خبریں | وزن میں کمی یا زرخیزی پر اثرات؟ خواتین کے ہارمونز پر وقفے وقفے سے روزہ رکھنے کے ملے جلے اثرات
مؤثر وزن کم کرنے کے لیے وقفے وقفے سے روزہ رکھنا (IF) بڑے پیمانے پر تجویز کیا جاتا ہے، لیکن خواتین کے تولیدی ہارمونز پر اس کے اثرات اب بھی متنازع ہیں۔ یونیورسٹی آف الینوائے شکاگو (UIC) کی ایک تحقیقی ٹیم نے موٹاپے میں وقفے وقفے سے روزہ رکھنے کے خواتین کے ہارمونز پر اثرات کا جائزہ لینے والی ایک حالیہ تحقیق Obesity میں شائع کی، جس سے نئے سائنسی شواہد سامنے آئے۔
UIC کی غذائیت کی پروفیسر کرسٹا وراڈی کی سربراہی میں ٹیم نے موٹاپے کی شکار قبل از سنِ یائسگی اور بعد از سنِ یائسگی خواتین کے ایک گروپ کا جائزہ لیا، جنہوں نے آٹھ ہفتوں تک وارئیر ڈائٹ کے وقفے وقفے سے روزہ رکھنے کے طریقے پر عمل کیا۔ وہ ہر روز صرف چار یا چھ گھنٹے کے دورانیے میں کھانا کھاتی تھیں اور باقی وقت مکمل روزہ رکھتی تھیں، جس دوران صرف پانی پیتی تھیں۔
زیادہ تر تولیدی ہارمونز کی سطح میں نمایاں تبدیلی نہیں آئی، لیکن DHEA (ڈی ہائیڈرو ایپی اینڈروسٹیرون) کی سطح تقریباً 14% کم ہو گئی۔
تحقیق کا نتیجہ: DHEA کی سطح کم ہوئی، لیکن معمول کی حد میں رہی
DHEA ایک سٹیرائڈ ہارمون ہے جسے رحم کے افعال اور بیضوں کے معیار کی معاونت کے لیے زرخیزی کے علاج میں بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔ تحقیق میں قبل از سنِ یائسگی اور بعد از سنِ یائسگی دونوں خواتین میں DHEA کی سطح میں تقریباً 14% کمی پائی گئی۔
اگرچہ یہ تبدیلی قابلِ ذکر تھی، محققین نے کہا کہ سطح معمول کی حد میں رہی۔ اس کا مطلب ہے:
قبل از سنِ یائسگی خواتین میں DHEA کی کم سطح کا اثر معمولی ہو سکتا ہے، اور خود وزن کم ہونے سے زرخیزی بہتر ہو سکتی ہے؛ اس لیے فوائد اور خطرات کو ساتھ ساتھ دیکھنا ضروری ہے۔
بعد از سنِ یائسگی خواتین میں DHEA میں مزید کمی توجہ کی متقاضی ہو سکتی ہے، کیونکہ سنِ یائسگی خود ایسٹروجن کی سطح کم کر دیتی ہے۔ تاہم تحقیق میں کم DHEA کی وجہ سے جنسی فعالیت میں کمی یا جلد میں تبدیلی جیسے مضر اثرات نہیں پائے گئے۔
تحقیق میں یہ بھی پایا گیا:
✅ جنسی ہارمون بائنڈنگ گلوبیولن (SHBG) — تولیدی ہارمونز کو منتقل کرنے والے اس پروٹین کی سطح میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
✅ ٹیسٹوسٹیرون اور اینڈروسٹینیڈیون — دونوں ہارمونز کی سطح مستحکم رہی۔
✅ پروجیسٹرون، ایسٹراڈیول اور ایسٹرون — ان ہارمونز کی پیمائش صرف بعد از سنِ یائسگی خواتین میں کی گئی اور آٹھ ہفتوں کی تحقیق کے بعد ان میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
وقفے وقفے سے روزہ رکھنے کے صحت کے فوائد: وزن میں کمی اور انسولین کی مزاحمت میں کمی
تحقیق سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ وقفے وقفے سے روزہ رکھنے کے ہارمونی اثرات محدود رہے، جبکہ اس سے صحت کے فوائد حاصل ہوئے۔
وزن میں کمی — تحقیق میں شامل خواتین نے آٹھ ہفتوں کے دوران اپنے جسمانی وزن کا اوسطاً 3% سے 4% حصہ کم کیا، جبکہ پابندی کے بغیر کھانے والے کنٹرول گروپ کے وزن میں تقریباً کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
