جو تولیدی عمر کے بعد تیزی سے کمزور ہو جاتی ہیں، انسان سنِ یائسگی کے بعد کئی دہائیوں تک زندہ رہ سکتے ہیں۔ تولید کے بعد کی یہ زندگی ارتقا کی ایک نادر کامیابی ہے۔
ارتقائی نقطۂ نظر سے بڑھاپا
کتاب میں گُروین ارتقائی زاویے سے بڑھاپے کا جائزہ لیتے اور انسانی تاریخ و عالمی ثقافتوں کا مطالعہ کرتے ہیں۔ بولیویا کے ایمیزون میں ٹسیمانے نامی خوراک جمع کرنے اور باغبانی کرنے والی آبادی کے درمیان اپنی طویل مدتی میدانی تحقیق کی بنیاد پر وہ دکھاتے ہیں کہ غیر صنعتی معاشروں کے طرزِ زندگی اور جسمانی ساخت ابتدائی انسانوں کی ماحولیاتی حقیقتوں کی عکاسی کرتے ہیں۔
وہ وضاحت کرتے ہیں کہ اگرچہ ان معاشروں میں اوسط عمر کم دکھائی دے سکتی ہے، لیکن شیر خوار اور بچوں کی بلند شرحِ اموات مجموعی اعداد و شمار کو کم کر دیتی ہے۔ جو لوگ بچپن سے گزر جاتے ہیں وہ اکثر ستر یا حتیٰ کہ اسی برس کی عمر تک زندہ رہتے ہیں۔ لہٰذا طویل عمری صرف جدید دور کی کامیابی نہیں بلکہ انسانی ارتقا کے بنیادی نمونے کا حصہ ہے۔
طویل عمری کی کلید: نسلوں کے درمیان تعاون
گُروین زور دیتے ہیں کہ “تولیدی عمر کے بعد ہماری بقا کوئی اتفاق نہیں۔” نسلوں کے درمیان تعاون اور وسائل کی تقسیم قدرتی انتخاب کی حدود پر قابو پانے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے تھے۔ شکاری معاشروں میں عمر رسیدہ افراد کی جسمانی قوت کم ہو سکتی ہے، لیکن وہ پوتے پوتیوں کی دیکھ بھال، تنازعات حل کرنے، علم منتقل کرنے اور اوزار بنانے کے ذریعے گروہ کی بقا اور تولید میں منفرد کردار ادا کرتے ہیں۔ اس کثیر الجہتی سماجی تعاون نے پوری آبادی کی حیاتیاتی بقا کی صلاحیت بڑھائی اور انسانی عمر میں اضافہ کیا۔
وہ کہتے ہیں: “ارتقا کے ایک مرحلے پر بچوں اور پوتے پوتیوں کو زندہ رہنے میں مدد دینا اپنے جینز کے تسلسل کے لیے مسلسل مزید اولاد پیدا کرنے سے زیادہ فائدہ مند بن گیا۔”
بوڑھا ہونے کا کیا مطلب ہے؟
بہت سے روایتی معاشروں میں بوڑھا ہونا کسی عدد سے نہیں بلکہ اس بات سے متعین ہوتا ہے کہ آیا فرد اب بھی برادری میں اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔ گُروین مزاحیہ انداز میں پوچھتے ہیں: “اگر کسی کو اپنی عمر کا کبھی علم ہی نہ ہو تو وہ خود کو کتنی عمر کا محسوس کرے گا؟” جن گروہوں کی زبانوں میں بڑے اعداد کے لیے الفاظ نہیں ہوتے، وہاں لوگوں کو عموماً اس وقت بوڑھا سمجھا جاتا ہے جب وہ کام کرنے کے قابل نہ رہیں۔ برادری کے معاملات میں مسلسل شرکت اور علم و ہنر کی منتقلی عمر رسیدہ افراد کو زندگی کے آخری حصے تک فعال رکھتی ہے۔
یہ صنعتی معاشروں کے بالکل برعکس ہے، جہاں ریٹائرمنٹ اکثر مرکزی سماجی زندگی سے کنارہ کشی کی علامت ہوتی ہے۔ گُروین کے خیال میں یہ تصور عمر رسیدہ افراد کی صلاحیت کو کم سمجھتا ہے۔ وہ معاشرے سے مطالبہ کرتے ہیں کہ بڑھاپے پر نظرثانی کی جائے اور تعلیم، ثقافت اور برادری کی تعمیر میں عمر رسیدہ افراد کے اہم کردار کو تسلیم کیا جائے۔
گُروین اختتاماً کہتے ہیں: “عالمی سطح پر بڑھتی عمر کی آبادی تشویش ناک محسوس ہو سکتی ہے، لیکن درمیانی عمر اور عمر رسیدہ افراد کی وسیع خدمات ہی وہ عوامل ہیں جنہوں نے انسانی تہذیب کو قائم رہنے دیا ہے۔ بوڑھا ہونا بڑی حد تک ذہنی کیفیت ہے۔ اگر ہم سیکھتے، دریافت کرتے اور تعلق قائم کرتے رہیں تو ہم حقیقی معنوں میں کبھی بوڑھے نہیں ہوتے۔”
خبر | بڑھاپے کی نئی تعریف: ارتقا کی ایک بڑی کامیابی
خبر | بڑھاپے کی نئی تعریف: ارتقا کی ایک بڑی کامیابی
جدید معاشرے میں بڑھاپے کو اکثر ایک ایسے عمل کے طور پر دیکھا جاتا ہے جس سے بچنا چاہیے۔ مقبول ثقافت نوجوانی کو سراہتی اور رجحانات و خوب صورتی متعین کرنے کے لیے اسے استعمال کرتی ہے، جبکہ عمر رسیدگی سے بچاؤ کی صنعت بھی فروغ پا رہی ہے اور کریموں، گولیوں اور کاسمیٹک سرجری پر اربوں ڈالر خرچ ہو رہے ہیں۔ تاہم بڑھاپا ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے۔ لوگ پہلے سے زیادہ طویل عرصے تک زندہ رہ رہے ہیں، جبکہ دنیا کے نصف سے زیادہ ممالک میں شرحِ زرخیزی آبادی برقرار رکھنے کی سطح سے نیچے آ گئی ہے، جس سے آبادی کا عمر رسیدہ ہونا معیشتوں اور صحت کے نظام کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔
اپنی نئی کتاب Seven Decades: How We Evolved to Live Longer (Princeton University Press، 2025) میں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سانتا باربرا کے بشریات کے پروفیسر مائیکل گُروین کا استدلال ہے کہ “انسان ستر سال کی عمر تک زندہ رہنے کے لیے ارتقا پذیر ہوئے۔” ان کے مطابق گزشتہ صدی میں متوقع عمر میں اضافہ صرف انسانی عمر کی بالائی حد بڑھنے کا نتیجہ نہیں، بلکہ اس نے زیادہ لوگوں کو بڑھاپے تک پہنچنے کے قابل بنایا ہے۔
گُروین کے مطابق شکاری و خوراک جمع کرنے والے معاشروں میں ہزاروں سال پہلے بھی انسانوں میں زیادہ طویل زندگی کی صلاحیت موجود تھی۔ بیشتر انواع کے برعکس، جو تولیدی عمر کے بعد تیزی سے کمزور ہو جاتی ہیں، انسان سنِ یائسگی کے بعد کئی دہائیوں تک زندہ رہ سکتے ہیں۔ تولید کے بعد کی یہ زندگی ارتقا کی ایک نادر کامیابی ہے۔
ارتقائی نقطۂ نظر سے بڑھاپا
کتاب میں گُروین ارتقائی زاویے سے بڑھاپے کا جائزہ لیتے اور انسانی تاریخ و عالمی ثقافتوں کا مطالعہ کرتے ہیں۔ بولیویا کے ایمیزون میں ٹسیمانے نامی خوراک جمع کرنے اور باغبانی کرنے والی آبادی کے درمیان اپنی طویل مدتی میدانی تحقیق کی بنیاد پر وہ دکھاتے ہیں کہ غیر صنعتی معاشروں کے طرزِ زندگی اور جسمانی ساخت ابتدائی انسانوں کی ماحولیاتی حقیقتوں کی عکاسی کرتے ہیں۔