انسولین کی حساسیت میں بہتری — شرکا میں انسولین کی مزاحمت میں نمایاں کمی دیکھی گئی، جو ذیابیطس کے کم خطرے کی نشاندہی کر سکتی ہے۔
اینٹی آکسیڈنٹ صلاحیت میں بہتری — وقفے وقفے سے روزہ رکھنے سے آکسیڈیٹو تناؤ کے حیاتیاتی اشاریے کم ہوئے، جو صحت مند عمر رسیدگی اور مجموعی صحت میں معاون ہو سکتے ہیں۔
DHEA میں معتدل کمی صحت کے لیے ایک اضافی فائدہ بھی فراہم کر سکتی ہے۔ DHEA کی بلند سطح چھاتی کے سرطان کے خطرے سے وابستہ ہے، اور محققین نے تجویز کیا کہ معتدل کمی خواتین میں یہ خطرہ کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
مستقبل کا جائزہ: کیا وقفے وقفے سے روزہ رکھنا خواتین کے لیے موزوں ہے؟
اگرچہ یہ تحقیق اہم اعداد و شمار فراہم کرتی ہے، کئی سوالات اب بھی باقی ہیں:
کیا DHEA کی کم سطح طویل مدتی زرخیزی کو متاثر کرتی ہے؟ — تحقیق صرف آٹھ ہفتوں تک جاری رہی، اس لیے یہ خواتین کی تولیدی صحت پر DHEA میں کمی کے طویل مدتی اثرات کا تعین نہیں کر سکی۔
کیا وقفے وقفے سے روزہ رکھنا تمام خواتین کے لیے موزوں ہے؟ — تحقیق میں تقریباً 40 سال عمر کی سنِ یائسگی سے پہلے کی عبوری کیفیت والی خواتین کو شامل نہیں کیا گیا، اس لیے اس گروپ میں ہارمونی تبدیلیاں واضح نہیں ہیں۔
کیا روزہ رکھنے کے دورانیے میں تبدیلی ہونی چاہیے؟ — تحقیق میں کھانے کے لیے چار اور چھ گھنٹے کے دورانیے استعمال کیے گئے۔ مستقبل کی تحقیق میں آٹھ گھنٹے جیسے طویل دورانیوں کا جائزہ لینا ضروری ہو سکتا ہے۔
پروفیسر کرسٹا وراڈی نے کہا:
“ہم نے ہزاروں قبل از سنِ یائسگی اور بعد از سنِ یائسگی خواتین کو وقفے وقفے سے روزہ رکھنے کے مختلف طریقوں، مثلاً ایک دن چھوڑ کر روزہ رکھنے اور وقت محدود کر کے کھانے، کے ذریعے وزن کم کرتے دیکھا ہے۔ بنیادی اصول سادہ ہے: کھانے کا دورانیہ مختصر کریں اور کیلوریز کی مقدار کم کریں۔
اس وقت وقفے وقفے سے روزہ رکھنے کے بارے میں زیادہ تر منفی معلومات جانوروں پر کی گئی تحقیقات سے آتی ہیں۔ اس کے طویل مدتی اثرات سمجھنے کے لیے ہمیں انسانوں پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔”
نتیجہ: وقفے وقفے سے روزہ رکھنا قابلِ غور ہو سکتا ہے، لیکن انفرادی جائزہ ضروری ہے
یہ تحقیق اہم شواہد فراہم کرتی ہے کہ وقفے وقفے سے روزہ رکھنے کے خواتین کے تولیدی ہارمونز پر اثرات محدود ہوتے ہیں، جبکہ اس سے وزن میں کمی اور انسولین کی حساسیت میں بہتری جیسے فوائد حاصل ہو سکتے ہیں اور چھاتی کے سرطان کے خطرے میں ممکنہ کمی آ سکتی ہے۔
✅ وزن کم کرنے کی خواہش رکھنے والی خواتین کے لیے وقفے وقفے سے روزہ رکھنا مؤثر ہو سکتا ہے اور بظاہر تولیدی ہارمونز پر اس کا اثر کم ہوتا ہے۔
⚠ سنِ یائسگی کی خواتین میں DHEA کی کم سطح ایسٹروجن میں کمی کو مزید بڑھا سکتی ہے، اس لیے طبی رہنمائی کی سفارش کی جاتی ہے۔
حمل کی منصوبہ بندی کرنے والی خواتین کو طبی ماہر کے ساتھ فوائد اور خطرات کا جائزہ لینا چاہیے اور کھانے کا سب سے موزوں طریقہ منتخب کرنا چاہیے۔
وقفے وقفے سے روزہ رکھنے کے خواتین کی صحت پر مکمل اثرات کا تعین کرنے کے لیے انسانوں پر طویل مدتی اور بڑے پیمانے کی تحقیقات اب بھی ترجیح ہیں۔
خبر | وزن میں کمی یا زرخیزی پر اثرات؟ وقفے وقفے سے روزہ رکھنے کے خواتین کے ہارمونز پر ملے جلے اثرات
خبریں | وزن میں کمی یا زرخیزی پر اثرات؟ خواتین کے ہارمونز پر وقفے وقفے سے روزہ رکھنے کے ملے جلے اثرات
مؤثر وزن کم کرنے کے لیے وقفے وقفے سے روزہ رکھنا (IF) بڑے پیمانے پر تجویز کیا جاتا ہے، لیکن خواتین کے تولیدی ہارمونز پر اس کے اثرات اب بھی متنازع ہیں۔ یونیورسٹی آف الینوائے شکاگو (UIC) کی ایک تحقیقی ٹیم نے موٹاپے میں وقفے وقفے سے روزہ رکھنے کے خواتین کے ہارمونز پر اثرات کا جائزہ لینے والی ایک حالیہ تحقیق Obesity میں شائع کی، جس سے نئے سائنسی شواہد سامنے آئے۔
UIC کی غذائیت کی پروفیسر کرسٹا وراڈی کی سربراہی میں ٹیم نے موٹاپے کی شکار قبل از سنِ یائسگی اور بعد از سنِ یائسگی خواتین کے ایک گروپ کا جائزہ لیا، جنہوں نے آٹھ ہفتوں تک وارئیر ڈائٹ کے وقفے وقفے سے روزہ رکھنے کے طریقے پر عمل کیا۔ وہ ہر روز صرف چار یا چھ گھنٹے کے دورانیے میں کھانا کھاتی تھیں اور باقی وقت مکمل روزہ رکھتی تھیں، جس دوران صرف پانی پیتی تھیں۔
زیادہ تر تولیدی ہارمونز کی سطح میں نمایاں تبدیلی نہیں آئی، لیکن DHEA (ڈی ہائیڈرو ایپی اینڈروسٹیرون) کی سطح تقریباً 14% کم ہو گئی۔
تحقیق کا نتیجہ: DHEA کی سطح کم ہوئی، لیکن معمول کی حد میں رہی
DHEA ایک سٹیرائڈ ہارمون ہے جسے رحم کے افعال اور بیضوں کے معیار کی معاونت کے لیے زرخیزی کے علاج میں بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔ تحقیق میں قبل از سنِ یائسگی اور بعد از سنِ یائسگی دونوں خواتین میں DHEA کی سطح میں تقریباً 14% کمی پائی گئی۔
اگرچہ یہ تبدیلی قابلِ ذکر تھی، محققین نے کہا کہ سطح معمول کی حد میں رہی۔ اس کا مطلب ہے:
قبل از سنِ یائسگی خواتین میں DHEA کی کم سطح کا اثر معمولی ہو سکتا ہے، اور خود وزن کم ہونے سے زرخیزی بہتر ہو سکتی ہے؛ اس لیے فوائد اور خطرات کو ساتھ ساتھ دیکھنا ضروری ہے۔
بعد از سنِ یائسگی خواتین میں DHEA میں مزید کمی توجہ کی متقاضی ہو سکتی ہے، کیونکہ سنِ یائسگی خود ایسٹروجن کی سطح کم کر دیتی ہے۔ تاہم تحقیق میں کم DHEA کی وجہ سے جنسی فعالیت میں کمی یا جلد میں تبدیلی جیسے مضر اثرات نہیں پائے گئے۔
تحقیق میں یہ بھی پایا گیا:
✅ جنسی ہارمون بائنڈنگ گلوبیولن (SHBG) — تولیدی ہارمونز کو منتقل کرنے والے اس پروٹین کی سطح میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
✅ ٹیسٹوسٹیرون اور اینڈروسٹینیڈیون — دونوں ہارمونز کی سطح مستحکم رہی۔
✅ پروجیسٹرون، ایسٹراڈیول اور ایسٹرون — ان ہارمونز کی پیمائش صرف بعد از سنِ یائسگی خواتین میں کی گئی اور آٹھ ہفتوں کی تحقیق کے بعد ان میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
وقفے وقفے سے روزہ رکھنے کے صحت کے فوائد: وزن میں کمی اور انسولین کی مزاحمت میں کمی
تحقیق سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ وقفے وقفے سے روزہ رکھنے کے ہارمونی اثرات محدود رہے، جبکہ اس سے صحت کے فوائد حاصل ہوئے۔
وزن میں کمی — تحقیق میں شامل خواتین نے آٹھ ہفتوں کے دوران اپنے جسمانی وزن کا اوسطاً 3% سے 4% حصہ کم کیا، جبکہ پابندی کے بغیر کھانے والے کنٹرول گروپ کے وزن میں تقریباً کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