وہ وضاحت کرتے ہیں کہ اگرچہ ان معاشروں میں اوسط عمر کم دکھائی دے سکتی ہے، لیکن شیر خوار اور بچوں کی بلند شرحِ اموات مجموعی اعداد و شمار کو کم کر دیتی ہے۔ جو لوگ بچپن سے گزر جاتے ہیں وہ اکثر ستر یا حتیٰ کہ اسی برس کی عمر تک زندہ رہتے ہیں۔ لہٰذا طویل عمری صرف جدید دور کی کامیابی نہیں بلکہ انسانی ارتقا کے بنیادی نمونے کا حصہ ہے۔
طویل عمری کی کلید: نسلوں کے درمیان تعاون
گُروین زور دیتے ہیں کہ “تولیدی عمر کے بعد ہماری بقا کوئی اتفاق نہیں۔” نسلوں کے درمیان تعاون اور وسائل کی تقسیم قدرتی انتخاب کی حدود پر قابو پانے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے تھے۔ شکاری معاشروں میں عمر رسیدہ افراد کی جسمانی قوت کم ہو سکتی ہے، لیکن وہ پوتے پوتیوں کی دیکھ بھال، تنازعات حل کرنے، علم منتقل کرنے اور اوزار بنانے کے ذریعے گروہ کی بقا اور تولید میں منفرد کردار ادا کرتے ہیں۔ اس کثیر الجہتی سماجی تعاون نے پوری آبادی کی حیاتیاتی بقا کی صلاحیت بڑھائی اور انسانی عمر میں اضافہ کیا۔
وہ کہتے ہیں: “ارتقا کے ایک مرحلے پر بچوں اور پوتے پوتیوں کو زندہ رہنے میں مدد دینا اپنے جینز کے تسلسل کے لیے مسلسل مزید اولاد پیدا کرنے سے زیادہ فائدہ مند بن گیا۔”
بوڑھا ہونے کا کیا مطلب ہے؟
بہت سے روایتی معاشروں میں بوڑھا ہونا کسی عدد سے نہیں بلکہ اس بات سے متعین ہوتا ہے کہ آیا فرد اب بھی برادری میں اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔ گُروین مزاحیہ انداز میں پوچھتے ہیں: “اگر کسی کو اپنی عمر کا کبھی علم ہی نہ ہو تو وہ خود کو کتنی عمر کا محسوس کرے گا؟” جن گروہوں کی زبانوں میں بڑے اعداد کے لیے الفاظ نہیں ہوتے، وہاں لوگوں کو عموماً اس وقت بوڑھا سمجھا جاتا ہے جب وہ کام کرنے کے قابل نہ رہیں۔ برادری کے معاملات میں مسلسل شرکت اور علم و ہنر کی منتقلی عمر رسیدہ افراد کو زندگی کے آخری حصے تک فعال رکھتی ہے۔
یہ صنعتی معاشروں کے بالکل برعکس ہے، جہاں ریٹائرمنٹ اکثر مرکزی سماجی زندگی سے کنارہ کشی کی علامت ہوتی ہے۔ گُروین کے خیال میں یہ تصور عمر رسیدہ افراد کی صلاحیت کو کم سمجھتا ہے۔ وہ معاشرے سے مطالبہ کرتے ہیں کہ بڑھاپے پر نظرثانی کی جائے اور تعلیم، ثقافت اور برادری کی تعمیر میں عمر رسیدہ افراد کے اہم کردار کو تسلیم کیا جائے۔
گُروین اختتاماً کہتے ہیں: “عالمی سطح پر بڑھتی عمر کی آبادی تشویش ناک محسوس ہو سکتی ہے، لیکن درمیانی عمر اور عمر رسیدہ افراد کی وسیع خدمات ہی وہ عوامل ہیں جنہوں نے انسانی تہذیب کو قائم رہنے دیا ہے۔ بوڑھا ہونا بڑی حد تک ذہنی کیفیت ہے۔ اگر ہم سیکھتے، دریافت کرتے اور تعلق قائم کرتے رہیں تو ہم حقیقی معنوں میں کبھی بوڑھے نہیں ہوتے۔”
کہانی کا ماخذ:
آن لائن سے جمع کردہ