انسولین کی حساسیت میں بہتری — شرکا میں انسولین کی مزاحمت میں نمایاں کمی دیکھی گئی، جو ذیابیطس کے کم خطرے کی نشاندہی کر سکتی ہے۔
اینٹی آکسیڈنٹ صلاحیت میں بہتری — وقفے وقفے سے روزہ رکھنے سے آکسیڈیٹو تناؤ کے حیاتیاتی اشاریے کم ہوئے، جو صحت مند عمر رسیدگی اور مجموعی صحت میں معاون ہو سکتے ہیں۔
DHEA میں معتدل کمی صحت کے لیے ایک اضافی فائدہ بھی فراہم کر سکتی ہے۔ DHEA کی بلند سطح چھاتی کے سرطان کے خطرے سے وابستہ ہے، اور محققین نے تجویز کیا کہ معتدل کمی خواتین میں یہ خطرہ کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
مستقبل کا جائزہ: کیا وقفے وقفے سے روزہ رکھنا خواتین کے لیے موزوں ہے؟
اگرچہ یہ تحقیق اہم اعداد و شمار فراہم کرتی ہے، کئی سوالات اب بھی باقی ہیں:
کیا DHEA کی کم سطح طویل مدتی زرخیزی کو متاثر کرتی ہے؟ — تحقیق صرف آٹھ ہفتوں تک جاری رہی، اس لیے یہ خواتین کی تولیدی صحت پر DHEA میں کمی کے طویل مدتی اثرات کا تعین نہیں کر سکی۔
کیا وقفے وقفے سے روزہ رکھنا تمام خواتین کے لیے موزوں ہے؟ — تحقیق میں تقریباً 40 سال عمر کی سنِ یائسگی سے پہلے کی عبوری کیفیت والی خواتین کو شامل نہیں کیا گیا، اس لیے اس گروپ میں ہارمونی تبدیلیاں واضح نہیں ہیں۔
کیا روزہ رکھنے کے دورانیے میں تبدیلی ہونی چاہیے؟ — تحقیق میں کھانے کے لیے چار اور چھ گھنٹے کے دورانیے استعمال کیے گئے۔ مستقبل کی تحقیق میں آٹھ گھنٹے جیسے طویل دورانیوں کا جائزہ لینا ضروری ہو سکتا ہے۔
پروفیسر کرسٹا وراڈی نے کہا:
“ہم نے ہزاروں قبل از سنِ یائسگی اور بعد از سنِ یائسگی خواتین کو وقفے وقفے سے روزہ رکھنے کے مختلف طریقوں، مثلاً ایک دن چھوڑ کر روزہ رکھنے اور وقت محدود کر کے کھانے، کے ذریعے وزن کم کرتے دیکھا ہے۔ بنیادی اصول سادہ ہے: کھانے کا دورانیہ مختصر کریں اور کیلوریز کی مقدار کم کریں۔
اس وقت وقفے وقفے سے روزہ رکھنے کے بارے میں زیادہ تر منفی معلومات جانوروں پر کی گئی تحقیقات سے آتی ہیں۔ اس کے طویل مدتی اثرات سمجھنے کے لیے ہمیں انسانوں پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔”
نتیجہ: وقفے وقفے سے روزہ رکھنا قابلِ غور ہو سکتا ہے، لیکن انفرادی جائزہ ضروری ہے
یہ تحقیق اہم شواہد فراہم کرتی ہے کہ وقفے وقفے سے روزہ رکھنے کے خواتین کے تولیدی ہارمونز پر اثرات محدود ہوتے ہیں، جبکہ اس سے وزن میں کمی اور انسولین کی حساسیت میں بہتری جیسے فوائد حاصل ہو سکتے ہیں اور چھاتی کے سرطان کے خطرے میں ممکنہ کمی آ سکتی ہے۔
✅ وزن کم کرنے کی خواہش رکھنے والی خواتین کے لیے وقفے وقفے سے روزہ رکھنا مؤثر ہو سکتا ہے اور بظاہر تولیدی ہارمونز پر اس کا اثر کم ہوتا ہے۔
⚠ سنِ یائسگی کی خواتین میں DHEA کی کم سطح ایسٹروجن میں کمی کو مزید بڑھا سکتی ہے، اس لیے طبی رہنمائی کی سفارش کی جاتی ہے۔
حمل کی منصوبہ بندی کرنے والی خواتین کو طبی ماہر کے ساتھ فوائد اور خطرات کا جائزہ لینا چاہیے اور کھانے کا سب سے موزوں طریقہ منتخب کرنا چاہیے۔
وقفے وقفے سے روزہ رکھنے کے خواتین کی صحت پر مکمل اثرات کا تعین کرنے کے لیے انسانوں پر طویل مدتی اور بڑے پیمانے کی تحقیقات اب بھی ترجیح ہیں۔
کہانی کا ماخذ:
آن لائن سے جمع کردہ